جرم کو دولت اور طاقت کی بنا پر تولا جارہا ہے!!

51

بقراط صاحب نہایت بے سری آواز میں گارہے تھے ’’وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے‘‘ کیا ہوا بھئی؟ اس نئی ریاست مدینہ کے نظام انصاف کا نوحہ پڑھ رہا ہوں‘‘ یہ جواب تھا۔ پرانی ریاست مدینہ میں چوری ڈاکے پر ہاتھ قلم کر دئیے جاتے تھے،سنگین جرائم پر سر قلم کر دئیے جاتے تھے۔ آج کی ریاست میں جرم دولت اور طاقت کی بنا پر تولا جاتا ہے۔ آپکوستر خون معاف ہونگے اگر آپکے پاس یہ دونوں موجود ہیں جنکے پاس نہیں انکے لئے جیلیں ہیں پھانسی کے پھندے ہیں۔ آج آپ دیکھئے قانون کے رکھوالے قانون کے ساتھ کیا بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔ جج صاحب اپنے بیان حلفی سے صاف مکر رہے ہیں۔ وکلاء کبھی ہسپتالوں پر ریڈ کرتے ہیں۔ املاک کو نقصان پہنچاتے مشینیں توڑ پھوڑ دیتے ہیں۔ مریضوں کو لگی آکسیجن کی نلکیاں کھینچ لیتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا بھرتہ بناتے ہیں۔ عدالتوں پر حملے کرتے ہیں۔ کیا کسی کو سزا ہوئی؟ مریضوں کی جانیں گئیں۔ کیا کوئی واویلا ہوا اورآج ایک سیشن جج عبدالجبار کو کمرہ عدالت سے گھیسٹ کر دوسرے کمرے میں بند کر کے مارا پیٹا گیا۔ گالی گفتار سے نوازا گیا اور پولیس تماش بینوں میں شامل تھی۔ ’’میں ہائے دل پکاروں تو ہائے گل پکار‘‘ کوئی شنوائی ہے؟ ارے کوئی انصاف کی کرسی پر بیٹھا ہے یا کوئی کاٹھ کا الو سن رہا ہے؟ یہ ہے نئی ریاست مدینہ؟
ایک سری لنکا کے شہری کے ساتھ TLPوالوں نے کیا سلوک کیا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو لوگ ممالک غیر سے وطن پاک میں آتے ہیں انکا درجہ معزز مہمانوں جیسا ہے اور مسلمانوں کے اجداد نے جو میزبانی کاطریقہ رکھا تھا اسے اپنانا چاہیے تھا لیکن یہ قوم اب جتنی اخلاق سے عاری ہے کوئی اور قوم نہیں۔ یہ لوگ جو اس بات کے دعوے دار ہیں کہ نبی کے سچے پیروکار ہیں انکا نعرہ ہے ’’لبیک یا رسول اللہ‘‘ یہ تو حدیثِ نبوی سے بے بہرہ ہیں۔ نماز بھی نہیں پڑھتے۔ عدالتوں میں جھوٹے قرآن شریف بھی اٹھا لیتے ہیں۔ یہ کیسے مسلمان ہیں؟ جنہوں نے ایک مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا جو گزشتہ 10سال سے سیالکوٹ میں رہائش پذیر تھا۔ وہ اگر توہین رسالت کا مرتکب ہورا تھا تو قانون موجود ہے۔ عدالتیں فیصلے کرتی ہیں۔ پولیس FIRدرج کر کے مقدمہ عدالت میں پیش کرتی ہے۔ ہر جرم کی سزا کے لئے ایک طریقہ کار ہے۔ ان تحریک والوں نے جو گزشتہ اداور حکومت میں کالعدم قرار دی گئی تھی چونکہ یہ دہشت گردی پر اتر آتے ہیں۔ ابھی حالیہ دھرنے وغیرہ میں انکے لیڈر کی گرفتاری کے موقع پر کیا دھما چوکڑی مچی تھی کتنی جانیں تلف ہوئی تھیں پھر بھی اس تحریک کو فعال کر دیا گیا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکومت انکے دبائو میں آگئی اور معاملے ریڈزون جانے سے بچانے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا۔
