کپتان نے مخالفین کودھول چٹا دی، لیکن مسائل کم نہیںہوئے!

281

سمند پار رہنے والے پاکستانیوں کو مبارک ہو۔ انکی ایک دیرینہ خواہش پوری ہو گئی اور پاکستانی مقننہ نے قانون پاس کر دیا جس میں اوور سیز پاکستانیوں کو حق رائے دہندگی دے دیا گیا۔ اس کے مطابق، وہ آئیندہ عوامی انتخابات میں اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ ڈال سکیں گے۔بات تو خوشی کی ہے، لیکن اگر فوراً مٹھائی بانٹنے سے اجتناب کریں تو بہتر ہو گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ حزب مخالف اس فیصلہ کو عدالتی نظام کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ اور دوسرے، اس کا طریق کار نادرا نے وضع کرنا ہے، جس کے بارے میں انگریزی کی کہاوت ہے کہ پیالی اور ہونٹوں کے درمیان کے فاصلے میں کئی رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن بات خوشی کی یہ ہے کہ عمران خان نے ایک بظاہر نا ممکن کام ممکن کر دکھایا۔
ہوا ایسے کہ، قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں حکومتی ارکان اور مخالف سیاسی جماعتوں نے بھر پور شرکت کی۔ کیا سین تھا۔ وزیر اعظم بھی موجود تھے اور قانون سازی کا ایجنڈا طویل۔ مخالف جماعتیں عموماً اسمبلی کے اجلاس میں شرکت صرف ہلڑ بازی کے لیے کرتی تھیں۔ حکومت کے لیے ایک مسئلہ یہ تھا کہ جو بل اسمبلی پاس کرتی ہے انہیں سینیٹ سے بھی پاس کروانا پڑتا ہے۔ اور سینیٹ میں حکومتی ارکان کی تعداد ناکافی ہے۔ وہاں سرکاری بلِوں کا کوئی چانس نہیں۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ اسمبلی اور سینیٹ کا اکٹھا اجلاس بلا لیا جائے۔ چنانچہ حکومت نے کچھ اہم بل پاس کروانے تھے تو دونوں کا مشترکہ اجلاس بلا لیا گیا۔مخالفین نے اس دفعہ فیصلہ کیا کہ عمران خان کو اس اجلاس میں شکست دیں گے اور اس طرح اس کو بے عزت کریں گے اور نو کونفیڈینس کے موشن کی راہ ہموار ہو جائے۔ ادھر حکومت کو دو تین اہم بل پاس کروانے تھے ۔ جیسے کہ انتخابات میںالیکٹرونک ووٹنگ مشین استعمال کرنے کاقانون، بیرون ملک پاکستانیوں کو قومی انتخاب میں حصہ لینے کا قانون۔ ایک تیسرا قانون جو عالمی عدالت انصاف کا تقاضہ پورا کرتا تھا، وہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اپنی سزائے موت پر اپیل کا حق دیتا ہے۔یہ تینوں قوانین حکومت کے لیے اہم تھے اور مخالفین ہر حال میں ان کو پاس نہیں ہوتا دیکھ سکتے تھے۔ ان کے علاوہ عوامی ضرورتوں اور فلاحی کاموں پر کتنے ہی قوانین کے مسودے منظور ہونے تھے۔ جب پہلے تین قوانین پاس ہو گئے تو مخالفین جھلاتے ہوئے ، ایوان سے پیر پٹختے باہر نکل گئے۔ اور تحریک انصاف نے مزے سے باقی کے تیس بِل بھی پاس کروا لیے۔
