ہوش وقت پر آئے تو بات ہے !!

249

گوادر شہر میں پچھلے چار ہفتوں سے عوامی احتجاج جاری ہے جس میں شرکاء کی تعداد بڑھتی جارہی ہے لیکن خاص بات، جو تسلی کا باعث ہے، یہ ہے کہ احتجاج اب تک پر امن رہا ہے اور احتجاج کرنے والوں نے کوئی ایسی حرکت نہیں کہ جو ملک میں اس طرح کے احتجاجی مظاہروں میں عام طورسے دیکھنے میں آتی ہے، خاص طور پہ ان مظاہروں میں جو دین کی تقدیس اور ناموس کے نام پہ رچائے جاتے ہیں۱
لیکن تشویش کی بات، جو بہت تکلیف دہ ہے، یہ ہے کہ چار ہفتے کے تسلسل کے باوجود وفاقی حکومت نے اس معاملہ میں نہ کسی تشویش کا اظہار کیا ہے نہ ہی کوئی سرگرمی اس کی جانب سے دیکھنے کو ملی ہے۔ ہاں چار ہفتوں کے بعد ابھی کچھ دیر پہلے، جب ہم یہ کالم لکھنے کی تیاری کررہے تھے، اسلام آباد سے یہ خبر آئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گوادر شہر میں جاری احتجاج کا نوٹس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی دانست میں گوادر کے عوام کا احتجاج جائز ہے اور وہ گوادر کے شہریوں کی دادرسی کرنا چاہتے ہیں۔
بڑا شکر ہے اللہ کا کہ وزیر اعظم کے کانوں پہ جوں تو رینگی اور بہت تاخیر سے سہی انہیں آخر کار یہ احساس ہوا کہ گوادر میں صورت حال تشویشناک ہوتی جارہی ہے اور انہیں کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑیگا!
عمران خان جب تک کرکٹ کھیلتے تھے اور کرکٹ ٹیم کی کپتانی کیلئے اس حوالے سے شہرت رکھتے تھے کہ وہ نہ صرف بروقت فیصلہ کرتے ہیں بلکہ ایسا فیصلہ کرتے ہیں جس پر داد دینے کو جی چاہے۔ لیکن نہ جانے کیا ہوا کہ ایوان اقتدار میں اپنا مقام بنانے کے بعد سے ان کی وہ کپتانی والی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وہ اب اس حوالے سے زیادہ جانے جاتے ہیں کہ معاملات ٹلتے رہتے ہیں، طول کھینچتے رہتے ہیں لیکن وزیر اعظم کی طرف سے فیصلہ یا تو ہوتا ہی نہیں یا اگر ہوتا ہے تو بہت تاخیر سے۔ قوت فیصلہ کی وہ عجلت والی صلاحیت جس کیلئے وہ شہرت رکھتے تھے اب ان کی ذات سے کوسوں دور دکھائی دیتی ہے۔
پتہ نہیں عمران خان کو اس کا احساس بھی ہے یا نہیں کہ کرکٹ لاکھ پاکستانیوں کا پسندیدہ کھیل، بلکہ مذہب، سہی لیکن پھر بھی وہ میدان کھیل تک ہی رہتا ہے اور اس کے اثرات ایک دو دن یا ایک آدھ ہفتے سے زیادہ طوالت نہیں رکھتے لیکن بطور وزیر اعظم ان کا کردار اور ان کے منصب کے تقاضے کچھ اور ہیں اور ان کے صحیح یا غلط اثرات بہت دور تلک جاتے ہیں اور قوم کی تقدیر اور عوامل پر ان کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔
چار ہفتوں کا مسلسل احتجاج بجائے خود ایک ایسی پیش رفت ہے جس کا نوٹس وزیر اعطم کو ایک ہفتے یا زیادہ سے زیادہ دس دن میں لے لینا چاہئے تھا بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ گوادر میں ہونے والے کسی بھی مظاہرہ، کسی بھی احتجاج کا نوٹس عمران خان کو فی الفور لینا چاہئے تھا اسلئے کہ موجودہ حالات میں گوادر پاکستان کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