عوام اور اب سیالکوٹ میں جو انہوں نے اسلام کی دھجیاں اڑائی ہیں اس پورے ملک کی گردنیں شرم سے جھک گئی ہیں۔ کیا ظالمانہ کھیل کھیلا گیا ہے اور نعرہ تھا ’’لبیک یارسول اللہ‘‘ سری لنکاکے شہری کو گھونسوں لوہے کے سریوں سے بے دردی سے پیٹا گیا۔ ایک پاکستانی اسکے ہم پیشہ نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اسے بچانے کی کوشش کی۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کیا بچاتا۔ بہرحال اس نے اپنی اخلاقی رواداری تو دکھا دی۔ مہمان کو مارنے کے بعد آگ لگا دی گئی۔ اس فعل قبیح نے ملک کی بنیادیں تک ہلادی ہیں۔ سری لنکا کے وزیر نے بڑے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عمران خان سے پوری امید ہے کہ اس شہری کے اہل خانہ کو انصاف ضرور ملے گا۔ یہ لوگ جو اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں دراصل اس ظلم و بربریت کا اسلام میں کوئی حکم نہیں۔ انہیں انکے پیروکاروں نے حدیث، فقہ سے نابلد رکھا، یہ جہلاکا ایک ٹولہ ہے آرمی چیف اس ظلم کا نوٹس لیں اور پورا ملک اس ظلم کی مذمت کرے۔ اس فعل بد میں ایک چال بھی شامل ہے کہ دشمن یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے دوسرے ملکوں سے تعلقات خراب ہوں۔ ا س سے پہلے بھی پاکستان میں چینی شہریوں کو مارا گیا ہے۔ سو قانون نافذ کرنے والوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ یہاں پر آئے ہوئے غیر ملکیوں کی حفاظت کا مضبوط نظام بنایا جائے۔ جس وقت پوسٹر اتارنے پر ہنگامہ ہوا تھا فیکٹری مالکان بھی موجود تھے ۔ انہوں نے صلح صفائی کی کوشش بھی کی تھی لیکن اشتعال بڑھتے دیکھ کر وہ بھی رفو چکر ہو گئے۔ انہوں نے پولیس کو بھی مطلع نہیں کیا کہ بھاری نفری فراہم کی جاتی اور اس مظلوم انسان کی جان بچائی جا سکتی تھی جس سے زبان سے نابلد ہونے کی بنا پر ایک غلطی سرزد ہو گئی تھی۔ اس نے پتہ چلنے پر معافی بھی مانگ لی تھی مگر تشدد نہ رکا اینٹوں، ڈنڈوں سے مار کر ختم کیا پھر چھت سے نیچے پھینک دیا اور آگ لگا دی۔
جس ساتھی نے کمارا کو بچانے کوشش کی تھی وہ تاحال لاپتہ ہے۔ وزیراعظم نے ایک نفیساتی طریقہ اپنایا ہے۔ Punish and rewardیعنی برے کاموں پر سزا ار اچھے کاموں پر انعام دیا جائیگا۔ نظام انصاف اور قانون کو بہتر بنانے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ مجرمان کو سخت سزائیں دی جائیں گی تو جرم کرنے والوں میں خوف پیدا ہو گا۔ جرم کرنے سے پہلے وہ انجام پر ضرور غور کریں گے۔ اس طرح اچھے کاموں پر اگر کسی کو انعامات سے نوازا جائے گا تو معاشرے میں اُسے ایک باعزت مقام ملے گا اور لوگ بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ ملک عدنان کو وزیراعظم کا تمغہ شجاعت دینے کا اعلان ایک بڑا مثبت قدم ہے۔ لوگوں میں یہ شعورپیدا ہو گا کہ انکے اچھے کاموں کو سراہا جائے گا۔ ملک عدنان نے مشتعل ہجوم کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اگر کمارا سے کوئی غلطی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ہو گئی ہے تو اُسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ حالانکہ کمارا اُردو زبان سے نابلد تھا۔ اُسے بالکل یہ اندازہ نہیں تھا کہ جس پوسٹر کو وہ دیوار سے اتاررہا ہے اسپر کیا لکھا ہے۔ جن لوگوں نے نبی سے یہ منافقانہ محبت کا دعویٰ کیا ہے کیا نبی کو یہ فعل بد پسند آئے گا اور کیاوہ آپکو اپنا امتی تسلیم کریں گے؟ انکی شفاعت سے محروم ان لوگوں کا ٹھکانہ جنم ہی ہے۔