دو ڈاکٹر صاحبان کا ورلڈ ویو!!

175

میں ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کا ٹاک شو ہر روز دیکھتا ہوں جس دن مصروفیات زیادہ ہوں اس دن بھی کسی نہ کسی طرح آدھا گھنٹہ نکال کر یہ پروگرام دیکھ لیتا ہوںاکثر ایسا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب جب تاریخ اور جغرافیے کے دقیق مسائل کی گرہیں کھولنے لگ جاتے ہیں تو میں پھر کنی کترا جاتا ہوں میں اگر چہ کہ گذشتہ چار عشروں سے امریکی اخبارات کا مطالعہ کر رہا ہوں اسکے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب بین الاقوامی امور کی گرہ کشائی بڑی مہارت اورعرق ریزی سے کرتے ہیں انکو میسر بے پناہ وسائل کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتاہے کہ وہ اپنے ویوز کو دنیا بھر کے اخبارات کی کلپس دکھا کر بڑی چابکدستی سے ثابت کرتے ہیں اردو زبان کے ٹاک شوز میں شائد ہی کوئی ایسا ہو جسمیںگلوبل ٹائمز اور خلیجی ممالک کے اخبارات سے لیکر برطانوی اور امریکی اخبارات کی خبروں کے سکرین شاٹس بھی دکھائے جاتے ہوں ڈاکٹر صاحب ہفتے کے ساتوں دن پروگرام کرتے ہیں اور عید پر بھی ناغہ نہیں کرتے قومی اور عالمی سیاست سے انکی اس وابستگی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے میں بھی بلا ناغہ انکا ساتھ دیتا ہوں میں کئی مرتبہ انکے ساتھ اسلئے اتفاق نہیں کرسکتا کہ اس دن میں نے نیویارک ٹائمز‘ واشنگٹن پوسٹ اور وال سٹریٹ جنرل میں جو کچھ پڑھا ہوتا ہے ڈاکٹر صاحب اسکا استرداد کر رہے ہوتے ہیں اس سے میری مراد یہ ہے کہ بعض اوقات عالمی واقعات پر انکی گرفت مضبوط نہیں ہوتی مثال کے طور پر امریکہ چین اور امریکہ روس تعلقات کے بارے میں ،میں انکی آرا کو معروضیت کے تقاضوں کے عین مطابق نہیں سمجھتا جنرل بپن راوت کی موت کو بھی انہوں نے ضرورت سے زیادہ سافٹ ٹچ سے برتا ہے ظاہر ہے بھارت میں بھی انکے پروگرام کو دیکھا جاتا ہو گا یا پھر کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے جنرل بپن راوت کے عسکری بیک گرائونڈ اور بھارتی سیاست میںانکے عمل دخل کے بارے میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے ناظرین کو جو معلومات مہیا کیں وہ امریکی میڈیا میں بھی عنقا تھیں جنرل راوت اور اجیت دوول دونوں کا اتر کھنڈ میں پیدا ہونا اور نریندر مودی کی ہندتوا حکومت پر چھا جانا ایک چشم کشا انکشاف ہے جو ڈاکٹر صاحب اور انکی لائق و فائق ٹیم کی جفا کشی کا پتہ دیتا ہے
مجھے ڈاکٹر صاحب کے ٹاک شو پر کالم لکھنے کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ چند روز پہلے شاہد مسعود صاحب نائلہ علی صاحبہ کی کرسی پر مسند نشین ہو کر امریکہ کے پروفیسر ڈاکٹر عادل نجم صاحب کا انٹرویو کر رہے تھے میں نے پہلی مرتبہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایک طالبعلم کی طرح سوال کرتے ہوے دیکھا انکے مہمان بڑی شگفتگی اور شائستگی سے جوابات دیکر دنیا بھر کے واقعات و حادثات کو اپنے ورلڈ ویو کی لڑی میں پرونے کی کوشش کر رہے تھے لاہور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نجم صاحب بوسٹن یونیورسٹی میں Pardee School of Global Studies کے Inaugural Dean ہیں انکا مرتبہ ہی انکے عالم فاضل اور صاحب فکر ہونیکا پتہ دیتا ہے ڈاکٹر شاہد مسعود اسی لئے اپنی افتاد طبع پر قابو پانے کی کوششوں میں کامیاب ہو کر مہمان کو حتی المقدور اظہار رائے کیلئے کھلا میدان دے رہے تھے میری افتاد طبع کسی بھی صورت اس جملہ معترضہ کے قابو نہیں آرہی کہ اس روز نائلہ علی صاحبہ کو ڈاکٹر عادل نجم پر رشک آ رہا ہو گا
اس پروگرام میںدونوں ڈاکٹر صاحبان ہر قومی اور عالمی مسئلے پر متفق نظر آ رہے تھے یا پھر میزبان اپنے مہمان کی علمی قدو قامت کے سامنے سپر انداز تھے میںعالمی واقعات اور اقوام عالم کے باہمی تعلقات کا ایک طالبعلم ہونے کے باوجود دونوں ڈاکٹر صاحبان کے مشترکہ ورلڈ ویو کی بعض جہتوں سے اتفاق نہ کرسکا میری رائے کے مختلف ہونیکی وجہ ڈاکٹر عادل نجم کی چند پیش گوئیاں اور تین عالمی طاقتوںکے باہمی تعلقات پر انکی سوچی سمجھی رائے ہے مثلاً ڈاکٹر نجم صاحب نے فرمایا کہ امریکہ چین تعلقات دراصل ایک نئی سرد جنگ ہے میری معلومات کے مطابق بائیڈن انتظامیہ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ امریکہ چین تعلقات پر کسی بھی صورت سرد جنگ کی اصطلاح کا اطلاق نہیں ہو سکتا سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ چین تعلقات اسلئے سرد جنگ کے زمرے میں نہیں آتے کہ چین ایک ایسی اقتصادی اور عسکری طاقت ہے جو کئی میدانوں میں امریکہ کا مقابلہ کر سکتی ہے سوویت یونین اسکے برعکس اقتصادی طور پر تو کھوکھلا تھا مگر جوہری میدان میں امریکہ کا ہم پلہ تھا انٹونی بلنکن کے بیانات کے مطابق امریکہ چین کیساتھ اپنے تعلقات کو سرد جنگ اسلئے نہیں سمجھتا کہ بیجنگ بعض ایشیائی اور افریقی ممالک میں اپنا اثر رسوخ اس حد تک بڑھا چکا ہے واشنگٹن کیلئے ان ممالک میں راستے بنانا نہایت مشکل ہو گیا ہے اسکا مطلب یہی ہے کہ امریکہ چین کے عالمی اثر رسوخ کو تسلیم کر رہا ہے جبکہ سوویت یونین کو یہ رعایت اسنے کبھی بھی نہیں دی تھی ڈاکٹر نجم نے یہ بھی کہا کہ سرد جنگ کے دنوں میں یہ Clarity تھی کہ کس ملک نے کس کیمپ کا حصہ بننا ہے آج یہ سہولت کسی بھی ملک کو حاصل نہیں سب درمیان میں کھڑے ہیں اور کوئی بھی کسی کیمپ کا حصہ بننے کی کوشش نہیں کر رہا ڈاکٹر صاحب کی رائے میں یورپ بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اضطراب کا شکار ہیںاس بات کو اگر درست مان لیا جائے تو اقوام عالم کا یہ اضطراب ظاہر کرتا ہے کہ آج کی دنیا سرد جنگ کی دنیا سے نہایت مختلف ہے میں ڈاکٹر صاحب کی اس وضاحت سے بھی اتفاق نہیں کرتا کہ یورپ کھل کر امریکہ کا ساتھ نہیں دینا چاہتا میری دانست میں یورپ کو ایک دفعہ پھر یہ تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر روس کے توسیعی عزائم کا مقابلہ نہیں کر سکتا امریکہ اگر آج یوکرین کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لے تو یورپ ولادیمیر پیوتن کو یوکرین پر قبضہ کرنے سے نہیں روک سکتا یورپ کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہے اسلئے وہ امریکہ کا ساتھ دینے میں قباحت محسوس نہیں کر رہا برطانیہ اور یورپی یونین دونوں جانتے ہیں کہ جو بائیڈن کا امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ سے مختلف ہے سابقہ صدر اگر 2024 میں وائٹ ہائوس میں دوبارہ براجمان ہو بھی جاتے ہیں تو فی الحال یورپ کو امریکہ کی ضرورت ہے تین سال بعد جو ہوگا وہ دیکھا جائیگا قابل احترام ڈاکٹر صاحبان کے ورلڈ ویوز پر میرے مزید تحفظات کا ذکر اگلے کالم میں ہو گا ۔۔۔۔