افغانستان میں بین الاقوامی پابندیاں اشتعال پیدا کر رہی ہیں، ریڈ کراس

33

ریڈ کراس کے اعلیٰ عہدیداران کا کہنا ہے کہ معاشی پابندیاں افغانستان کو بحران میں مبتلا کر رہی ہیں، انہوں نے ان حالات کو ’مشتعل‘ قرار دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے 6 روزہ دورے کے بعد جاری کردہ بیان میں ریڈ کراس کی انٹر نیشنل کمیونٹی کے ڈائریکٹر ڈومینک اسٹل ہارٹ کا کہنا تھا کہ ’میں ان حالات سے بے چین ہوں‘۔

انہوں نے کہا ’ہم نے ہڈیوں کی طرح دبلے بچوں کی تصاویر دیکھیں جو باعث خوف ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ قندھار کے بڑے ہسپتال میں اطفال وارڈ میں کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کو بھوکے بچوں کی خالی نگاہیں اور والدین کےافسردہ چہرے دیکھائی دیتے ہیں یہ حالات غضب ناک ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ حالات غضب ناک ہے کیونکہ شہری ان حالات میں پریشانی میں مبتلا ہیں‘۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما میں کم و بیش 2 کروڑ 20 لاکھ افغانی یا تقریباً نصف قوم ’شدید’ کھانے کا بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی وجہ گلوبل وارمنگ اور معاشی بحران کے مشترکہ عوامل ہیں جو اگست میں طالبان کے قبضے کے بعد سامنے آئے ہیں۔