چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے!!

262

کمال بھائی بڑے ہی کائیاں قسم کے انسان تھے، چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کے مصداق وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنالیا کرتے تھے،پینتیس سال عمر ہونے کے باوجود شادی کرنے سے گریزاں تھے کہ اگر بیوی آگئی تو میرا بینک بیلنس بجائے بڑھنے کے کم ہوجائے گا تو کمال بھائی قناعت پسند بیوی نہ ملنے کے باعث کنوارے تھے، کمال بھائی کی بوڑھی ماں اپنے اکلوتے بیٹے کو کنوارہ دیکھ کر شدت غم سے بستر پر پڑگئی،کمال بھائی کو مجبوراً ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک عورت کے لئے اخبار میں ایڈ دینا پڑا، اتوار کو درجن بھر عورتیں گھر میں موجود تھیں،کمال بھائی باری باری انٹرویو لیتے لیکن جب تنخواہ کی بات آتی تو دس ہزار سن کر ہر عورت ”در فٹے منہ” کہہ کر گھر سے نکل جاتی،کمال بھائی عورتوں کی ناشکری پر افسوس کرتے ہوئے خود بھی مایوس ہوگئے اور اب پندرہ ہزار کی نیت کرکے دوسری کا انتظار کرنے لگے،دوپہر کھانے کے بعد ان کا انتظار ایک پچیس سالہ حسین خاتون نے ختم کردیا، کمال صاحب نے جیسے ہی انٹرویو کے لئے اپنا منہ کھولااس سے پہلے ہی خاتون ہاتھ جوڑے بولی ”صاحب مجھے بس دو وقت کا کھانا وہ بھی بچا ہوا، تین ماہ میں ایک سستا والا لان کا سوٹ اورگھر کا کوئی بھی فالتو کونا سونے کے لئے دیدیں میرے لیے بس یہی کافی ہے” کمال بھائی اس پُرفتن دور کی رابعہ بصری کو دیکھ کر عش عش کر اٹھے،بیساختہ منہ سے ”سبحان اللہ” نکلا اور تسلی کے لئے مزید پوچھنے لگے” اے نیک پروین اپنا ڈیٹا بھی بتادو” نیک پروین سے معلوم ہوا کہ اس کے والدین کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ اپنے بڑے بھائی کے گھر پر ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے لیکن وہ ذلت کی سو روٹی پر عزت کی ایک روٹی کھانے کو ترجیح دیتی ہے تو یوں یہ ان کے گھر پر عزت کی ایک روٹی کے لیے یہاں آگئی، کمال بھائی اسے کام سمجھاکر سیدھا وضو کرنے گئے اورپہلے دو رکعت شکرانے کے نفل پڑھے اور مطمئن ہوکر کمرے میں جاکر قیلولہ کرنے لگے، دو ہفتے مسلسل نیک پروین کو چیک کرنے کے بعد ایک بار پھر سے دو رکعت شکرانے کے پڑھے کہ میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ رابعہ بصری ملی، نفل پڑھنے کے دوران ہی ان کے دماغ میں بجلی چمکی کہ کیوں نہ اس رابعہ بصری کو شریک حیات بناکر اپنی حیات بل گیٹس جیسی بنالی جائے، یہ خیال کیا آیا، کمال بھائی نے سلام پھیرتے ہی مزید دو رکعت پڑھیں اور اللہ سے مدد کی دعا کرکے خوشی خوشی لاؤنج میں آگئے اور بڑے پیار اور عزت کے ساتھ اپنی نیک پروین کو آواز لگائی ”محترمہ سنئے” محترمہ پلک جھپکتے ہی سامنے موجود ہوگئیں ” جی صاحب کہئے” کمال بھائی بڑے احترام کے ساتھ گویا ہوئے ”کیا آپ میری تاحیات شریک سفر بننا پسند کریں گی” کمال بھائی کی بات سن کر رابعہ بصری نے بغیر کوئی جواب دیے پہلے دو رکعت شکرانے کے پڑھے اور پھر سامنے آکر ان کے پاؤں میں بیٹھ کر اپنی رضامندی سے کمال بھائی کو نوازدیا اور پھر اس خوشی میں دونوں نے دو رکعت شکرانے کے پڑھے، کمال بھائی کی ماں بھی بڑی خوش ہوئی کہ چلو اب میری نسل پر منڈلاتا خطرہ ٹلا، اگلے دن صرف گواہان اور قاضی کی موجودگی میں دونوں کا نکاح ہوگیا، ولیمے کی سنت اس کے اگلے دن درجن بھر افراد کو پانچ کلو کی آلو چاول کی بریانی کھلاکر پوری کردی گئی اور کمال بھائی خوشی خوشی گھر سے دکان اور دکان سے گھر آتے رہے، چہرہ کھل کر گلابی ہونے لگا دو مہینے بعد ایک دن جب دکان سے گھر آئے تو ان کی نیک پروین نے خوشخبری سنائی جسے سن کر کمال بھائی نے پہلی بار اپنی جیب سے دو سو روپے نکالے اور نکتی دانے محلے کے بچوں کو کھلائے، بچے حیران بڑے پریشان کہ آج سورج مشرق کے بجائے مغرب سے کیسے نکل آیا، اگلے دن اپنی رابعہ بصری کو لیے ڈاکٹرنی کے پاس گئے لیکن جب جیب سے دس روپے نکال کر ڈاکٹرنی کے ہاتھ میں رکھے تو معلوم چلا کہ پچیس سال قبل کے ڈاکٹر واقعی اللہ کے ولی تھے، ڈاکٹرنی اپنی یہ توہین برداشت نہ کرسکی اور ان پر غصہ کرنے لگی اب اس میں کمال بھائی کا بھلا کیا قصور تھا بیچارے وہ تو پچیس سال بعد کلینک پر قدم رکھ رہے تھے کیونکہ وہ جب بھی بیمار پڑے پہلے ڈسپرین کی بعد میں پیناڈول کی گولی کھاکر صحت یاب ہوجایا کرتے تھے، آپس کے مذاکرات کے بعد غلط فہمی دور ہوئی اور پھر ہر ہفتے کلینک کے چکر لگنے لگے، کمال بھائی کا وزن ڈاکٹر کی فیس اور اس سے تین گنا زیادہ دوائیوں کا بل کم کرنے لگا، کمال بھائی کو ایک طرف تو جیب خالی ہونے کا غم کھائے جارہا تھا تو دوسری طرف اپنی اولاد کی صورت میں اپنا بڑھاپا روشن نظر آرہا تھا تو دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی جیب ڈھیلی کرتے رہے البتہ دو بچے خوشحال گھرانے کے ضرور تہہ دل سے قائل ہوگئے تھے لیکن جب ڈاکٹر نے انہیں اپنی بیوی کے بیڈ ریسٹ اور ان کی خدمت کرنے کا کہا اور انہوں نے عمل کرنا شروع کیا تو دو بچے خوش حال گھرانہ کو ایک ہی بچہ اور خوش حال گھرانہ میں تبدیل کردیا، اب ان کی رابعہ بصری کچھوے کی چال سے حسینہ پارکر بننے لگی، جو پہلے اپنے مجازی خدا کو اُٹھ کر پانی بھی نہیں پینے دیتی تھی وہی آج پانی پینے کے لیے اپنے مجازی خدا کو آواز لگانے لگی کمال بھائی بیچارے ایک ہفتے میں ہی آدھے ہوگئے اور پہلے بیس ہزار تنخواہ دینے کا سوچ کر پانی پانی ہوجایا کرتے تھے وہی کمال بھائی اپنی ماں،بیوی اور گھر کے کام کے لئے تیس ہزار سیلری پر کام والی رکھنے پر مجبور ہوگئے، آج کمال بھائی چار بچوں کے باپ بن چکے ہیں، کھلتا چہرہ مرجھا چکا ہے، اچھے شیف ہونے کے ساتھ بچوں کو پالنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں،ان کی مہارت دیکھتے ہوئے ان کی رابعہ بصری انہیں پانچواں تحفہ دینے والی ہیں، کمال بھائی آج بھی چھ سال پہلے کا سنہری دور یاد کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے ساڑے گیارہ آنسو ٹپ کرکے نکل جاتے ہیں اور ان کی ماں جب انہیں آنسو بہاتے دیکھتی ہیں تو انہیں یہ کہہ کر مزید درد میں مبتلا کردیتی ہیں ”بیٹا اگر تو میری بات پہلے ہی مان لیتا تو مجھے یوں ٹیڑھی انگلی سے گھی نہ نکالنا پڑتا” ویسے کمال بھائی آج بھی چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے پر صدق دل سے عمل کرتے ہیں لیکن جب گھر میں اپنا قدم رکھتے ہیں تو چمڑی کے ساتھ دمڑی بھی جائے کا چلتا پھرتا نمونہ بن جاتے ہیں!!!