گوادر اس کثیر المقاصد منصوبے کا نقطۂ اختتام ہی نہیں بلکہ مرکزی نقطہ ہے جسے سی پیک یا چین پاکستان اقتصادی راہداری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہمارا پڑوسی اور سب سے با اعتماد دوست اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے ایسے منصوبوں میں جو پاکستانی اقتصادیات کی شکل بدل دینگے۔ سی پیک کے منصوبوں سے پورے ملک کو فائدہ ہوگا، پورے ملک کی معیشت اور اقتصادی ترقی پر ان منصوبوں کے مثبت اثرات مرتب ہونگے لیکن سب سے زیادہ فائدہ اس صوبہ بلوچستان کو پہنچے گا جس کی ملک کی اقتصادی ترقی میں سب سے کم شرح نمو رہی ہے اور پاکستان کا ہر صاحب نظر اس حقیقت کو مانتا ہے کہ بلوچستان کی اقتصادی اور معاشی ترقی کی طرف سے سابقہ حکومتوں نے دیدہ و دانستہ یا نادانستہ غفلت برتی ہے۔ سی پیک اس نعمت غیر مترقبہ کی صورت میں بلوچستان کے عوام کیلئے آیا ہے جو ملک کی معاشی ترقی میں انہیں بھی اور صوبوں کے برابر لا کر کھڑا کرسکتا ہے۔ اور یہ کوئی مرحمت نہیں ہوگی حکومت کی طرف سے بلکہ یہ بلوچستان کے عوام کا حق ہے کہ ان کیلئے بھی ترقی اور تعمیر کے ویسے ہی مواقع پیدا کئے جائیں جو ملک کے بقیہ عوام اور صوبوں کو حاصل رہے ہیں۔
اقتصادی ترقی کے ہر منصوبے کا ہدف یہ ہوتا ہے، اور ہونا بھی چاہئے، کہ اس کا فیض عوام الناس تک پہنچے اور وہ تعمیر و ترقی کی دوڑ میں اپنا حصہ حاصل کرسکیں۔ بلوچستان کے عوام بھی اگر سی پیک کے منصوبوں سے یہ توقعات رکھتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن گوادر کے عوام کو یہ شکایت ہے کہ جو ترقیاتی کام سی پیک کے تحت ہورہے ہیں ان کا فیض تو کجا الٹا یوں لگتا ہے جیسے ان کے حقوق سلب ہورہے ہیں اور ان کے معاش کے وہ ذرائع جو ان کو ہمیشہ سے دستیاب رہے ہیں وہ بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں۔
ان کا یہ جاری احتجاج اس نکتہ پر ہے کہ ان کیلئے معاش کا سب سے بڑا وسیلہ ماہی گیری ہے جو صدیوں سے ان کا اور ان کے آبا و اجداد کیلئے روزی اور رزق پیدا کرتا رہا ہے لیکن اب ہو یہ رہا ہے کہ چین کے بڑے بڑے ٹرالر، جو جدید آلات سے لیس ہیں، ان پانیوں میں در آتے ہیں جہاں گوادر کے غریب ماہی گیر اپنی چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں روایتی انداز اور طریقوں سے ماہی گیری کرتے ہیں۔ ان کا گلہ بجا ہے، جسے بالاخر عمران خان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ان کے حقوق پر ڈاکہ دالا جارہا ہے اور ان کیلئے معاش کے وسیلے بند ہورہے ہیں۔
چین ہمارا دوست ہے اور دوست بھی ایسا کہ جس نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی ہے اور کبھی اس طرح ہماری پیتھ میں چھرا نہیں گھونپا جیسے ہمارے چچا سام کرتے آئے ہیں لیکن دوست اگر نادانستہ کوئی ایسا کام کررہا ہو جس سے ہمارے غریب عوام کی روزی روٹی پر آنچ آرہی ہے اور ان کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے تو دوست ہونے کے ناطے یہ ہمارا حق بھی ہے اور اپنے غریب عوام کے ضمن میں ہماری حکومت کا فرض بھی کہ وہ چین کی حکومت کو اس بنیادی مسئلہ سے آگاہ کرے اور دونوں دوست افہام و تفہیم سے اس کا کوئی ایسا مثبت حل تلاش کریں جس سے کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کی حکومت کو مسئلہ کی سنگینی کا ایک اور زاویہ سے احساس کرنا چاہئے اور وہ یہ کہ سی پیک کے دشمن ہر ایسے موقع اور ذریعہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں جس کے ذریعہ وہ پاکستان اور چین کے تعاون کو زک پہنچاسکیں اور بلوچستان میں بطور خاص ایسی صورت، حالات پیدا کردیں جو پاکستان کے اس کلیدی اقتصادی منصوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکیں۔ بھارت کی دشمنی تو کھلی ہوئی سامنے ہے اور اس کے ضمن میں کسی کو کوئی خوش فہمی یا غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے لیکن اور ممالک بھی ہیں، خاص ان میں ہمارے وہ دوست نما دشمن بھی ہیں جو ہماری دشمنی میں کم اور چین سے مسابقت کی مہم میں زیادہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ ان میں ہماررا ستر برس کا برائے نام حلیف ملک بھی شامل ہے اور اسرائیل بھی اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ وہ خلیجی ممالک بھی جنہیں خطرہ ہے کہ گوادر اگر ان خطوط پر ترقی پاگیا جو سی پیک کا ہدف ہے تو ان کے شہروں کی مصنوعی جگمگاہٹ ماند پڑجائیگی ۱
بلوچستان میں ہمارے کھلے اور چھپے دشمن ایک طویل عرصے سے سرپھرے اور جوشیلے نوجوانوں کو ورغلا کر ان سے پاکستان دشمنی، بغاوت اور غداری کے کام کرواتے چلے آئے ہیں۔ بلوچستان کی اس بغاوت کو، جسے جھاڑیوں کی آگ سے تشبیہ دینا مناسب ہوگا، ہماری چاق و چوبند مسلح افواج کچلتی رہی ہیں اوراپنی مہارت سے آگ بجھانے کا کام کامیابی سے کرتی آئی ہیں لیکن بہرحال اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا حکومت کا کام ہے اور اسے ہر صورت میں کرنا چاہئے۔ اس پس منظر میں یہ خدشہ اپنی جگہ ہے کہ گوادر کے پرامن شہریوں کے احتجاج میں پاکستان دشمن اپنے ایجنڈ گھسانے کی کوشش کرسکتے ہیں تاکہ شہریوں اور ماہی گیروں کا احتجاج ایک ایسی صورت اختیار کرلے جس پر قابو پانے کیلئے حکومت اور فوج کو وہ کرنا پڑے جس سے جس حد تک ممکن ہو بچنا پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔
چار ہفتوں کی تاخیر سے سہی یہ پھر بھی غنیمت ہے کہ عمران کو ہوش آگیا ہے کہ اس مسئلہ کا فوری حل تلاش کرنا وقت کی اولین ترجیح ہے اور حل محض وقتی نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایسا ہو جو پائیدار ہو اور جس سے گوادر اور بلوچستان کے عوام کو یہ تقویت مل سکے کہ مرکزی حکومت ان کی فلاح و بہبود میں سنجیدگی سے مصروف کار ہے اور ان کیلئے وہ سب کچھ کرنے کیلئے آمادہ ہے جو انہیں خوشحالی کی سمت لے جاسکے۔
بر وقت تعمیری کام کرنے کی ضرورت کا احساس دلوانے کیلئے کیا یہ کم ہے کہ جب تک آپ یہ تحریر پڑھیں گے وہ تاریخ آچکی ہوگی جسے ہم سقوط ڈھاکہ کے نام سے یاد رکھتے ہیں۔ سولہ دسمبر کی وہ نحس تاریخ جب بابائے قوم کا پاکستان دولخت ہوا تھا۔ اس تکلیف دہ موضوع پر ان شاء اللہ اگلے ہفتے بات ہوگی۔ فی الحال یہ کہنا ہی کافی ہوگا کہ خدا نہ کرے جو بلوچستان یا پاکستان کے کسی اور علاقے میں وہ دردناک تاریخ دہرائی جائے جو آج بھی ہمارے سینے میں تیر نیم کش کی طرح ترازو ہے، خنجر کی مانند پیوست ہے۱
چلتے چلتے عمران خان کو اس کی مبارکباد کہ کراچی کے مظلوم شہریوں کیلئے ان کی گرین لائن کی بسوں کا تحفہ ان کے ہاتھوں کراچی والوں تک پہنچ گیا ہے۔ خدا کرے کہ یہ منصوبہ کامیابی سے چلتا رہے، کراچی کے بے آسرا عوام کی مصیبتوں میں قدرے کمی کا سبب بنے اور اسے سندھ پر گذشتہ چودہ برس سے مسلط زرداری کے چیلوں اور چوروں کی بری نظر نہ لگے۔ یہ ڈاکو جو کراچی کے عوام کا خون چوستے آئے ہیں ہر طرح کوشش کرینگے کہ اس منصوبے کو ناکام کردیا جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران حکومت کراچی کے بیکس عوام کے اس فلاحی منصوبے کو ان چوروں کے حریص ہاتھوں سے کیسے محفوظ رکھتی ہے۔