پاکستان کی آبادی کے مسائل:ماہرین کیا کہتے ہیں؟

184

پاپولیشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کی22 ویں سالانہ آبادی پرتحقیق کی کانفرنس اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اور ٹیکنالوجی میں دسمبر 7تا 9منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے شرکاء میں ملک کے ما ہرین عمرانیات ، متعلقہ سرکاری افسروں کے علاوہ طلباء کی ایک بڑی تعداد نے بھی حصہ لیا، جن میں سے کچھ نے اپنے تحقیقی مقالے بھی پیش کیے۔کانفرنس کا موضوع تھا: بدلتی دنیا میں آبادی کے چیلنجز۔کانفرنس کا آغاز پی اے پی کے صدرجناب جی ایم عارف نے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔جس کے بعد محترم ظہیر گُل نے ایسوسی ایشن کی سالانہ رپورٹ پیش کی اور مختصراًاہم کاروائیوں کا ذکر کیا۔ ابتدائی سیشن کے چیئر پرسن ، سپیریر یونیورسٹی کے پروریکٹر اور پی اے پی کے سا بق چیرمین ڈاکٹر نظام الدین نے خطاب کیا۔
کانفرنس کا رسمی افتتاح ، صدر پاکستان جناب ڈاکٹر عارف علوی نے کیا۔ اپنے خطبے میں صاحب صدر نے فرمایا کہ کتنے عرصہ سے عوام کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیںکہ کم بچے خوشحال گھرانہ مگر ہم اس کوشش میں ایک حد تک ناکام رہے ہیں۔ہمیں اس ناکامی کی وجہ تلاش کرنا چاہیے ۔ اگر علماء کا ڈر تھا تو پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ لوگ اب علماء کی طرف دیکھ نہیں رہے ہیں ۔ ہمیں اپنے communication skills کی طرف توجہ دینی چاہیے، تا کہ ہمارا پیغام سب تک پہنچے۔ پیغام کا لبادہ کیا ہو گا؟ خاندان کے اندر توازن پیدا کریں۔ ایسے پیغامات کا کوئی ایسا فائدہ نہیں جو معیشت کو وجہ بنائیں۔ مرد وں کوعورت کی کمزوری اور صحت کا خیال ہوتا ہے اس لیے اس کا ذکر کریں۔مڈ وائف اور ایل ایچ وی ا س پیغام کو پہنچانے کئے لیے بہتر ہیںکیوں کہ ہمارا کلچر ایسا ہے جس میں یہ بات ذاتی سطح پر ہی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال آٹھ ملین عورتیںحاملہ ہوتی ہیں جن میں سے نصف یہ حمل نہیں چاہتیں۔اس لیے ایسی خواتین پر توجہ دی جائے۔ ایسی مانع حمل ادویات جنہیں روزآنہ کی بنیاد پر استعمال کرنا پڑتا ہے، وہ اس مسئلہ کا علاج نہیں۔ ان کے بجائے دیرپا قسم کی آئی یوڈی بہتر حل ہے۔اور آئیندہ برس تک پاکستان اپنی ضرورت کے مطابق یہ بنانا شروع کر دیگا۔گھر پر ادویات پہنچانا بہترین حل ہے۔مالی وسائل کی تقسیم چونکہ آبادی کی بنیاد پر ہے تو بلوچستان جیسے کم آبادی والے صوبے کیوں نہ آبادی بڑھانے کی کوشش کریں؟ اس حوالے سے، مالی وسائل کی تقسیم کا کوئی دوسرا اصول بنایا جائے تا کہ آبادی کے علاوہ کوئی دوسرے معیار بھی ہوں؟ہماری نوجوان آبادی کی صلاحیت کو بھی بڑھانا چاہیے۔ عورتوں کو با صلاحیت بنائیں ، تا کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔
آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے ماہرین کو صدر پاکستان کے پیغام میں کچھ مانوس پیغامات تو ملے ہوںگے، اور کچھ باتیں جو وہ بہت پہلے سے جانتے ہیں، لیکن صدر مملکت کا ان حقائق سے با خبر ہونا ایک اچھے مستقبل کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ صدر صاحب کو اندر کی کہانی سنانے سے گریز کیا گیا ہو۔کہ وہ کونسے عوامل ہیں جنہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو ناکارہ بنا کر رکھ دیا۔
پاکستان میں آبادی ،افزائش کی رفتارکم ہوتے ہوتے بھی تیس کڑوڑ یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے، جبکہ ملک کے وسا ئل موجودہ آبادی کا متحمل نہیں ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں نے غیر ملکی ماہرین کے مشورے پر چھپن سال پہلے، فیملی پلاننگ کا ایک قومی پروگرام شروع کیا جس میںعوام کو خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد سے آگاہ کرنا، مانع حمل اشیا اور ادویات کی فراہمی وغیرہ شامل تھے۔اگر اس منصوبہ پر عمل جاری رہتا توپاکستان کی آبادی کبھی کی صفر فیصد کی افزائش پر پہنچ گئی ہوتی۔یعنی ہر شادی شدہ جوڑے کے اوسطاً دو بچے ہوتے۔ لیکن ملک کے مذہبی رہنمائوں کو اس منصوبہ میں ملک دشمن بیرونی طاقتوں کا ہاتھ نظر آیا ۔ انہوں نے خدشات ظاہر کئے کہ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ مسلمانوںکی تعداد بڑھے۔ اور رزق تو اللہ دیتا ہے۔لہٰذا منصوبہ بندی کا پروگرام بند کیا جائے۔چونکہ پروگرام صدر ایوب خان کے دورِحکومت میں شروع کیا گیا تھا، سیاسی مہم چلائی گئی جس سے ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اور بعد میں آنے والی حکومتوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ البتہ چونکہ اس پروگرام کے لیے ایک خطیر رقم بطور امداد ملتی تھی تو ایسی کاروائی کی جاتی رہی جس سے ملا بے خبر رہیں اور کھلم کھلا پروگرام کی حمایت بھی نہ ہو۔ اس کے نتیجہ میں خاندانی منصوبہ بندی پر آگاہی کی کاروائیاں بھی بند ہو گئیں سوائے ان کے جن سے کمیشن ملتا تھا۔، اورمانع حمل ادویات اور دیگر ذرائع بھی غائب ہوتے گئے۔
مذہبی شدت پسندوں نے صرف حکومت کو ہی خوفزدہ نہیں کیا ، غیر سرکاری رفاہی ادارے جو خاندانی منصوبہ بندی کے لیے کام کرتے تھے وہ بھی آہستہ آہستہ زیر زمین چلے گئے۔اب پروگرام میں عوام کو دینے کے لیے مانع حمل اشیا اور ادویات نہیں ملتیںکیونکہ بیرونی امداد والے اداروں نے ان کی سپلائی بند کر دی ہے۔ پاکستان کا تقریباً کُل انحصار انہی ذرائع پر تھا۔ حکومت کی ترجیحات میں مانع حمل اشیا نہیں ہیں کہ وہ خود درآمد کرے۔ کانفرنس میں پیش کردہ تحقیقی مقالوں میں ایک سے پتہ چلا کہ پڑھی لکھی خواتین اب جدید مانع حمل ادویات کے بجائے دیسی ٹوٹکوں پر گزارہ کر رہی ہیں، جو عموماً غیر موثرہوتے ہیں، اور شایدچار ملین خواتین کا حاملہ ہونے کی یہی وجہ ہے جو بچہ نہیں چاہتیں مگر موثر مانع حمل اشیا اور ادویات استعمال نہیں کرتیں۔بد قسمتی سے غالباً صدر محترم کو ان زمینی حقائق سے خبردار نہیں کیا گیا۔
پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت کرنے والے اداروں کی آواز مذہبی انتہا پسندی کے خوف سے بند ہوتی گئی۔ فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن نے کچھ عرصہ دلیری سے مقابلہ کیا اور پھر خاموشی سے اپنا کا م ایک نئے نام (رہنما) سے جاری رکھا۔ اس خوف کے ماحول میں، عمرانیات کے ماہرین نے اپنے پیشہ کی حفاظت اور تحقیق کو جاری رکھنے کے لیے غیر ملکی امداد کے اداروں کی مدد سے ایک رضا کار ادارے کی بنیاد ڈالی جس کا مقصدآبادی کے موضوع پر معاشرتی تحقیق کو جاری رکھنا تھا اور اس مضمون کے ماہرین کو ایک جگہ دینا جہاں وہ ملکر تبادلہ خیال کر سکیں اور اپنے پیشہ کی بہتری پر کام کر سکیں۔اس ادارے کا نام’’ پاپو لیشن ایسوسی ایشن آف پاکستان(پی اے پی)‘‘ رکھا گیا۔اپنے سالانہ اجتماعات میں یہ ادارہ ماہرین عمرانیات، آبادی کے مسائل پر حکمت عملی بنانے والے اور محقیقین کوجمع کرتے ہیں۔ا س موقع پر طلباء آبادی سے متعلق تحقیق پر اپنے مقالے پیش کرتے ہیں اور اکابرین دانشور حاضرین کو اپنے رائے سے مستفید کرتے ہیں۔
اس بار ایسو سی ایشن کی کانفرنس میںامریکہ میں مقیم ڈاکٹر عادل نجم، سابق وائس چانسلر LUMS جو ابھی بوسٹن یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، نے خطاب کیا ۔ عادل نجم ایک دانشور ہیں، اور ماحولیات ان کا محبوب مضمون ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں دلچسپی قائم رکھنے کے لیے اسے ایک کہانی کی شکل میں پیش کیا جس کی تین قسطیں تھیں۔پہلی قسط،ایک اچھوتا خیال کہ اگر ساری دنیا ایک ملک ہوتی تو وہ ایک غریب، تقسیم شدہ ملک ہوتا جس پر نا اہل حاکم مسلط ہوں، جس نے اپنی ہیئت کو ناکارہ بنا دیا ہو، ایک غصیلی اور غیر محفوظ دنیا، ہوتی۔ اس وقت دنیا ماحولیاتی تبدیلی کا شکار ہے۔ اور اس کا ماحول بدل رہا ہے۔ اس کی دوسری قسط نوجوانوں سے متعلق ہے۔ انسانی ترقی کے تین جزو ہیں: صحت، دولت اور علم۔ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم، روزگار اور شمولیت چاہییں۔ جناب عادل نجم ایک ایسے دانشور ہیں جو ہٹ کر سوچتے ہیں اور ان کی فکر نہ صرف عا لمگیر ہے بلکہ مستقبل کی طرف اشارے کرتی ہے، جو سبق آموز ہیں۔کانفرنس کے مختلف سیشن ایسے ترتیب دئے گئے تھے کہ تمام شرکاء کو محقیقن کی گزارشات سننے کا موقع ملے۔ ان میں ہم نے ڈاکٹر سونیا کی تحقیق کے نتائج سنے جو انہوں نے جنوبی پنجاب کی لیڈی ہیلتھ وزیٹز پر کی تھی۔ یہ تحقیق اعدادو شمار کی نہیں تھی بلکہ فوکس گروپ انٹرویو کے طریقہ سے کی تھی ۔ اس لیے ان کی تحقیق کے نتائج کو محدود اہمیت کا حامل سمجھا گیا۔سر سری طورپر انہوں نے لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کو پیش آنے والے مسائل بتائے جو توجہ طلب ہیں ۔جیسے یہ کہ اکثر مقامی اہل کار اور عہدیدار ان کو ہراسان کرتے ہیں۔انکو محکمہ سے ادویات نہیں ملتیں۔اور نہ ان کی دوبارہ ٹریننگ پر کوئی عمل کیا گیا ہے۔ اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کو نئی ذمہ واریاںسوپنے سے پہلے ان کی کارکردگی میں پیش آنے والے مسائل پر توجہ ضروردینی چاہیے۔ صدر محترم نے کہا ہے کہ بچوں کی پیدائش کا ماں کی صحت پر اثرات کا سمجھانا اور بچوں کی پیدائش میں وقفہ کے طریقہ بتانا، وغیرہ ایل ایچ وی کی ذمہ واری ہونی چاہیے۔اور محکمہ کو لیڈی ہیلتھ وزیٹر کے فرائض پر نظرثانی کرنا چاہیے، اوراس کے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنایاجائے۔
