امریکی قانون سازوں کا افغان معیشت کی تعمیر نو کیلئے مدد کا مطالبہ

232

امریکا کے 9 سینئر قانون سازوں نے سیکریٹریز خارجہ اور خزانہ کو لکھے گئے خط میں افغانستان کی ناکام ہوتی معیشت کی تعمیر نو میں مدد اور اس کے اثاثے غیر منجمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔امریکی قانون سازوں کی یہ اپیل اسلام آباد میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موافق ہے جس میں افغانستان کی مدد کے لیے دستیاب آپشنز پر غور اور طالبان پر پالیسیوں میں نرمی کے لیے زور دیا جائے گا۔امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے طالبان حکومت سے اس کی پالیسیوں میں تبدیلی تک ڈیل کرنے سے انکار کردیا تھا۔امریکا بھی او آئی سی اجلاس میں شرکت کر رہا ہے اور اس نے اپنے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تھومس ویسٹ کو اسلام آباد بھیجا ہے۔ہفتہ کو اپنے ٹوئٹ میں تھومس ویسٹ کا کہنا تھا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کا یہ ’غیر معمولی اجلاس‘ افغانستان میں انسانی صورتحال پر توجہ مرکوز کرے گا اور پاکستان کے اجلاس طلب کرنے کے اقدام کو ’اہم اقدام‘ قرار دیا تھا۔امریکی قانون سازوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو امریکا، طالبان کو قانونی حیثیت فراہم نہ کرتے ہوئے افغانستان کی امداد پر منحصر معیشت کو تباہی سے بچانے میں مدد کے لیے اختیار کر سکتا ہے‘۔خط میں سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن اور سیکریٹری خزانہ جینٹ یالین کو مخاطب کیا گیا ہے اور اس پر ایوان نمائندگان کی تین طاقتور کمیٹیوں کے سربراہان نے بھی دستخط کیے ہیں۔قانون سازوں نے خط میں انتظامیہ کو یاد دلایا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ’ان مزید کروڑوں لوگوں کی مدد کریں جو سردیوں میں زندہ رہیں گے، اپنے بچوں کو کھانا کھلائیں گے اور پچھلے 20 سالوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کو محفوظ کریں‘۔انہوں نے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ ’افغانستان، معاشی تباہی کے دہانے پر ہے کیونکہ ایک کروڑ 84 لاکھ افغانیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 30 فیصد آبادی کو ہنگامی یا بحرانی سطح پر تحفظ خوراک کا سامنا ہے‘۔خط میں چار تجاویز دی گئی ہیں جن میں 9 ارب ڈالر سے زائد کے منجمد افغان اثاثوں کو اقوام متحدہ کی ایک مناسب ایجنسی کو جاری کرنا، افغانستان کے ساتھ کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے لیے پابندیوں سے استثنیٰ کو بڑھانا، کثیر الجہتی تنظیموں کو ضروری کارکنوں کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد کرنا اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو اقتصادی بحران کو روکنے کے لیے ضروری سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