کرپشن کی جنگ میں تیزی اورمری کا سانحہ

232

جناب عمران خان صاحب۔آپ سے دست بدستہ گذارش ہے کہ آپ کے سیاسی مخالفین جن میں کچھ میڈیا کے عناصر بھی شامل ہیں، ان کی مہم تیز تر ہو رہی ہے اور اچھے بھلے، تعلیم یافتہ اور منجھے ہوئے لوگ کہنے لگ پڑے ہیں کہ عمران خان مکمل طور پرناکام ہو گیاہے۔جب میں یہ سنتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان لوگوں کو برین واش کر دیا گیاہے اور یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے ایسی بات کر رہے ہیں۔جب ان سے پوچھا جائے کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں، تواس کا جواب یہ آتا ہے کہ ہمیں بتائو اس نے کیا کیا ہے؟جب اقتدار میں آیا تواسنے بلندوبالا دعوے کیے تھے کہ پچاس لاکھ گھر بنوائے گا۔ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ملک کی معیشت ترقی کرے گی اور خوشحالی آئے گی اور تین سال بعد نہ کوئی گھر بنا، نہ نوجوانوں کو روزگارملا۔ اگر کچھ ملا تو وہ ہے مہنگائی۔غریبوں کو اس مہنگائی نے پیس کر رکھ دیا ہے۔ بجلی مہنگی ، گیس مہنگی اور پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ان الزامات میں کچھ سچائی ہو سکتی ہے لیکن بلا شبہ مبالغہ زیادہ ہے۔اس راقم نے جو چند دنوں میں حال دیکھا ہے کہ دکانیں چیزوں سے لدی پھندی ہیں اور گاہکوں کی کوئی کمی نہیں۔ یہ ان علاقوں میں جہاں غریب عوام رہتے ہیں۔سبزیاں اور پھل انہی قیمتوں پرفروخت ہو رہے ہیں جن کی دو ڈھائی سال پہلے بھی قیمتیں اتنی ہی تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی کا وا ویلا کسی حد تک ایک ڈرامہ ہے جسے مخالفین میڈیا کی مدد سے چلا رہے ہیں، اور کچھ حقیقت بھی جو کووڈ کی وجہ سے ہوئی اور تمام دنیا میں ہوئی۔ مہنگائی کا ڈھنڈورا پیٹ کر عمران خان پر نفسیاتی دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بد دل ہو کروزارت چھوڑ دے اور اس کی جگہ کوئی ایسا بندہ لا بٹھایا جائے جوکرپشن کی جنگ کو پس پشت ڈال دے اور سیاسی مخالفین کو این آر او دے دے۔ مجھے ان کرپٹ سیاستدانوں کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتاکیونکہ عمران خان ایک سچ کی جنگ لڑ رہا ہے ، ایک ایسی جنگ جس کے جیتے بغیر یہ ملک تباہی کی طرف بڑھتا رہے گا۔ ان مجرموں کو جب تک کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، پاکستان کے عوام حقیقی ترقی اور خوشحالی سے ہم کنار نہیں ہو سکتے۔
پاکستان میں سرکاری سطح پر منصوبہ بندی کا کال ہے۔ نہ کوئی مہنگائی پر تجزیہ کر کے منصوبہ بندی کرتا ہے اور نہ کسی اور شعبہ میں۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال ہے کہ مری میں برفباری کے طوفان میں گھرے ہوئے۲۲ افراد مارے گئے، ابھی اور بھی ہلاکتوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ یہ کیوں؟ کہ برف باری کا نظارہ کرنے کے شوقین سیاح کاریں، بسیں اور وین بھر بھر کے عازم مری اور گلیات ہوئے۔ ان لوگوں نے کیا سوچا اور ان کا کیا تجربہ تھا اس کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟لیکن وفاقی وزیر فواد چودھری کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے نوٹس لے لیا تھا لیکن بظاہر اس یلغار کو روکنے کا کوئی مضبوط قدم نہیں اٹھایا گیا۔کہتے ہیں ایک دن میں ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ گاڑیاں مری گئیں۔ ان کو برف باری نے آ گھیرا۔ کئی ہوٹلوں میں نہیں جا سکے کیونکہ ہوٹل مالکان نے بے تحاشا کرائے بڑھا دیے۔ ایک خبر کے مطابق کسی ہوٹل نے ایک کمرے کا ایک رات کاکرایہ پچاس ہزار روپے طلب کیا۔کچھ لوگ جو طوفان میں پھنس چکے تھے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی کار ہی میں رات گزاریں گے۔ کہتے ہیں کہ صبح جب امدادی ٹیمیں پہنچیں تو مختلف کاروں میں ۲۲ افراد مردہ پائے گئے جو غالباً برف میں دبی کار کا انجن چلاکر اس کے ہیٹر سے اپنے آپ کو گرم کر رہے تھے اور گاڑی کی کاربن مونوآکسائیڈگیس بجائے خارج ہونے کے گاڑی کے اندر داخل ہوتی رہی جس سے مقیموں کی موت واقع ہوئی۔اگر ان حضرات کو معلوم ہوتا تو وہ چلنے سے پہلے اپنے ساتھ کچھ کمبل رکھتے اور گاڑی کا انجن بند کر کے سوتے۔
اب حکومت ان اموات کی وجہ تلاش کر کے ذمہ داران کا محاسبہ کرے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مری کی انتظامیہ ایک اسسٹنٹ کمشنر کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو سول سروس کا رکن ہوتا ہے اور بے پناہ اختیارات کا حامل۔پولیس بھی اس کے حکم پر عمل میں آتی ہے۔ اس کو ہوٹلوں کی کار کردگی اور غلط پریکٹسز سب کا پتہ ہوتا ہے۔ سیاحوں کی یلغارہر سیزن میں ہوتی ہے اور سب ہوٹل سیاحوں سے منہ مانگے کرائے وصول کرتے ہیں۔انتظامیہ کو ہو سکتا ہے کچھ نذرانہ ملتا ہو یا یہ کہ کوئی قانون انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکتا۔
تمام دنیا میں ہوٹل انڈسٹری کو قوائد و ضوابط سے پابند کیا جاتا ہے۔ ان اقامت گاہوں کی کتنی گنجائش ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ کتنے مہمان ٹھہرسکتے ہیں؟انتظامیہ کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کل کتنے مہمان خانے ہیں اور ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کل کتنے سیاح ایک رات میں آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔اگر مری روڈ پرداخل ہونے والوں سے یہ ثبوت مانگا جائے کہ ان کا وہاں رہنے کا کیا بندو بست ہے تو فالتو لوگ روکے جا سکتے ہیں جب برفباری کے آثار واضح ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اُن میں پہلے ہی سے کتنے مہمان رہ رہے ہیں اور کتنی گنجائش باقی ہے لیکن پاکستان کے بہادر نو جوان جو سرخ بتی پر گاڑی روکنا اپنی کمزوری سمجھتے ہیں، وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ان پابندیوں سے بھی نکل جائیں گےلیکن پھر بھی ایک تعداد پوری ہونے کے بعد مری روڈ بند کی جا سکتی ہے جس کا اشارہ اسسٹنٹ کمشنر صاحب بہادر کے اختیار میں ہے۔آج کل کے دور میں جب کمپیوٹر پر تمام معلومات برق رفتاری سے حاصل کی جا سکتی ہیںاور پہنچائی جا سکتی ہیں ، ٹریفک کنٹرول کوئی مسئلہ ہی نہیں۔
