امین و صادق!!

174

ایمانداری اور دیانت داری کا تعلق ہمیشہ سے معاشرے کے بیچ رہ کر معاملات میں کھرا اترنے کا نام ہے، ایک شخص جو کسی حجرے میں بیٹھا ہو اور معاشرے کے ساتھ دین لین نہ کرتا ہو اس کو ہم ایمان دار نہیں کہتے، ہمارے رسولؐ کو مکہ والوں نے امین اور صادق کا خطاب دیا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ لین دین میں کھرے اترتے تھے، میں روایت اور درائیت کے بارے میں ایک مخصوص نظریہ رکھتا ہوں مگر بہرحال تاریخ سے منہ نہیں موڑا جا سکتا، احادیث پر کئی کتابیں موجود ہیں ان میں سے اپنے مطلب کی بات نکال کر دلیل دینا ایک عام رویہ ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ ان کتابوں کے مطالعے سے ہم اس دور کے معاشرتی اور سماجی مزاج کا اندازہ لگا سکتے ہیں، ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عالم بر سرِ منبر وعظ کررہا تھا حضرت علیؓ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ عالم زندگی اور ایمان کے بارے میں بہت ایمان افروز باتیں کررہا ہے، حضرت علیؓ نے فرمایا کہ پہلے یہ دیکھو کہ یہ شخص زندگی میں دنیاوی معاملات اور لین دین میں کیسا ہے، صوفی ازم نے دیانت داری او رامانت داری کی ایک اور منزل دریافت کر لی، وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی بہت خوبصورت عمارت کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں تو یہ خوشی اس شخص کی دی ہوئی ہے جس نے یہ عمارت بنائی ہے جائو اس شخص کے پاس اور اس کا شکریہ ادا کرو اور کچھ نہ کچھ اس کی نذر بھی کردو صوفی ازم کی یہ بات PRACTICALہر گز نہیں مگر سننے میں اچھی لگتی ہے ہندوستان میں جو لوگ دین سے وابستہ رہے وہ سب کے سب حجرہ نشین تھے اور دنیا داری سے کٹے ہوئے لوگ، دنیا داری کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ دنیا داری دنیا کی ہوس کا نام ہے دراصل دنیا داری دینا برتنے کا نام ہے اور معاشی سماجی اور معاشرتی لین دین میں دیکھا جاتا ہے کہ آپ کن اصولوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان پر کتنا پورا اترتے ہیں اشرف تھانوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا کھانا محلے سے آیا کرتا تھا، بازار سے سودا سلف خریدنا، مول تول، جیب میں محنت کا پیسہ ہونا مفت کا کھانا کھانے سے بالکل مختلف ہے۔
جسٹس وجیہہ الدین نے عمران کے بارے میں ایک انٹرویو میں کہا کہ عمران کے گھر کا خرچہ پارٹی کے لیڈر چلایا کرتے تھے جہانگیر ترین ان کو ہر ماہ تیس لاکھ دیا کرتے تھے بعدمیں یہ رقم پچاس لاکھ کر دی گئی، یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ جہانگیر ترین کا جہاز عمران نے کسی ٹیکسی کی طرح استعمال کیا ہے اور جب جہانگیر ترین سے عمران کے اختلافات ہوئے تو جہانگیر ترین نے یہ بات خود بھی کہی سوال یہ ہے کہ جہانگیر ترین اور علیم خان عمران کے اخراجات کیوں برداشت کرتے تھے درون خانہ نام تو زلفی بخاری اور فیصل واڈا کا نام بھی لیا جارہا ہے، کیا ان لوگوں کو جو عمران خان کو لاکھوں میں تول رہے تھے کسی مالی منفعت کی امید تھی اس کے ثبوت نہ بھی ملیں تو یہی کہا جائیگا کہ یہ بعید از قیاس نہیں ہے، ثبوت چاہے نہ بھی ہوں یہی کہا جائیگا کہ جو لوگ سیاسی جماعتوں کی مدد کرتے ہیں ان کو کچھ نہ کچھ مالی فائدہ یا کسی اہم عہدے کی امید ہوتی ہے جہانگیر ترین گو کہ نااہل ہو چکے تھے مگر وہ وفاقی کابینہ کا اجلاس میں ACTIVELY PARTICIPATEکرتے تھے علیم خان کو بھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے عہدے کی طلب تھی عمران نے ان لوگوں کو بلاوجہ استعمال نہیں کیا، اور شک یوں بھی پختہ یقین تک پہنچ جاتا ہے کہ تمام لوگ جو تحریک انصاف کے FOUNDING MEMBERSتھے وہ تقریباً سب کے سب پارٹی سے نکالے جا چکے ہیں۔