سبحان اللہ۔ عمران خان ، جسے نا اہل کہتے انکی زبان نہیں تھکتی، اس نے نہایت چابکدستی سے سیاست کا پانسہ ایسا پلٹا کہ مخالفین دھول چاٹتے رہ گئے۔یہ ایک عبرت کا مقام تھا لیکن پاکستان کے لیے ایک سنگ میل، جسکی منزل کی طرف عوام کا قافلہ رواں دواں تھا۔اب مخالفین کو سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران خان کو کیسے چت کریں۔ ان کے لندن والے مفرور بھگوڑے لیڈر نے اپنی جماعت کو سخت سست کہا کہ وہ اسمبلی سے کیوں اٹھ آئے؟ وہاں بیٹھ کر ہنگامہ کرتے تو حکومتی بل پاس نہ ہوتے؟ بات تو ٹھیک تھی لیکن قادر مطلق کو کچھ اور ہی منظور تھا۔اب ان کا کٹھ پی ڈی ایم کے جھنڈے تلے نئی سکیمیں بنانے میں مشغول ہے، اور ان کو سمجھ نہیں آ رہا کہ عمران خان کو کیسے ہرایا جائے؟ مارچ میں لانگ مارچ کے مشورے ہو رہے ہیں۔ خدا جانے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ کاش ان لوگوں کو کبھی یہ بھی خیال آ جائے کہ پاکستان کن مشکلات کا شکار ہے اوروہ حکومت کی راہ میں کیسے روڑے اٹکا رہے ہیں؟ ایسی حکومت جو برسوں کے بعد ملک کی معیشت کو درست کرنے میں مصروف ہے۔نہ کھاتی ہے اور نہ کھلاتی ہے۔ سزاؤںکے لیے عدالتوں کو رخ کرتی ہے نہ کہ ماورائے عدالت سزائیں دیتی ہے۔
عدالتوں ذکر آیا تو یاد آیا کہ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس شمیم نے لندن میں اپنے مہربان میاں نوازسے ملاقات کے بعد ایک بیان حلفی وہیں سے داغا کہ انہیں یاد ہے کہ تین سال پہلے جب نواز شریف اور اس کی صاحبزادی کو لندن والے فلیٹس کے سلسلے میں سزا سنائی جانی تھی، تو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے متعلقہ جج کو فون کیا اور اسے کہا کہ وہ ان دونوں کو انتخابات سے پہلے رہا نہ کرے اور وہ چاہتے ہیں کہ خان صاحب کو حکومت ملے۔ یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ گلگت کے چیف جج نے یہ بیان اس وقت شائع کیا جب پاکستان کی عدالت میں مریم صفدر کی درخواست ضمانت سماعت کے لیے آنے والی تھی۔ چنانچہ مریم کے حلیفوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا کہ اس حلفی بیان کے بعد نواز شریف اور مریم پر مقدمہ قائم رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔ثاقب نثار نے کہا یہ سب جھوٹ ہے۔ دو روز بعد لندن کے پاکستانی صحافی بنام نورانی نے ایک آڈیو ٹیپ میڈیا پر شائع کر دی جس میں جسٹس ثاقب نثار کی ٹیلیفون پر جج صاحب کے ساتھ گفتگو سنائی گئی تھی۔جس کا ذکر گلگت کے جج نے کیا تھا۔جسٹس نثار نے کہا کہ یہ ان کی آواز ہی نہیں ہے۔ اورمریم نے کہا کہ اس ٹیپ کا فرانزک نیو یارک سے کروایا گیا تھا جس میں ٹیکنیکل بنیادوں پر کہا گیا تھا کہ آواز ثاقب صاحب کی ہی ہے۔ کچھ ٹی وی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیپ میں ثاقب صاحب کی مختلف تقریروں سے ٹکڑے جوڑ کر اس ٹیپ میں ڈالا گیا ہے۔ لہذا یہ فراڈ ہے۔نورانی صاحب پہلے بھی گڑ بڑ کرتے پکڑے گئے تھے اور شاید میاں صاحب کی خاطر پھر کچھ کر گذرے ہیں۔بہر حال، مریم کا جعلی ٹیپیں بنانا، وڈیو بنا کر بلیک میل کرنا ایک مشغلہ ہے جس کا شکار جج صاحبان بنتے ہیں، خصوصاً وہ جن کا تعلق میاں صاحب کے مقدموں سے ہوتا ہے۔مریم کو ذرا پرواہ نہیں کہ پاکستام کی عدلیہ کو وہ کس رنگ میں پیش کر رہی ہیں۔یہ عدلیہ پہلے ہی دنیا میں بد نام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مریم کیا اس ٹیپ کو اپنے مقدمہ کو مضبوط کرنے کے لیے عدالت میں پیش کریں گی یا صرف ایک نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گی؟