مسئلہ صرف رہائش کا نہیں، اس کے ساتھ ساتھ رہائش گاہوں پر مناسب خوراک کے ذخیروں کا ہونا، طبی سہولتوں کا ہونا اور ہنگامی حالات سے نبٹنے کے وسائل کا یقینی بنانا بھی ضروری ہیں۔ مری کے اسسٹنٹ کمشنر صاحب کے پاس تمام ایسے اختیارات ہیں جن سے وہ سیا حوں کے لیے وہ تمام سہولتیں یقینی بنا سکتے ہیں جن سے ان کا سفر محفوظ، خوشگوار اورآرام دہ ہو سکتا ہے۔مری میںحکومت نے محکمہ سیاحت کے معلومات دینے والے دفاتر بھی بنا رکھے ہیں لیکن شاید وہ سوائے معلومات دینے کے اور کوئی انتظامی صلاحیت نہیں رکھتے۔حالانکہ یہ ان کا کام ہونا چاہیے کہ سیاحوں کی تعداد ، نئے آنے والے اور جانے والوں کی تعداد کا کم از کم کوئی حساب رکھیں اور انتظامیہ کو خبر دار کریں۔ممکن ہے کہ ایسا کوئی انتظام ہو اور ذمہ واری بھی ہولیکن اس پر خاطر خواہ عمل نہیں ہوتا ہو؟
یہ دلچسپ امر ہے کہ محکمہ موسمیات ایک ہفتہ سے بتا رہا تھا کہ مری اور دوسرے پہاڑی مقامات پر برفباری ہو گی۔ان اعلانات کا بظاہر یہ نتیجہ نکلا کہ لوگوں نے برف باری کا نظارہ کرنے کے لیے سفر کے پروگرام بنا لیے اور یہی وجہ بنی کہ مری پر ایک لاکھ گاڑیاں چڑھ دوڑیںلیکن کیا محکمہ سیاحت نے لوگوں کو سفر سے متعلق حفاظتی تدابیر سے آ گاہ کیا؟ ہو سکتا ہے کہ کیا ہو اور سیاحوں نے ان ہدایات کو سنی ان سنی کر دیا ہو؟ اس کی ایک وجہ حکومتی اداروں پر اور ان کی اطلاعات پر لوگوں کا اعتماد نہیں۔محکمہ موسمیات تو ویسے ہی بد نام ہے کہ ان کی پیش گوئی کبھی ٹھیک ثابت ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔پولیس سے لوگ ویسے ہی نہیں ڈرتے کہ پولیس کو چا ر پیسے دو اور جان چھوٹ جاتی ہے۔ لاقانونیت عوام کا شیوہ بن چکا ہے۔ اس میں قصور قانون کے رکھوالوں کا ہی ہوگا جو قانون کو پیسے کمانے کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں کیوں لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں؟ اس لیے کہ وہاں قانون شکنی کرنے والے رشوت دیکر چھوٹ نہیں جاتے۔ انہیں قانون شکنی کی پوری سزا ملتی ہے۔مثلاً سرخ بتی کا اشارہ توڑنے پر سب سے زیادہ جرمانہ ہو تا ہے جس کے نتیجہ میں رات کے دو بجے بھی لوگ سرخ بتی پر رک جاتے ہیں۔ہمارے ہاں اب تو لوگ ایک طرفہ سڑک پر بھی الٹی طرف جانے سے نہیں گھبراتے اگرچہ اسکے خلاف قانون بھی بن چکا ہے لیکن شارٹ کٹ لینا اس قوم کا وطیرہ ہے، قانون تو چند شرفاء کے لیے ہے۔قانون پر عمل نہ کرنا اور کھلی خلاف ورزی کرنا صرف ٹریفک تک محدود نہیں۔ سڑکوں اور بازاروں میں تو پیدل چلنا محال ہو گیا ہے کہ فٹ پاتھ کیا اور سڑک کیا سب جگہ دوکانداروں کا راج ہے۔ کارپوریشن کے ٹرک ان ٹھیلوں اور ناجائز خوانچوں کو اٹھانے آتے ہیں اور پھر چند روپوں میں سودا ہو جاتا ہے اور کاروبار زندگی بدستور رواں رہتا ہے۔غریب آدمی جو عزت کی روزی کمانا چاہتا ہے اسکے لیے اہل اقتدار کوئی راستہ نہیں نکالتے۔ کیونکہ آبادی کا سیلاب امڈا چلا آتا ہے اور اس کو کھپانے کے ذرائع محدود ہیں۔ کہیں وسائل کی کمی ہے اور کہیں نیت کی۔