اس کے علاوہ اور دلچسپ تحقیقی مقالے پیش کیے گئے جیسے لڑکیوں میں بلوغت کے آثارکے مسائل، اور قریبی رشتہ دار لڑکے اور لڑکیوں میں شادی کے مسائل،اور ایک اہم سوال جو ذمہ وار حکومتی اہلکار نے کیاکہ کیوں پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی شرح کئی سالوں سے ایک مقام پر رکی ہوئی ہے؟ اس کو بڑھانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اس کاجواب صدرمحترم نے کسی قدر دے دیا ہے لیکن مسئلہ خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں کا ہے جو تتر بتر نظر آتی ہیں۔چونکہ خاندانی منصوبہ بندی کی ذمہ واری صوبوں کے پاس ہے، اس لیے پروگرام کی کامیابی یا ناکامی کا سہرا نہیں کے سر ہے۔ کچھ مندوبین کا خیال تھا کہ سندھ میں ایک فرض شناس افسر کی وجہ سے پروگرام بہتر ہے۔
آبادی پر کوئی بات چیت مکمل نہیں ہو گی جب تک کہ مردم شماری کے مسائل کا ذکر نہ کیا جائے۔ کانفرنس نے ایک سیشن اسی ٹاپک پر رکھ دیا تھا۔اس میں مردم شماری کے ماہرین نے مصر اور ایران کے ماہرین کو بھی سنا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مردم شماری جدید برقی آلات کی مدد سے کی جائے گی جس سے نتائج بہت جلد معلوم ہو سکیں گے۔ مصر اور ایران میں ایسے ہی کیا گیا اور کامیابی کے ساتھ۔ محکمہ شماریات نے بتایا کہ وہ اس پر کچھ عرصہ سے کام کر رہا ہے اسلیے اس پر عمل پیراہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔
پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام جن حالات سے دو چار ہے اس پر ایڈوکیسی (advocacy) کی سخت ضرورت ہے۔ جب ایک جیسے مقاصد رکھنے والے رفاہی ادارے ملکر، اور میڈیا کی اعانت لیکر، کسی ایک بڑے مقصد کے لیے مہم چلائیں تووہ کامیاب ہو سکتی ہے۔ حکومتوں پر دبائو بڑھانے سے ہی یہ مسئلہ حل ہو گا۔ پی اے پی کے مقاصد میں ایڈو کیسی شامل نہیں لیکن ان کی سفارشات اور حوصلہ افزائی سے کوئی اور ادارہ یا ایک بالکل نیا ادارہ اس مقصد کے لیے قائم کیا جا سکتا ہے جو ایڈوکیسی کی مہم چلانے پر کمر بستہ ہو جائے۔ ورنہ موجودہ حکومت یا کوئی بھی حکومت مذہبی انتہا پسندوں کی رضا مندی کے خلاف اٹھنے کی جرأت نہیں کرے گی۔ اور خاندانی منصوبہ بندی میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکے گی۔یاد رہے کہ پچپن سال پہلے جب بیرونی امداد میں مانع حمل ادویات آتی تھیں تو توقع تھی کہ وصول کنندہ ملک ایک وقت آنے پر یہ ادویات خریدنا شروع کر دیں گے۔ اس حکمت عملی کو یقینی بنانے کے لیے امداد دہندگان نے سوشل مارکیٹنگ کے پروگرام شروع کیے تا کہ عوام کو مانع حمل ادویات خرید نے کی عادت پڑے جو سال ہا سال سے خاندانی منصوبہ بندی کی دوائیاں اور خدمات مفت لینے کے عادی بن چکے تھے۔یہ تو طے تھا کہ ایک دن مفت کی مانع حمل دوائیاں وغیرہ ختم کرنی ہوں گی۔ اب اگر پاکستان منصوبہ بندی پروگرام کو بحال کرنا چاہتا ہے تو اسے پروگرام کے اخراجات خود ہی اٹھانے ہونگے۔ اور بہتر ہے عوام بھی ان دوائیوں اور خدمات کو خریدنے کے لیے تیار ہوجا ئیں۔