حکومت کی حکمت عملی نے کووڈ۔۱۹ پر خاصا قابو پا لیا ہے۔ اس کی شرح ایک فیصد سے نیچے آ گئی ہے۔ البتہ دوسری طرف ڈینگی نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ اور خاص و عام اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان وبائوں کے ساتھ موسم سرما کے خاص تحفہ سموگ نے بھی حملہ کر دیا ہے۔ اخبار والے اور ٹی وی والے بتا رہے ہیں کہ لاہور دنیا کا نمبر ایک سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا ہے، اگرچہ یہ رتبہ اکثر دہلی کے لیے مختص تھا۔سموگ دھند اور دھویں سے پیدا ہوتی ہے جو ہوا میں اڑتی ہوئی خاک کے ساتھ ملکر صحت کے لیے مضر ہوتی ہے۔ سموگ میں سانس لینے سے مختلف تکالیف ہو سکتی ہیں۔ سموگ کی کمی یا زیادتی گٹھتی بڑھتی رہتی ہے۔ سنا ہے بھارت کے50 شہر سب سے زیادہ آلودہ ہونے کی فہرست میں ہیں اور پاکستان کے 6۔یہ وبائیں اور موسمی حالات تو مہنگائی کے طوفان پر سونے پر سہاگا کی مصداق ہیں۔ مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ افغانستان میں غریب اپنے گھر کا سامان اور بچے تک بیچ رہے ہیں۔ پاکستان میں ایسی کوئی بات نہیں۔نہ کوئی بھوکا مر رہا ہے اور نہ کوئی گھر کاسامان بیچنے پر مجبور ہے۔ خدا نہ کرے کہ ایسا وقت آئے۔ البتہ پاکستانیوں کو کاریں چلانے کا بہت شوق ہے، اور موٹر سائیکل تو اتنے ہیں کہ اب دیہاڑی دار مزدور بھی موٹر سائکل پر آتے جاتے ہیں۔چنانچہ جب بھی عا لمی منڈیوں میں تیل کی قیمت بڑھتی ہے، تو پاکستان کو بھی لا محالہ قیمتیں بڑھانا پڑتی ہیں۔ جس پر غریبوں کی چیخیں نکلتی سنائی دیتی ہیں۔ وہ بھلا اپنی کاروں اور موٹر سائیکل میں پٹرول کیسے ڈلوائیں۔بات تو صحیح ہے۔ سڑکوں پر نکلیں تواتنی کاریں نظر آتی ہیں کہ جیسے ملک میں کوئی بے کار نہیں رہ گیا ہو۔عمران خان مہنگائی کا الزام سنتے سنتے تنگ آ گئے ہیں۔ وہ ٹیکس کا پیسہ لیکر پٹرول کی قیمت کم کرتے رہتے ہیں۔جس سے آئی ایم ایف کو سخت حیرانی ہوتی ہے۔ چنانچہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ آئیندہ قرضہ چاہیے توپٹرول کی قیمت بڑھائو۔ ہر مہینے چار روپے فی لیٹر۔ کیونکہ یہی ریٹ بنتا ہے۔اب غریب اپنی کاریں گیراج میں چھوڑ کر رکشا میں مزدوری ڈھونڈنے جاتے ہیں۔ پس چہ باید کرد۔راقم کو سمجھ نہیں آتی کہ ایک غریب ملک کو جس میں پٹرول باہر سے منگانا پڑتا ہے اور اس کے لیے زر مبادلہ لگتا ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہیں، کاریں کیوں درآمد کرتے ہیں؟ جب کہ سویڈن، ڈنمارک جیسے ملکوں میں لوگ بائیسکلوں پر کام پر آتے جاتے ہیں، ہمارے صاحب کار سے نیچے قدم نہیں اٹھاتے۔ تبھی ملک میں کئی اوسط عمر کے لوگ ذیابیطس، عوارض قلب اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں گھرے رہتے ہیں ۔ اگرعمران خان اپنے وزراء کو بایئسکل چلانے کا مشورہ دیں اور خود بھی چلائیں تو شاید کاروں کا رحجان کم ہو اور سڑکوں پر ٹریفک بھی کم ہو۔
