بھارتی آرمی کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی لاش کو ڈھوندنے کے لیے ڈی این اے کی تلاش کی جار ہی تھی!!

58

کشمیریوں کا ڈی این اے تبدیل کرانے کی خواہش رکھنے والے بھارتی آرمی کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی لاش کی ڈھوندنے کے لیے گھنٹوں ڈی این اے کی تلاش جاری رہی تب کہیں جا کر 10گھنٹے بعد لاش کی شناخت ہوسکی۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں لیکن کیا کریں مرنے والوں کی بعض باتیں یاد نہ رکھنا مشکل ہوتا ہے لیکن وہ باتیں جن سے دل دکھیں اور آنسوں نکل آئیں ان کا بھول جانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔ جی ہاں آج پورا بھارت آنسوں سے تر ہے لیکن وہ ’’بپن راوت‘‘ کو زند ہ نہیں کر سکتے، لیکن کشمیر کی تحریک آزادیٔ کشمیر کے آزاد ہونے تک زندہ رہے گی۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھارت سے روانہ ہوئے 48گھنٹے بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ روس کے جدید تر ین MI-17VP ہیلی کاپٹر جس میں بھارتی آرمی کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور اُ ن کی اہلیہ مدھولیکا راوت حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ وہ بھارت کے سب سے سینئر دفاعی اہلکار تھے اور ان کی اسی خصوصیات کی وجہ سے گزشتہ ایک سال کے دوران ان سے بھارتی فضائیہ اور انڈین نیوی کے سربراہ بہت ناراض تھے لیکن روسی صدر کے دورے کے دوران یہ بات چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی جانب سے کھل کر سامنے آگئی تھی کہ وہ یوکرین کے خلاف روسی آ پریشن کی حمایت اور امریکا کے مخالف تھے اور بھارتی حکومت کو اس بات پر رضامند کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ یوکرین پر روسی حملے کی صورت میں بھارت امریکا، ناٹو، اور یورپی ممالک کا ساتھ نہیں دے گا اور اس جنگ میں بھارت کسی کا حلیف نہیں بنے گا۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس کھیل کو کھیلنے والوں نے ایک تیر سے بہت سارے اہداف کو ہٹ کیا اور یہ حادثہ کسی طور پر حادثہ نہیں تھا۔ اس کی وجہ ہیلی کاپٹر 6000 ہزار فٹ پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن تباہ ہونے سے پہلے وہ کن بنیادوں پر نچلی فلائنگ کر رہا تھا۔ جدید تر ین MI-17VP ہیلی کاپٹر بھارت کے اعلیٰ حکام اور بھاتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی استعمال کر رہے ہیں۔ روس نے اس ہیلی کاپٹرکا کامیاب تجربہ 1975ء میں کیا تھا لیکن بھارت نے 2008ء میں خریداری معاہدہ کیا اور اس کو جدید تر ین MI-17VPہیلی کاپٹر 2011ء میں دیا گیاتھا۔
جنرل بپن راوت کو ملک کے پہلے چیفا آ ف ڈیفنس اسٹاف ہونے کا اعزاز حاصل ہے انہیں 2019 میں مقرر کیا گیا تھا، اور اس سے قبل وہ بھارتی فوج کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ ان کی شہرت ایک بہادر فوجی اور متاثر کن کمانڈر کی تھی، جن کے کبھی کبھی سیاست پر تبصرے تنازعات کو جنم دیتے تھے۔ پاکستان کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان پر جعلی سرجیکل اسٹرائیک کرنے اور پاکستان کو برباد کرنے کی دھمکی بھی ان کا معمول تھا لیکن وہ اپنی اس خواہش پوری کئے بغیر ہی دنیا رخصت ہو گئے۔