پاکستانی کب بچوں کی تعداد پر قابو پائیں گے؟ابھی تک تو کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ مذہبی اعتقادات آڑے آ رہے ہیںیا سہولتوں کا فقدان۔ خاندانی منصوبہ بندی بس شہروں کی کچھ پڑھی لکھی آبادیوں تک محدود ہے۔ حاکم مذہبی مخالفت سے ڈرتے ہیں اور اس موضوع پر کبھی کبھار دبے لفظوں میںبات کرتے ہیں۔ اللہ بھلا کرے ان گمراہ ملائوں کا کہ کوئی ایسا موضوع ہاتھ آئے تو وہ اپنی اہمیت جتانے کے لیے حکومت کا ناک میں دم کر دیں اوروہ توبہ توبہ کر اٹھے۔ جو قوت مذہبی طبقوں کے پاس ہے وہ نہ فوج کے پا س ہے اور نہ حکومت کے۔اس لیے حکومتیں ایسے کام کرنے سے گریز کرتی ہیں جن سے مذہبی اجارہ داروں کو اپنے کس بل دکھانے کا موقع ملے۔اس لیے پرنالہ وہیں گرے گا۔عوام جو اندھا دھند ان مذہبی رہنمائوں کی تقلید کرتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کا بہیمانہ قتل ہے، یہ ملک انہی حالات سے دو چار رہے گاتا وقتیکہ عوام الناس میں تعلیم نہیں آتی اور شعور نہیں پیدا ہوتا۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک پاکستانی یہ سوچے گا کہ کیا ہماری حکومت کی خواہش کہ پا کستان سیاحت کے لیے دنیا کو پیش کیا جائے، کیا واقعی ممکن ہے؟ لگتا نہیں۔ سیاحت جہاں کامیاب ہے ان ملکوں میںعوام انسانی سلوک، روا داری اور کاروباری اصولوں پر چلایا جاتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا جو مری کے ہوٹلوں اور دکان د اروں نے سیاحوں کے ساتھ کیا ۔ اول تو ہر ہوٹل کو انسپکشن کے بعد ایک ریٹنگ دی جاتی ہے جیسے تین سٹار یا چار سٹار وغیرہ اور پھر اس ہوٹل کے ریٹ پہلے سے مشتہر کیے جاتے ہیں۔ بہت سے ضابطے ہوٹل کی کارکردگی پر لاگو ہوتے ہیں۔بد عنوانی کی صورت میں ہوٹل مالکان پر جرمانہ بھی لگ سکتا ہے اور لائسنس بھی چھینا جا سکتا ہے۔سیاحوں کی حفاظت ایک ریاستی فریضہ ہو تا ہے۔جن علاقوں میں برف پڑتی ہے وہاں سائن بورڈ لگائے جاتے ہیں کہ کہاں کار پارک نہیں کی جا سکتی۔سیاحوں کے کھانے پینے کا مناسب انتظام بھی ہوٹلوں کی ذمہ واری ہوتی ہے۔ ہنگامی حالات میں ریاستی نظام عمل میں آ جاتا ہے۔یہ نہیں کہ وہاں فرشتے ہوتے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ وقت اور موسم کے لحاظ سے نرخ زیادہ اور کم ہوتے ہیں اور سیاحوں کی بے بسی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ پاکستان کے کاروباری طبقہ تب ہی ٹھیک ہو گا جب سرکاری اہل کار رشوت لینا بند کر دیں گے اور جو قانون بنے گا اس پر سختی سے عمل ہو گا۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ مخالفین کا ہر ٹڈا بڑھ بڑھ کر حکومت پر الزام لگا رہا ہے۔ کیا ان میں سے کسی ایک نے بھی وقت پر کوئی وارننگ دی تھی؟ جی نہیں! اس وقت سب خواب خرگوش میںتھے۔کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے!