یہ سیارہ پگھلتے ہوئے لوہے سے بنا ہے!

373

برلن / چلی / سان تیاگو / ٹیکساس: ماہرینِ فلکیات کی ایک عالمی ٹیم نے زمین سے 31 نوری سال دوری پر ایک ایسا سیارہ دریافت کرلیا ہے جس کا بیشتر حصہ لوہے سے بنا ہے جبکہ وہ اتنا گرم ہے کہ وہاں لوہا بھی پگھلنے لگے۔

اس نودریافتہ سیارے کا نام ’’جی جے 367 بی‘‘ (GJ 367b) ہے اور یہ جنوبی آسمان کے ’’ویلا‘‘ نامی جھرمٹ میں ایک ستارے (جی جے 367) سے بہت قریب رہتے ہوئے اس کے گرد چکر لگا رہا ہے۔

فلکیاتی مشاہدات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ سیارے کے جس حصے کا رُخ اس کے مرکزی ستارے کی طرف ہوتا ہے، وہاں پر سطح کا درجہ حرارت تقریباً 1500 ڈگری سینٹی گریڈ ہوجاتا ہے؛ جس کی وجہ سے وہاں موجود لوہا بھی شاید پگھلی ہوئی حالت میں ہو۔ (زمینی ماحول میں لوہا 1538 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے۔)

ماہرین کو اس سیارے کے اوّلین شواہد ’’ٹرانزٹنگ ایگزوپلینٹ سروے سٹیلائٹ‘‘ (ٹی ای ایس ایس) سے حاصل شدہ ڈیٹا کے تجزیئے میں ملے۔ ٹی ای ایس ایس، ناسا کا بنایا ہوا سیارچہ ہے جسے بطورِ خاص دوسرے ستاروں کے گرد سیارے ڈھونڈنے کےلیے خلاء میں بھیجا گیا ہے۔

ابتدائی شواہد کے بعد طاقتور زمینی دوربینوں کی مدد سے بھی اس سیارے کے مقام، اپنے مرکزی ستارے سے اس کی قربت، اس کی کیمیائی ترکیب اور درجہ حرارت وغیرہ جیسی دوسری خصوصیات کے بارے میں مزید معلومات جمع کی گئیں اور ان کی اطمینان بخش حد تک تصدیق کی گئی۔

اسی دوران یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ مذکورہ سیارے میں دیگر عناصر کے مقابلے میں لوہے (آئرن) کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ یعنی ہم اسے ’’لوہے کا سیارہ‘‘ بھی قرار دے سکتے ہیں۔