کراچی گرین لائن بس کا افتتاح، احسن اقبال کو شرم آنی چاہیے!!

257

کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، آخر کار عمران خان نے کراچی میں گرین لائن بس کاافتتاح کر دیا۔ یہ منصوبہ 2016ء میں شروع ہوا اور کیوں شروع ہوا۔ یہ ایم کیو ایم کا پریشر تھا۔ نواز شریف جس انداز سے لاہور میں انویسٹمنٹ کررہے تھے اور پروجیکٹ پر پروجیکٹ دے رہے تھے اورنج ٹرین، جنگلہ بس بقول عمران خان، انڈر پاسز، اوورہیڈبرج اس نے ایم کیو ایم کو مشتعل کر دیا تھا جس پر ایم کیو ایم نے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت پر دبائو ڈالنا شروع کیا۔ زرداری حکومت 13سال سے سندھ پر حکومت کررہی ہے لیکن اس نے سوائے لوٹنے اور مال بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ زرداری اپنے آپ کو بہت چالاک سیاستدان تصور کرتا ہے اتنے سال جیل میں رہنے کے تجربے کیساتھ ساتھ اس نے لوگوں کو خریدنا سیکھا اسی انسانی اور سیاسی خرید و فروخت کو وہ سیاست کہتا ہے حالانکہ سیاست عوام کی خدمت اور آرام پہنچانے کا نام ہے۔ سیاست عوام کی بہتری کے لئے کام کرنے کا نام ہے۔ جمہوریت اسی لئے دنیا میں کامیاب ہے اور زیادہ تر ملکوں میں قائم ہے کہ لوگ خود اپنے نمائندوں کو چنتے ہیں تاکہ وہ عوام کی بہتری کے لئے کام کریں۔ ابراہم لنکن نے کہا تھا جمہوریت عوام سے ہے۔ عوام کیلئے ہے اور عوام کے ذریعے ہے، لیکن پاکستان میں جمہوریت مال بنانے کیلئے ہے اولادوں کوآگے لانے کیلئے ہے اور خاندانی بادشاہت قائم کرنے کیلئے ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کا مفہوم ہی بدل دیا گیا ہے یہ دو شخص اور خاندان زرداری اور نواز شریف اتنے سالوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں لیکن دل نہیں بھرا اب ان کی اولادیں تیار ہیں نانی مریم صفدر اور جناب بلاول زرداری اب یہ دونوں بائیس کروڑ پاکستانیوں پر حکومت کرنے کیلئے تیار ہیں۔
گرین لائن منصوبہ کراچی کے عوام کیلئے ایک تحفہ ہے یہ سرجانی ٹائون سے شروع ہو کر قائداعظم کے مزارپر نمائش پر ختم ہو گا یہاں سے ٹاور تک صوبائی حکومت کا اورنج لائن منصوبہ ہے جو پتہ نہیں کب ختم ہو گا۔ پیپلز پارٹی کے وزیر اتنے جھوٹے ہیں کہ ان کی مثال مشکل ہے ہی ملے گی۔ ناصر حسین شاہ جس وزیر کا نام ہے وہ 2016ء میں کہہ رہا تھا کراچی میں ہر سال ہزاروں بسیں روڈ پر آئیں گی اور عوام کو ٹرانسپورٹ کی کوئی شکایت نہیں ہو گی۔ وسیم بادامی نے چند دن پہلے اپنے پروگرام ’’الیونتھ آور‘‘ میں ناصرحسین کے بیانات سنوا دئیے کتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتا ہے گرین لائن کے افتتاح پر ن لیگ اور پی ٹی آئی میں جھگڑا ہورہا ہے۔ پیپلز پارٹی فارغ ہے جس کی سندھ میں صوبائی حکومت ہے ٹرانسپورٹ کراچی میں چلانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ احسن اقبال اور مفتاح اسماعیل نے دنیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی اس کیساتھ وہ کرپٹ اور زنا کرنے والا سابق گورنر بھی شامل ہو گیا جسکی جس انداز سے گندی ویڈیو لیک ہوئی ہے اسکو شرم سے اپنا منہ چھپا لینا چاہیے تھا لیکن وہ ٹی وی پر بھی آتا ہے اور بیانات بھی دیتا ہے زبیر کو چاہیے تھا اپنے بھائی اسد عمر اور اپنے باپ جنرل عمر کا ہی خیال کر لیتا بہرحال کسی نے بھی احسن اقبال کے اس ڈرامہ کو پسند نہیں کیا۔ نہ ملکی میڈیا نے اور نہ بین الاقوامی میڈیا نے اہمیت دی بس انگلی کا خون بہا کر شہیدوں میں شامل ہو گئے۔ پی ٹی آئی اور عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں اس تقریب میں انہوں نے پانی کے K-4کا بھی ذکر کیا جو اتنے سالوں سے التواء کا شکار ہے عمران نے وعدہ کیا ہے وہ جلد اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے جو جدید سسٹم اور سہولتیں گرین لائن بسوں میں مہیا کی جائیں گی وہ یقینا قابل ستائش ہیں۔ بین الاقوامی معیار کی بسیں ہیں کراچی کے شہریوں آپ کو گرین لائن منصوبہ اور اس کا افتتاح مبارک ہو۔ امید ہے 25دسمبر سے آپ اس سفر کو انجوائے کریں گے۔