روانڈا میں نسل کشی کی پیش گوئی کرنے والے ماہر نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی سے خبردار کردیا

315

روانڈ میں 1994 میں نسل کشی سے برسوں قبل پیش گوئی کرنے والے جینوسائیڈ واچ کے بانی ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے روانڈا اور میانمار میں ہونے والے واقعات کا نریندر مودی کی حکومت سے موازنہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں اسی طرح مستقبل قریب میں مسلمانوں کی نسل کشی ہوسکتی ہے۔جینوسائیڈ واچ کی بنیاد 1999 میں رکھی گئی تھی اور اس کا مقصد دنیا بھر میں نسل کشی کا انسداد ہے اور اس کے بانی امریکا میں ورجینیا کی فیئرفیکس کاؤنٹی میں جارج میسن یونیورسٹی کے شعبہ جینوسائیڈ اسٹڈیز اینڈ پریوینشن میں سابق محقق اور پروفیسر ڈاکٹر اسٹینٹن ہیں۔ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی سے خبردار انڈین امریکن مسلم کونسل کی جانب سے منعقدہ ‘کال فار جینوسائیڈ آف انڈین مسلمز’ کے عنوان سے کانگریشنل بریفنگ کے دوران کیا جہاں وہ 5 رکنی پینل کا حصہ تھے جنہیں سیشن میں خطاب کے لیے دعوت دی گئی تھی۔ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے اپنا ویڈیو خطاب جینوسائیڈ واچ کی جانب سے بھارت میں 2002 سے نسل کشی کے حوالے سے کیے گئے انتباہ کو نمایاں کرتے ہوئے شروع کیا، ‘جب گجرات میں قتل عام ہوا تھا اور ہزاروں مسلمان جاں بحق ہوئے تھے۔