جنرل راوت 16 مارچ 1958 کو انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد انڈیا کی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل تھے جبکہ ان کی والدہ ایک سیاست دان کی بیٹی تھیں۔ اپنی فوجی تربیت کے دوران وہ بہترین کیڈٹ تھے اور نیشنل ڈیفنس کالج اور انڈین ملٹری اکیڈمی میں انہیں ’سورڈ آف آنر‘ سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے فورٹ لیون ورتھ، کنساس میں یونائیٹڈ اسٹیٹس آ رمی کمانڈ اینڈ جنرل اسٹاف کالج کے ساتھ تربیتی کورس بھی مکمل کیا تھا۔ 1978ء میں انہوں نے اپنے والد کے فوجی یونٹ 11 گورکھا رائفلز میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد وہ فوج میں کئی اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ ان کی مہارت اونچائی پر جنگ اور شورش کے خلاف آپریشنز میں تھی۔ وہ ایک ڈیکوریٹڈ آفیسر تھے جنہوں نے اکثر ملک کے شورش زدہ علاقوں میں یونٹوں کی کمانڈ کی تھی۔ 1980ء کی دہائی میں جب وہ کرنل تھے، تو انہوں نے چین کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ اپنی بٹالین کی کمانڈ کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 اگست 2019 کو لال قلعہ میں اپنی تقریر میں چیف آف ڈیفنس (سی ڈی ایس) کے عہدہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا 2015ء میں، جب وہ 3 کور کے انچارج تھے، جنرل راوت نے کسی غیر ملکی سرزمین میں انڈیا کی طرف سے پہلی سرکاری طور پر اعلان کردہ سرجیکل اسٹرائیک شروع کی تھی۔ اس وقت انہوں نے میانمر کے اندر ان ناگا باغیوں پر حملہ کرنے کے لیے ایک پیرا کمانڈو بٹالین کے دستے بھیجے تھے، جنہوں نے انڈین فوجیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔ وہ آرمی وائیوز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی سابق صدر بھی تھے۔
یہ حادثہ یا سازش کا سوال اس وقت ہی ختم ہو گیا جب یہ بات معلوم ہوئی کہ اس حادثے میں ان جنرل راوت کی اہلیہ مدھولیکا راوت بھی ہلاک ہو گئی ہیں۔ وہ آرمی وائیوز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی سابق صدر بھی تھیں۔ آرمی وائیوز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کے مطابق یہ تنظیم فوجی اہلکاروں کی بیویوں، بچوں اور زیر کفالت افراد کے لیے کام کرتی ہے۔ آرمی وائیوز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا قیام 1966 میں عمل میں آیا تھا اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی این جی اوز میں سے ایک ہے۔ مدھولیکا راوت فوجی اہلکاروں کی بیواؤں، کینسر کے مریضوں اور معذور بچوں کے لیے کام کرنے والی سماجی مہمات کا بھی حصہ تھیں۔ فوج سے قربت ہی شاید ان کی ہلاکت کی وجہ بنا دی گئی ہے۔
2019ء میں، نریندر مودی کی حکومت نے انڈیا کی بری، بحری اور فضائی فوج کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) کی پوزیشن قائم کی۔ لیکن 2020ء میں یہ عہدہ بری، بحری اور فضائی فوج کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کرنے کے بجائے شدید اختلاف کا عہدہ بن گیا تھا۔ جب جنرل راوت نے چارج سنبھالا تو حکمران بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) سے مبینہ قربت کی وجہ سے ان پر تنقید بھی کی گئی۔ انہوں نے ایک مرتبہ آسام میں مسلم اکثریتی آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ پارٹی کی مقبولیت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، اور اس تنظیم کا تعلق براہ راست طالبان سے جوڑنے کی بات بھی کرتے رہے ہیں جس کے بعد اقلیتی رہنماؤں نے ان پر بی جے پی کی زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت کی ہلاکت حادثہ ہے اور نہ ہی یہ بھارتی سازش! حقیقت یہ ہے یہ سب کچھ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ان ارکان کا کارنامہ جن کی کوشش ہے کہ بھارت امریکا کے جال سے نکلنے کی کوشش بھی کرے تو نہ نکل سکے۔