دو شہر دو المیے

223

سانحہ مری کی ذمہ داری بعض میڈیا دانشور ان سیاحوں پر ڈال رہے ہیں جو ہر حال میں اس برفباری کے دوران مری جانے پر مصر تھے ایک ٹاک شو میں یہ بھی کہا گیا کہ اس طوفانی رات کے تین بجے بارہ کہو پر پولیس کے سپاہی لوگوں کی منتیں کر رہے تھے کہ وہ آگے نہ جائیں لیکن لوگ نہیں مان رہے تھے اسلئے زیادہ تر قصور لوگوں ہی کا ہے اس نقطۂ نظر سے اختلاف کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ یہ سانحہ حکومت کی غفلت کیوجہ سے پیش آیا ہے محکمہ موسمیات نے پانچ جنوری کو اطلاع دے دی تھی کہ چھ اور نو جنوری کے درمیان گلیات میں شدید برفباری کی وجہ سے سڑکیں بند ہو جائیں گی اسکے بعد متعلقہ اداروں کو ایک میڈیا مہم کی صورت میں لوگوں کو آگاہ کر دینا چاہئے تھا لیکن اس موسمی پیشگوئی کی تشہیر نہ کی گئی اسلئے لوگ بے خبر رہے اس بحث کا فیصلہ وہی کر سکتے ہیں جنکا ان حقائق سے براہ راست تعلق ہے جو اس طرح کے سانحات سے ہر روز نبردآزما ہوتے ہیں میں امریکہ میں رہتے ہوے وہی کچھ لکھوں گا جو ہر روز میرے مشاہدے میں آتا ہے اس جدید دنیا کے نرالے طور طریقوں کا اطلاق شائد میرے آبائی ملک کے حالات پر نہ ہوتا ہو وہ ایک بالکل مختلف دنیا ہے ان دنیائوں میں اس بعدالمشرقین کے باوجود ان میں رو نما ہونیوالے المیوں کے تقابلی جائزے کی آخر کیا ضرورت ہے مجھے یہ ضرورت اسلئے محسوس ہو رہی ہے کہ اتوار کے دن نیو یارک کے رہائشی علاقے برونکس میں آگ لگنے کیوجہ سے انیس افراد ہلاک ہوے اسکے فوراًبعد یہاں متعلقہ ادارے جس طرح متحرک ہوے اور جس طرح مئیر‘ گورنر اور دیگر افسران بالا جائے حادثہ پر پہنچے اسے دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ المیوں اور سانحات کے دوران لوگوں کی مدد کرنے کیلئے اربوں روپوں اور بڑی قربانیوںکی ضرورت نہیں ہوتی صرف درد دل اور احساس ذمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے برونکس کی اس آگ کے شعلوں کے درمیان فائر فائٹروں کی ہمت اور جاں نثاری کے مناظر دیکھنے سے چند گھنٹے قبل میں اپنے سیل فون پر سانحہ مری کے بارے میں ٹاک شوز اور ویڈیو کلپس دیکھ رہا تھا اسوقت تک اخبارات میںخبروں کے علاوہ تجزیے اور کالم بھی آ چکے تھے وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے بیانات اور ان پر ہونیوالی تنقید بھی میڈیا پر چھائی ہوئی تھی حکومت نے پہلے Blame the victim والی پالیسی اپنائی پھرمیڈیا پر ہونیوالی چیخ و پکار دیکھ کر دفاعی پوزیشن اختیار کر لی دیکھتے ہی دیکھتے حکومت‘ اپوزیشن اور میڈیا نے اپنے اپنے مئوقف کے حق میں دلائل کے انبار لگا دئے ان میں سے بعض مباحثے فکر انگیز بھی تھے مگر اس بھرپور مکالمے میں جس کا عنوان یہ ہو سکتا ہے کہ سانحہ مری کا اصل ذمہ دار کون ہے ایک ایسے لفظ کی کمی تھی جسے میں سننا چاہتا تھا یہ ایک ایسا لفظ یا اصطلاح ہے جسکے گرد جدید ریاست کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ہے یہ اصطلاح اگر ہمارے اکابرین حکومت اور میڈیا ماہرین اپنی گفتگو میں شامل کر لیتے تو اس سانحے کے ذمہ داروں کے تعین میں آسانی ہو جاتی پنجاب حکومت نے اگر چہ کہ ایک پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے جو ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کر دیگی