لاہور میں تو سڑکوں پر چلنا محال ہے۔ سموگ ہویا سموگ نہ ہو، سڑکوں پر کاروں اور موٹر سائیکلوں کی یلغار اس قدر بے ہنگم ہے کہ آپ کسی بھی چو راہے پر پانچ منٹ میں تین حادثات دیکھ سکتے ہیں۔ پیدل کے لیے سڑک عبور کرنا، زندگی کا آخری سفر معلوم ہوتا ہے۔ آپ کے لیے کوئی مائی کا لال نہیں رکے گا، بس آنکھیں بند کریں اور سڑک کراس کرنا شروع کر دیں۔ اگر ماں کی دعائیں ساتھ ہیں تو شاید آپ بخیریت دوسری طرف پہنچ جائیں گے۔ نوجوان جو ہیلمٹ پہننا اپنی توہین سمجھتے ہیں، جلد یا بدییر سب سے زیادہ حادثوں کا شکار ہوتے ہیں۔ چونکہ اکثر موٹر سائیکل کے حادثات میں چوٹ سر پر لگتی ہے، زندگی سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ لیکن جناب ، وہ سوچتے ہیں، وہ کوئی اور ہو گا جس کا حادثہ ہو گا ، میں توایکسپرٹ ہوں۔ون وہیلنگ بھی کر سکتا ہوں۔ تنگ سے تنگ جگہ سے ایسے لہرا کر نکل جاتا ہوں کہ موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے والے بھی کیا ماہر ہوں گے؟۔ پھر ایک دن۔۔۔
پاکستان میں زندگی گزارنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔ گھروں میں محفوظ خواتین کے اپنے مسائل ہیں۔ ان کا مرد جب باہر سے تھکا ماندہ گھر آئے گا تو اسے کھانا کہاں سے دے؟ گھر میںگیس ہی نہیں آ رہی۔ پاکستان میں منصوبہ سازی کو پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اس لیے جب گیس دریافت ہوئی تو کہا گیا کہ ساٹھ سال تک کے لیے کافی ہے۔ یہ پچاس سال میں ہی خلاص ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس اثنا میں ہمارے موجدوں نے کار کو گیس سے چلانے کا گُر سیکھ لیا اور دھڑا دھر کاروں، ٹیکسیوں، رکشائوں اور بسوں میں گیس کے سیلنڈر لگ گئے۔جب گیس دریافت ہوئی تھی تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گیس سے کاریں اور رکشے ہی نہیں بلکہ ہیٹر اور پنکھے تک چلیں گے۔ اللہ کی شان۔ لو اب بھگتو، گھر کا چولہا جلانے کے لیے بھی گیس نہیں۔ اب آ جائو تاریک دور کی طرف۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ بجلی کا چولہا استعمال کریں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی ہو رہی ہے اور بلوں میں حیرت انگیز اضافہ اپنی جگہ۔
افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے کرپشن زدہ معاشرے میں سرکاری اہل کاروں نے قابل تجدید برقی قوت لگانے کے عمل کو روکے رکھا ، جیسے کہ ہوا چکی، سولر پینل، وغیرہ،کیونکہ اس میں ان کے لیے کچھ نہ تھا۔ اگر ہم گذشتہ بیس سال ایسے پلانٹ لگاتے رہتے تو آج اتنا برا حال نہ ہوتا۔ اس پر طرہ یہ کہ آبی ذخائر سے بجلی بنانے پر ہمارے نا اہل سیاستدانوں نے کوئی توجہ نہیں دی اور کالا باغ جیسے آسان بند بھی نہیں بننے دیئے گئے۔ ورنہ پاکستان کب کا بجلی میں خود کفیل ہو گیا ہوتا۔ اب جو ہو رہا ہے اور ہو گا، وہ ہمارا خود کردہ ہے جس کا ، کہتے ہیں، کوئی علاج نہیں۔