یوکرائن کے معاملے پر امریکا اور روس آمنے سامنے

373

ماسکو: صدارتی انتخابات میں مداخلت کے بعد اب امریکا اور روس کے درمیان تنازع اور کشیدگی کی وجہ یوکرائن بن گیا ہے جس پر دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرائن میں روسی مداخلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر روس نے عسکری کارروائی کی تو یوکرائن کی مدد کریں گے۔امریکی صدر جوبائیڈن نے روس کو حملوں سے باز رہنے کی تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ یوکرائن پر روسی حملے کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اُٹھائیں گے۔خیال رہے کہ امریکی کی خفیہ ایجنسی نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اطلاع دی تھی کہ روس نے آئندہ برس کے اوائل میں یوکرائن پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔قبل ازیں یوکرائن اور نیٹو بھی روسی حملے کے خطرات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ادھر روس نے امریکی دھمکیوں کو داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرائن پر حملے کا بہانہ بناکر کچھ لوگ روس کی قومی سلامتی پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں، ایسے لوگوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔واضح رہے کہ روس اور یوکرائن کے درمیان تنازع کا آغاز 2014 سے ہوا تھا جب روس نے یوکرائن کے مشرقی صنعتی علاقے ڈونباس میں علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی حمایت کی تھی۔