سانحہ مری میں اگر کسی کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے تو وہ صرف عوام کی جہالت ہے، باقی سب کچھ ثانوی ہے!

228

ہر تھوڑے دنوں بعد ملک کو ہر دفعہ کسی نہ کسی سانحے کا سامنا ہوتا ہے جس پر اپوزیشن والے حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے میں کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے۔ بعض اوقات حکومت کی نااہلی بھی اس میں شامل ہوتی ہے اور بعض اوقات گزشتہ حکومتوں کی بھی مگر اس دفعہ مری کی برفباری میں تئیس افراد کا لقمہ اجل بن جانا سراسر ان جاں بحق ہو جانے والے افراد پر بذات خود عائد ہوتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ مری جانے والی گاڑیوں کو سکیورٹی والے منع کررہے ہیں مگر ڈرائیور ان سے بحث مباحثہ کررہے ہیں کہ ہمیں جانا ہے ۔ہمیں ایک پوسٹ موصول ہوئی ہے کہ ایک خاتون رینجرز کے افسر سے انتہائی بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتے کرتے ان پر طعنہ زنی کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ آخر یہ راستہ کس کے کہنے پر بند کیا ہوا ہے، کیا یہ ملک پاکستان ہے یا فوجستان ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یعنی لوگ صرف اپنا فن دیکھنے پر زور دے رہے تھے دیگر مسائل پر کان نہیں دھر رہے تھے۔ مری میں چوبیس ہزار گاڑیوں کی پارکنگ موجود ہے جبکہ کئی دنوں میں مری میں ایک لاکھ چونسٹھ ہزار گاڑیاں داخل ہوئیں تو یہ تو عام دنوں میں ہی مسئلہ بن سکتا ہے۔ چہ جائیکہ شدید برفباری کے دوران یہ صورت حال تباہ کن نہ ہوتی۔ ہر ایک کو صرف یہ فکر تھی کہ کسی نہ کسی طرح سے وہ سکیورٹی والوں کو جل دیکر مری میں داخل ہو جائیں۔ پھر سب سے بڑھ کر جب انہیں یہ بات معلوم تھی کہ وہ برفباری دیکھنے وہاں جارہے ہیں تو انہوں نے کیااس کی مناسبت سے انتظامات کیے تھے یعنی کیا گاڑیوں کے ٹائروں پر باندھی جانے والی زنجیریں وہ اپنے ساتھ لیکر چلے تھے؟ کیا مناسب گرم کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء ساتھ رکھ کر چلے تھے؟ کیا ان کو اس بات کی آگاہی تھی کہ اگر وہ گاڑی کے سارے شیشے بند کر کے ہیٹر آن کر کے گھنٹوں گھنٹوں اندر بیٹھے رہیں گے جبکہ 6فٹ برف میں ان کی گاڑی کا مفلر بھی بلاک ہو جائے گا؟ رپورٹس کے مطابق یہ سارے تئیس افراد سردی اور برفباری سے ٹھٹھرکر نہیں مرے بلکہ برفباری کے باعث ان کی گاڑیوں کے مفلرز بند ہو گئے تھے اور زہریلی گیس کاربن مونو آکسائیڈ جو کہ ایک نہایت ہی زہریلی گیس ہے گاڑی کے اندر بھرنے سے ختم ہو گئے۔ دراصل ان کی گاڑیاں ایک طرح سے موت کے گیس چیمبرز میں تبدیل ہو گئیں۔ ان کی کم علمی، کم عقلی اور کم فہمی کی وجہ ہی ان کی موت کا باعث بنی، کسی اور کو اس غفلت کا الزام دینا زیادتی ہو گی۔
رہ گئی اپوزیشن کی طرف سے اس انسانی المیے پر بھی سیاست کرنے کی بات تو یہ سانحے سے بڑا سانحہ ہے، حادثے سے بڑا حادثہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم ایک بے حس ہجوم کی شکل اختیار کر گئے ہیں جس کو انسان اور انسانیت سے کوئی سروکار نہیں ہے جس کا اپنی ڈائرکشن کا کوئی محور نہیں ہے۔ یہ بھیڑ بکریوں کا ایک ایسا ریوڑ ہے جس کا کوئی چرواہا بھی نہیں ہے۔ اس بے حسی کا ایک رخ یہ دیکھیے کہ مری کے تاجروں نے اس سانحے کو اپنی تجارت چمکانے کیلئے سنہری موقع جانا۔ ہوٹلوں کے کمروں کا کرایہ تین ہزار سے بڑھا کر تیس ، چالیس اور پچاس ہزار روپے فی رات کر دیا اور پھنسے ہوئے لوگوں اور برفباری کے طوفان اور فیملیز کی مجبوریوں کو اپنی تجارت بڑھانے کیلئے ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ سیاحوں کااپنی گاڑیوں میں رات گزارنے کی وجہ کمروں کے آسمان کو چھوتے ہوئے کرائے بھی تھے۔ یہ بھی ٹی وی پر بتایا گیا کہ پراٹھا چائے اور گرم انڈا سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں بک رہا تھا۔ ایک شخص نے بتایا کہ اس کے پاس پچاس ہزار فی دن کا کرایہ دینے کیلئے کیش نہیں تھا تو اس نے بیوی کا زیور ہوٹل والوں کے پاس گروی رکھوا دیا چونکہ وہ لوگ کریڈیٹ یا بنک کارڈ بھی نہیں تسلیم کررہے تھے۔ کیا یہ ہی انسانیت اور مذہب کہتا ہے ہم سے؟
حکومت کی نااہلی یہ ہے کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں اور لوگوں کو مری میں داخل ہونے سے روکنے میں ناکام رہی اور راستوں کو برفباری کے بعد کلیئر کرنے میں بھی ناکام رہی۔ شاید اگر گاڑیاں واپسی کی طرف سڑکوں کی صفائی کے بعد چل پڑتیں تو اتنی اموات نہ ہوتیں مگر آخر کار سب سے بڑی ذمہ داری لوگوں پر عائد ہوتی تھی، حکومت ہر گاڑی کا مفلر آ کر صاف نہیں کر سکتی ہے اور وہ بھی لاکھوں کے حساب سے۔ کل کو آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ٹشو پیپرز دستیاب نہ تھے تو حکومت کو ہر ایک کی چھچھی بھی صاف کرنا چاہیے تھی۔ خدا کیلئے لوگو کامن سینس استعمال کرو!