تمام تر آڈیو اور ویڈیو لیکس کے باوجود نسلہ ٹاور کا ایشو چھائے رہنا اہل کراچی کیساتھ زیادتیوں کا ثبوت ہے!

208

حکومت بھر میں آئے دن آڈیوز ویڈیوز لیک ہو ہو کر سامنے آرہی ہیں۔ کبھی جسٹس شمیم کی آڈیو اور حلف نامہ آرہا ہے تو کبھی مریم صفدر کا آڈیو نمبرون تو پھر آڈیو نمبر ٹو آرہا ہے، کبھی دو دو ہزار روپے لے کر قرآن پر ہاتھ رکھ کر ووٹ خریدنے کی نون لیگ کی ویڈیو سامنے آرہی ہے تو کبھی ووٹ برائے نوٹ کی پیپلز پارٹی کی ویڈیو کا افتتاح ہورہا ہے۔ ان سب طرفہ تماشوں کے باوجود پرنٹ اور الیکٹرونکس میڈیا میں ایک مسئلہ پھر بھی سرفہرست رہا اور وہ ہے کراچی میں کئی منزلہ رہائشی عمارت ’’نسلہ ٹاور‘‘ کا انہدام کا معاملہ۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم جاری کیا تھا کہ چونکہ نسلہ ٹاور غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے اس لئے اسے گرا دیا جائے اور حکومت سندھ اس ٹاور میں رہائش پذیر چوالیس مکینوں کو بیدخلی کے باعث موجودہ (کرنٹ) مارکیٹ ویلیو کے حساب سے معاوضہ دیا جائے مگر اس سارے معاملے میںحیرت انگیز بات یہ ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ عدلیہ کی طرف سے آدھا انصاف فراہم کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلے حکومت سندھ کے ان متعلقہ محکموں اور ان افسران کے خلاف کارروائی کر کے تختہ دار پر لٹکانے کا حکم آنا چاہیے تھا کیونکہ اس جرم کا آغاز تو ان ہی سے ہوا تھا۔ اگر وہ بھاری رشوتیں ’’آباد‘‘ جیسے بلڈرز سے پکڑ کر غیر قانونی طور پر جعلی کاغذات تیار کر کے پرمٹ اور اجازت نامے نہ جاری کرتے تو یہ تعمیر ناممکن تھی۔ ہم اپنی مثال دیتے ہیں کہ آج سے 40سال بیشتر ہمارے والد نے ہم چاروں بھائیوں کیلئے سپر ہائی وے پر احسن آباد کے ٹائون میں چار چار سو گز کے چار پلاٹس لیکر ڈال دئیے تھے۔ ہم لوگ اس وقت سکول میں پڑھتے تھے۔ ایک مرتبہ والد صاحب ہمیں لے کر ہماری زمین دکھانے بھی لیکر گئے تو ہم سب مذاق میں کہنے لگے کہ ابوجی کم از کم پچاس سال بعد یہ علاقہ کراچی سے نزدیک تر ہو کر شامل ہو سکے گا۔ بہرحال وہ ہر کام بہت قانونی اور پرفیکشن کیساتھ کرتے تھے تو ہر ایک کے پلاٹ کی ایک فائل تمام تر کاغذات اور ادائیگی کے ثبوت کیساتھ محفوظ طریقے اور جگہ پر رکھ دی گئی۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگی اور احسن آباد بڑی تیزی کیساتھ کراچی میں شامل ہو گیا اور اس زمانے میں پچیس پچیس ہزار میں لیے گئے ان پلاٹوں کی قیمتیں آسان کو چھونے لگیں اور لاکھوں روپوں تک پہنچ گئیں۔ ہم تینوں بھائی کینیڈا اورامریکہ منتقل ہو گئے اور ایک کراچی میں رہے۔ تینوں نے وقتاً فوقتاًکراچی میں زمینوں کو اچھے داموں فروخت کر دیا۔ ہم یہاں اتنے مصروف رہے کہ جانے کا کم کم موقع ملا اور پھر مختصر عرصے کے قیام کے باعث اپنی چارسوگز کی زمین کو بیچنے کا موقع نہیں ملا۔ پھرتقریباً آج سے بیس سال قبل جب ہم کراچی گئے تو پتہ چلا کہ ہماری چارسوگز کی زمین کو تو کسی اور صاحب نے اپنے نام منتقل کراکے اسکودو دو سو گز میں تقسیم کر کے دو مختلف پارٹیوں کو بیچ دیااور انہوں نے وہاں پر ملٹی سٹوری عمارتیں بنا کر رینٹل پراپرٹی میں تبدیل کر کے گھر بیٹھے پیسے بنارہے ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ ہمارے پلاٹ کی اس کاٹ، چھانٹ، بانٹ میں کیا یہ ممکن ہے کہ اس میں سندھ حکومت کا عملہ شامل نہ ہو؟ جعلی کاغذات بغیر کسی بابو کی مدد کے کیسے ممکن ہے۔ ہم آج بھی اپنی فائل لیے بیٹھے ہیں جس میں تمام تر قانونی کاغذات پڑے ہمارا منہ چڑا رہے ہیں۔ تو خریدنے والا تو ذمہ دار نہ ہوا نہ کیونکہ اس نے تو پیسے ادا کیے اصل ذمہ دار تو وہ سٹاف ہے جس نے رشوت لیکر بلڈر کے نام پہ پلاٹ کر دیا۔ ’’آباد‘‘ بلڈر نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کے ساتھ ملکر آنسوبہارہے ہیں مگر اصل میں وہ ہی اصلی کردار ہیں جس نے بھاری رشوتیں دیکر وہ زمین حاصل کی اور بزنس کمایا۔ عدلیہ اور چیف جسٹس صاحب بھی اتنے معصوم نہیں ہیں کہ انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ سندھ کے کوٹے پر بھرتی ہو کر آنے والوں نے کس کس طرح سے کراچی کو لوٹا اور نوچا ہے اور اسی لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ کراچی والوں کو صرف نوکریاں اور داخلے ہی نہیں بلکہ انصاف بھی پورا نہیں ملتا، ادھورا انصاف اور بھی تحریک انصاف کی حکومت میں؟ ہم کراچی والے کس کس بات کا رونا روئیں؟