اس رپورٹ میں بھی اگر اس اصطلاح کا ذکر نہ ہوا تو میری تشنگی باقی رہ جائیگی اس سے کوئی فرق تو نہیں پڑتا مگر یہ کہنا ضروری ہے کہ ہر قومی سانحے کو اگر Public Safety کی عینک سے نہ دیکھا جائے تو صحیح نتائج اخذ نہیں کئے جا سکتے ہر جدید ریاست میں پبلک سیفٹی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے عوام کے بھاری بھرکم ٹیکس دینے کا اہم ترین مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکومت اسے ہر جگہ تحفظ مہیا کرے آج کی دنیا میں ریاستی اخراجات عوامی تحفظ کے مقابلے میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیںمغربی ممالک میں حکومتوں نے گھروں کی چار دیواری کے اندر بھی لوگوں کو تحفظ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے Domestic Violence یا گھریلو تشدد کے قوانین یہاں بہت پرانے ہو چکے ہیں کسی بھی گھر سے ایمرجنسی نمبر پر ہونیوالی فون کال پر پولیس کا پہنچ جانا ثابت کرتا ہے کہ ریاست نے گھروں کے اندر اور باہر ہر جگہ پبلک سیفٹی کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے سڑکوں اور بازاروں میں تو حکومت اس فرض کی بجا آوری سے غفلت برت ہی نہیں سکتی اسکے باوجود بعض جنونی عوامی اجتماعات میں گولیاں چلا دیتے ہیںمگر ایسے حادثات زیادہ تر ان امریکی ریاستوں میں ہوتے جہاں Gun Laws نرم ہیں اور لوگوں کو بر سر عام اسلحہ رکھنے کی اجازت ہے یہ قوانین نئی قانون سازی ہی کے ذریعے بدلے جا سکتے ہیںاور ان پر ایک لا متناہی قومی مکالمہ جاری ہے مگر ان ڈھیلے قوانین کی وجہ سے پبلک سیفٹی پر کہیںبھی سمجھوتہ نہیں کیا جاتایہ حکومت کی ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے کسی بھی وجہ سے غفلت برتنے پر ایسا عوامی رد عمل سامنے آتا ہے کہ ذمہ دار حکام اگر استعفے نہ دیں تو انہیں عدالتوں میں اپنی کوتاہیوں اور نا اہلیوں کا جواب دینا پڑ جاتا ہے
ّآج کی ریاست لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کس حد تک جاتی ہے اسکا اندازہ نو جنوری کو برونکس میں لگنے والی آگ کے بعدکئے جانیوالے حکومتی اقدامات سے لگایا جا سکتا ہے یہ آگ اتوار کے دن ایک بجے Fordham Heights کی ایک انیس منزلہ اپارٹمنٹ بلڈنگ کے تیسرے فلور میں ایک سپیس ہیٹر میں خرابی کیوجہ سے لگی اور اسنے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیااس آگ کے لگتے ہی عمارت میں لگے ہوے فائر الارم بجنے لگے اور اسکے چند منٹوںبعد درجنوں کی تعداد میںفائر فائٹرز‘ فائر ٹرک‘ ایمبولینسیں‘ سٹیل کی سیڑھیاں اور آکسیجن سلنڈر جائے حادثہ پرپہنچ گئے اس بلڈنگ میں زیادہ تر افریقی مسلمان رہائش پذیر ہیں فائر فائٹروں نے عمارت کے ہر فلور پر جا کر پہلے زخمیوں کو سٹریچروں پر ڈال کر ہسپتال پہنچایا اسکے ساتھ ہی بچوں‘ بوڑھوں اور خواتین کو بحفاظت بلڈنگ سے باہر نکا لا گیا ان امدادی کاروائیوں کے فوراً بعد مئیر اور گورنر بھی پہنچ گئے دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اس موقع پر گورنر Kathy Hochul نے کہا Tonight is a night of tragedy and pain, and tomorrow we begin to rebuildیعنی آج کی رات المیے اور دکھ کی رات ہے اور کل ہم نے تعمیر نو شروع کرنی ہے اسکے بعد شہری اداروں نے کیا کیا اسکا احوال اگلے کالم میںملاحظہ فرمائیں۔