ہمارے فوجیوںنے بچایا،ورنہ!ابھی نندن کی چِتا پاکستان ہی میںجلتی!

221

بھارت آنکھوں میں دھول جھونکنے میں ماہر ہے۔ وہ ویڈیوز جو میڈیا پر کئی بار چلائی جا چکیں انہیں بھی جھٹلارہا ہے۔ ابھی نندن کا کارنامہ تو دنیا نے دیکھا، وہ پاک سرزمین پر بم گرانے آیا تھا۔ شکار کرنے آیا تھا خود ہی شکار ہو گیا۔ ہمارے شاہینوں نے ایک جہاز کشمیر کے علاقے میں نیست و نابود کیا دوسرا سرحدی علاقے پر گرا۔ کریش کی آواز سنکر قریبی گائوں کے لوگ آگئے۔ جہاز میں آگ لگی ہوئی تھی ابھی نندن آزاد ہو کر بھاگنے کی کوشش کررہا تھا کہ گائوں والوں نے پکڑ لیا اور وہ درگت بنائی کہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔ وہ ڈر کر ایک تالاب میں بھی کودا تھا لیکن گوشمالی سے اپنے آپ کو بچا نہ سکا۔ وہ تو خیریت ہو گئی کہ قریب ہی آرمی چھائونی سے دو کیپٹن دوڑتے ہوئے آئے اورانہوں نے ابھی نندن کو انکی یلغار سے بچایا۔ بہرحال موصوف کا حلیہ ویسے ہی عجیب، ساتھ مونچھیں بالکل ہنومان جیسی رکھی ہوئی تھیں۔ اب چہرہ مارپیٹ سے سوج چکا تھا۔ وہ خیر ہو گئی کہ ہمارے کیپٹن آگئے انہوں نے بچا لیا ورنہ عوام انکا بھرتہ بنا دیتے۔
یہ تو ابھی نندن کی بہادری کی کہانی تھی جو انہوں نے خود بیان کی انکا جہاز’’ٹٹ‘‘ گیا تھا اور کیا حشر انکا بنا تھا۔ ہماری فورسز کی مہمان نوازی کی بھی انہوں نے تعریف کی تھی جنہوں نے انکی مرہم پٹی کی اور انہوں نے کھانا تناول فرمایا۔ چائے کی تعریف کی۔ نشانی کے طور پر وہ پیالی اور انکی بوسیدہ یونیفارم ابھی تک پاکستان میں محفوظ ہے اور وہ جو سوٹ یا پینٹ شرٹ پہن کر اپنے ملک سدھارے تھے اسکی واپسی بھی ممکن نہ ہو سکی۔ یہ کس افسر کا لباس تھا پتہ نہیں۔ جس وخت انہیں انکے لوگوں کے حوالے کیا گیا تو وہ خاصے شرمندہ بھی تھے۔ بہرحال جو انہیں لینے آئے تھے انکے چہرے بھی اترے ہوئے تھے۔ ایک ہارے ہوئے جواری کی تصویر پیش کررہے تھے۔ یہ سب میڈیا پر دکھایا گیا تھا لیکن آج یہ خبر سنکر حیرت کے سمندر میں غوطے لگانے پڑے کہ ابھی نندن کو اسکوارڈن لیڈر سے ترقی دے کر گروپ کیپٹن بنا دیا گیا ہے اور تیسرا بھارتی بڑا تمغہ ’’چکراویر‘‘ بھی عنایت کر دیا گیا توجیح یہ پیش کی گئی کہ انہوں نے پاکستانی طیارہ F-16مار گرایا ہے۔ F16امریکی طیارہ ہے اور امریکہ نے تصدیق کر دی کہ پاکستان کو جتنے طیارے دئیے گئے تھے وہ سب موجود ہیں۔
ذرا سوچیئے اس کھلی آنکھوں سے دیکھنے والے جھوٹ کو کس کھاتے میں رکھا جائے گا اور بھارتی تمغوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ جن فوجیوں نے حب الوطنی کے جذبے کے تحت اپنی جانیں قربان کی ہونگی انکو ملے ہوئے تمغوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ سب یہی سوچیں گے ان لوگوں نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا پتہ نہیں رشوت کے بل بوتے پر یا سفارشی لوگوں کی وجہ سے یہ تمغے عنایت ہوئے۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن پاکستان کا قیدی تھا اور اسے جذبۂ خیر سگالی کے جذبے کے تحت چھوڑدیا گیا تھا۔ اسے عہدے پر ترقی دینا اور تمغے سے نوازنا نہ صرف تمغوں کی بلکہ عہدوں کی بھی توہین ہوئی ہے۔ اب کون انکی حیثیتوں کو مانے گا۔ ابھی نندن کی تو چتا شاید پاکستان ہی میںجلتی اگر ہمارے فوجی جونوں نے برانگختہ عوام سے اُسے بچایا نہ ہوتا۔
دوسرا بھارتی نیوی کا افسر یادیو داخل جیل خانہ ہے جسکے بارے میں کہاجارہا ہے کہ اُسے NROدے دیا گیا۔ قصہ دراصل یہ ہے کہ اس موذی کا مقدمہ بھارت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے گیا۔ اگر پاکستان کی طرف سے خاموشی رہتی تو یہ کیس اپنے آپ ختم ہو جاتا لیکن نواز شریف کا بہنوئی وہ مودی بھارتی پردھان منتری تھا اسکی خوشنودی میں پاکستان نے بھی اپنی ٹانگ پھنسا دی اور اب اسے کورٹ کی بات ماننی پڑیگی کہ کل بھوشن یادیو کے لئے وکیل کا انتظام کیا جائے۔ سارے ثبوت اس قاتل کے بارے میں موجود تھے جیسی اس نے تباہی مچائی تھی۔ اُسے سزائے موت ہو چکی تھی لیکن نواز شریف کو تو ملک سے کوئی واسطہ نہ تھا بلکہ اُسے تو اپنا مفاد عزیز تھا۔ سو یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیاحالانکہ بھارت بھی اب اسکی موت ہی کا متمنی ہے۔