لوٹی دولت کی واپسی کے دعوے اور عوام کو جھوٹی تسلیاں

103

زندہ باد جسٹس گلزار جنہوں نے راشد سومرو کی دھمکیوں کو پس پشت ڈال کر جو قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی وہ کر ڈالی۔ ورنہ انہیں تو ایک اینٹ ہٹانے پر بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ اگر عدالتیں اسطرح کے فیصلے کرتی رہیں تو انشاء اللہ کرپشن کا سدباب ہو سکے گا۔جسٹس صاحب سے التماس ہے کہ جو پرانے مقدمات عدالتوں میں جمع ہیں انکا بھی فیصلہ جلد کروایا جائے ورنہ سانپ نکل جانے پر لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ عینی شاہدین کا منہ بند کر دیا جاتا ہے۔ تمام شہادتیں دریا برد ہو جاتی ہیں اور عوام انصاف کی راہ تکتے تکتے قبروں میں جا کر سو جاتے ہیں۔ نقیب اللہ کا باپ اسی طرح چلا گیا۔ ساہیوال کے حادثے کی فائل کو بھی دیمک چاٹ گئی۔ ماڈل ٹائون کے طاہر القادری کے پیروکاروں کو اب تک انصاف نہ مل سکا۔ وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی ناک کے نیچے گلو بٹوں نے تباہی مچا دی پولیس نے گولیاں کس کے حکم پر داغیں؟ وزیراعلیٰ کون تھا؟ جس کی کرسی نہ ہلائی جا سکی۔ کیا قانون کی موت ہو گئی تھی۔ بلدیہ کی جلی ہوئی لاشیں آج بھی انصاف مانگ رہی ہیں۔ ملزمان پکڑے بھی گئے۔ کتنوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا گیا؟
نواز خبیث کی بیماری کا ایسا ڈرامہ کھیلا گیا کہ پروین راشد بھی بوکھلا گئیں۔ شیریں مزاری کے بھی آنسو نکل پڑے لیکن خبیث کا زرخرید ڈاکٹر عدنان جعلی رپورٹس تیار کروا کے اپنے آقا کو صاف نکال لے گیا۔ حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا گیا حالانکہ حکومت کی طرف سے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ 7ارب زر ضمانت عدالت میں جمع کروا کر واصل جہنم ہوں۔ مگر ہوا کیا؟ عدالت نے 50روپے کے سٹامپ پیپر پر اور سرکس کے جوکر ڈاکو بھائی شوباز کی ضمانت پر اجازت دے دی۔ شوباز ایسی اداکاری کررہا تھا جیسے وہ بھائی کے کان پکڑ کر واپس لائے گا۔ وہ قانون کی پوری پوری پیروی کریگا، ایک خائن کی ضمانت پر اتنے بڑے لٹیرے کو بھگا دیا گیا۔ وہ عوام کی بددعائیں بھی اپنے دامن میں سمیٹ کر بھاگ گیا۔ اب ڈاکو اور اسکا ضامن دونوں فرار۔ وہ تو کسی نے جوکر کو وزارت عظمیٰ دلوانے کا عندیہ دیکر واپس بلایا تھا ورنہ یہ بھی نہ آتا۔ اب 25ارب کی خرد برد پر آئیں بائیں شائیں بک رہا ہے۔اسے گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟ روز خبر آتی ہے آج گرفتاری عمل میں آئے گی کل گھیرا تنگ کر دیا جائے گا ہوتا ہواتا کچھ بھی نہیں۔ عوام کے لئے ایک نصیحت ایک مجرب نسخہ تیار کیا گیا ہے ’’آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘‘ بیچارے عوام یہ آس لگائے بیٹھے اونگ رہے ہیں کہ ڈاکوئوں کی گرفتاری ہو گی۔ مال مسروقہ برآمد کیا جائے گا اور انہیں کمر توڑ آفات سے نجات ملے گی۔ پیاری عوام! یہ آس لگانا چھوڑ دیں۔ کم از کم ڈاکو، قزاق کے بھائی کو ہی گرفتار کر کے کچھ نہ کچھ نکلوانا چاہیے انکی پاکستان میں قیمتی املاک کو قرق کرنا چاہیے۔