عمران کو لانے کے لئے ایک خاص پلان ترتیب دیا گیا، ایک عرصہ نواز شریف اور بے نظیر کی چپقلش سیاست کا حصہ رہی اور اس طرح کئی عشرے گزر گئے، دونوں پر کرپشن کے الزامات تھے اب کے کسی ایسے شخص کی ضرورت محسوس کی گئی جس کے ماضی پر ایسا کوئی بلاٹ نہ ہو اور فوج نے بہت سوچ بچار کے بعد عمران کا انتخاب کیا، ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران پر 1980ء سے ہی کام شروع ہو چکا تھا عمران نے ساری زندگی سوائے کرکٹ کھیلنے کے کوئی اور کام نہیں کیا نہ کو ئی نوکری کی نہ کوئی کاروبار کیا، لہٰذا ایسی کوئی شہادت موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرتی ہو کہ عمران اپنے سماجی اور معاشرتی معاملات میں سچا اور کھرا ہے فوجی کرشمہ سازوں نے نہایت خوبصورتی سے اس بات کو استعمال کیا اور عمران کے بارے میں ایک بیانیہ بنایا گیا کہ عمران صادق اور امین ہے یہ VERDICTبھی عدلیہ کا ہے عمران کے قریبی ذرائع کا نہیں دوسری بات جو عمران کے منہ سے کہلوائی گئی وہ یہ تھی کہ جن لوگوں کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں ہے وہ پاکستان سے مخلص کیسے ہو سکتے ہیں مگر پیسہ درکار ہو تو تمام OVERSEAS PAKISTANSجن کا جینا مرنا دیگر ممالک میں ان کوووٹ کا حق بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ محب وطن پاکستانی سمجھے جاتے ہیں، اس بات کا نشانہ صرف نواز شریف بنے، زرداری پاکستان سے باہر نہیں رہے گو کہ ان پر دبئی میں جائیداد بنانے کا الزام لگتا رہا ہے، عمران بظاہر سیاسی جماعت چلا ہی نہیں سکتے تھے ان کے پاس تو بنی گالا میں گھر بنانے کے لئے بھی پیسے نہیں تھے مبینہ طور پر جمائما نے مدد کی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہانگیر ترین اور علیم ڈار جن کو عمران کے مخالفین ATM MACHINESکہتے رہے کس بات پر عمران پر INVESTMENTکررہے تھے، اس کا جواب نہیں مل رہا، بادی النظری میں جسٹس وجیہہ الدین جو الزامات لگارہے ہیں وہ سچ معلوم ہوتے ہیں، ممکن ہے عمران کو لانے میں عجلب نہ دکھائی جاتی مگر فوج کو یقین تھا کہ اگلاالیکشن نواز شریف کا ہے اور اگر نواز شریف دوبارہ وزیراعظم بن جاتا ہے تو وہ فوج کے لئے مشکلات کھڑی کرے گا، اس طرح عمران فوج کا PREMATURE CHILDہے جس کی پیدائش وقت سے پہلے ہو گئی ہے اس لیے اس کو فوج INTENSIVE CAREمیں رکھے ہوئے ہے ہم بتا چکے ہیں کہ عمران گو کہ ملک کے وزیراعظم کہے جاتے ہیں مگر ان کی بہت لمبی میز پر نہ تو فون ہے نہ ہی کوئی فائل نظر آتی ہے تمام معاملات جنرل باجوہ دیکھ رہے ہیں وہی تمام سفیروں، اور غیر ملکی مندوب سے ملتے ہیں ایسے عمران کو کٹھ پتلی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے جسٹس وجیہہ کے الزامات نے اخلاقی طور پر عمران کو بالکل کھوکھلا کر دیا ہے اورسیاسی اعتبار سے عمران کے پاس کوئی وژن تو ہے نہیں لنگر خانوں اور پناہ گاہوں اور دستر خوان کسی کھاتے میں نہیں ملک سیاسی اور معاشی تنہائی کا شکار ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ عمران کا اچار ڈالا جائے یا وہ کسی اور مصرف کا ہے فوج سے پیار کی کوئی وجہ ہوتی ہے مگر اب سوچنا ہو گا کہ عمران کو مسلط کر کے اس کو امین و صادق ثابت کر کے اور یہ بتا کر کہ عمران کا مرنا جینا پاکستان میں ہے پاکستان کو کیا دینا چاہتی ہے پاکستان بہت جلد دیوالیہ ہونے کے قریب ہے!!