جنرل ضیاء الحق نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا کہ ’’ٹی وی پر خبریں پڑھنے والی خواتین سر پر دوپٹہ لیں‘‘ ایک خاتون جو کمپیئرنگ بھی کرتی تھیں انہوں نے ٹی وی کو خیرباد کہہ دیا۔ انہیں سر ڈھکنے پر تحفظات تھے جبکہ بعض خواتین نے چادریں لینی شروع کر دی تھیں لیکن بہت جلد یہ سب ختم ہو گیا اور سب کچھ اپنے معمول پر آگیا۔ کچھ خاندان جو مغربی ممالک میں شفٹ ہو گئے تھے پاکستان آئے تھے اور انکا چولہ ہی بدل چکا تھا۔ انکے دیکھا دیکھی پاکستانیوں نے بھی انکا لباس اپنا لیا۔ لڑکیاں جینز اور ٹی شرٹ پہننے لگیں۔ دوپٹا آئوٹ آف فیشن ہوا۔ سب کو ماڈرن کہلوانے کا خبط ہو گیا اور جو پرانے لباس پر چلتی رہیں انہیں دقیانوسی کہا گیا۔ شروع میں تو بڑا عجب لگا جب خواتین نے اس قسم کا لباس پہننا شروع کیا جس میں انکے جسم کے نشیب و فراز نمایاں تھے کھلے ہوئے بال جنہیں Exlenlinلگا کر لمبا کیا گیا تھا۔ مردوں کو بھی نظارہ کرنے میں کوئی عار نہ تھی۔ اگر دکاندار اپنی دکان کی اشیاء کو اس طرح سجائے گا تو ہر شخص اسے دلچسپی سے دیکھنے پر مجبور ہو گا۔ جب اپنا پیسہ کھوٹا تو پرکھنے والے کو کیا دوش۔ اگر گڑھ کھلا رکھ دیا جائے گا تو مکھیاں تو بیٹھیں گی۔ بڑے بڑے گاگلز میں چمکتی آنکھیں اپنے اردگرد کا جائزہ لیتی چلتی اور اپنی طرف اٹھتی ہوئی ستائشی نظروں سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور پھر کوئی منچلا آوازہ کسے یا کوئی اور بیہودہ حرکت کرے تو شکایت کیسی؟
وزیراعظم نے ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی نشاندہی کی ہے اور خواتین کو مناسب لباس زیب تین کرنے کی بات کی ہے۔ یہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ آجکل ہمارا میڈیا جس قسم کی لباس میں ملبوس خواتین کو دکھا رہا ہے اس سے خواتین کو شے مل رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے عمر رسیدہ خواتین بھی اپنے لٹکتے بھٹگتے تھل تھل کرتے جسم کی پرواہ کیے بغیر مغربی لباس غلط کی طرح کھینچ تان کر چڑھائے بازاروں میں گھومتی نظر آئیں گی۔ یہ خواتین اپنی بیٹیوں کو کیسے اس طرح کے لباس پہننے سے میک اپ کر کے بازاروں میں گھومنے سے کیسے روک سکیں گی؟ مغربی معاشرہ اپنی اس بے راہ روی سے خوش نہیں ہے۔ یہاں اٹھارہ سال بعد لڑکی لڑکا آزاد ہوتا ہے۔ بوائے فرینڈ، گرل گرینڈ کا رواج عام ہے۔ یہ ایک دوسرے کے پابند نہیں ہوتے عام طور سے مرد حضرات ایک دو بچوں کا تحفہ دے کر غائب ہو جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ان بچوں کی مائیں پالتی ہیں یا یتیم خانے ڈال جاتی ہیں بہرحال انکو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اکثر گلیوں میں رل کر جوان ہوتے ہیں نشہ کرتے ہیں کسی گینگ میں شامل ہو جاتے ہیں اور جرائم پیشہ بن جاتے ہیں۔ یہاں پر مردوں نے شادیاں کرنی چھوڑ دی ہیں چونکہ اگر دونوں میں ہم آہنگی نہ ہو سکے تو طلاق دینا بہت بڑی درد سری ہے۔ عورت بہت کچھ لوٹ کر لے جاتی ہے تو خدارا پاکستانی معاشرے کو اس طرح مادرپدر آزاد مت کیجئے کہ یہاں بھی مرد شادیوں کی ذمہ داریوں سے مبرا رہنا پسند کرنے لگیں؟ اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو اسلام نے ہر شعبہ زندگی کے اصول وضع کئے ہیں ان پر چلیے ورنہ آپکو اسلام سے خارج کر دیا جائے گا۔