تماشہ مرے آگے!!

55

عمران خان کی حکومت ان دنوں حصار میں ہے اور یہ حصار خود حکومت کا پیدا کردہ ہے بلکہ یوں کہنا قرین از حقیقت ہوگا کہ عمران کی اپنی انا کا اس حصار کو جنم دینے میں بڑا حصہ ہے در اصل عمران خان کی بھی مشکل وہی ہے جو ان سے پہلے اور حکمرانوں کی رہی ہے، خاص طور پہ ان حکمرانوں کی جن میں ان کی اپنی ذات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت یا تو تھی ہی نہیں اور اگر تھی بھی تو بہت محدود تھی۔ یہ وہ لوگ تھے، بلکہ عام طور سے ہمارے حکمراں طبقوں میں پائے جاتے ہیں، جو عزت نفس اور انا کے بیچ کی لکیر کو دیکھنے اور سمجھنے کی صفت سے محروم ہوتے ہیں۔ عزت نفس ہر انسان کیلئے، ہر اس انسان کیلئے جو عزت کی زندگی گذارنا چاہتا ہے ضروری ہوتی ہے۔ جس انسان میں عزت نفس نہ ہو وہ انسانیت کے شرف سے گرجاتا ہے لیکن انا عزت نفس کی ضد ہے بلکہ کہنا چاہئے کہ وہ زہر ہے جو اگر شخصیت میں رچ جائے تو پھر انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ انا غرور اور تکبر کی پیداوار ہے اور اسی لئے انا کے شکار اپنی ذات، اپنی مرضی اور اپنے فیصلے کو سب سے اہم سمجھتے ہیں اوراس عمل میں انہیں اکثر ٹھوکر ہی کھانی پڑتی ہے۔
عمران نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے قضیہ میں فوج کی قیادت سے جو مفت کا جھگڑا مول لیا وہ تمام تر ان کی انا کا مسئلہ تھا جس نے دنیا بھر میں پاکستان کو ایک مذاق بنادیا اور اس مفت کے جھگڑے کا نتیجہ کیا نکلا؟ وہی ڈھاک کے تین پات۔ بالآخر وہی جرنیل اس اہم قومی ادارے کا سربراہ بنا جسے فوج نے نامزد کیا تھا لیکن عمران نے محض اپنی انا سے مغلوب ہوکر اس معاملہ کو طول دیا، اسے بلاوجہ لٹکائے رکھا اور نتیجہ میں اپنے ہی منہ پر کالک ملوانے کا سامان کیا۔
انا گزیدہ کا حشر وہی ہوتا ہے جو اُردو کی ایک ضرب المثل میں یوں پوری صراحت سے بیان ہوگیا ہے جیسے کوزہ میں سمندر سمیٹ دیا جائے اور وہ یہ کہ جس شاخ میں لچک نہیں ہوتی، جھکنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ شاخ ٹوٹ جاتی ہے اور پھل لاتی ہے وہ شاخ جو ہوا کے سامنے جھکنے سے جھجکتی یوں نہیں ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہوا جب اپنی طاقت صرف کرکے چلی جائیگی تو شاخ اپنی لچک کے ساتھ اسی مقام پہ واپس چلی جائیگی جہاں ہوا کی تندی اور تیزی سے پہلے تھی۔
اب عمران خان کی انا نے ان کی حکومت کیلئے ایک اور امتحان پیدا کردیا ہے اور وہ ہے اگلے انتخابات میں پولنگ کیلئے الیکٹرونک مشینوں کا استعمال جو عمران کی شدید خواہش ہے کہ پاکستان کے اگلے عام انتخابات میں کاغذ کی پرچیوں کی جگہ استعمال ہوں۔ عمران کی اس خواہش میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ دنیا کے بیشمار ممالک میں یہ الیکٹرونک مشینیں آج سے نہیں برسوں سے استعمال ہورہی ہیں۔ ہمارے پڑوس میں بھارت میں یہ مشینیں گذشتہ کئی انتخابات میں استعمال ہوچکی ہیں گو کہ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی شکایات بھی ہیں لیکن یہ شکایات زیادہ تر ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہوتی ہیں جو حکومت وقت کے خلاف انتخابی عمل میں شریک ہوتی ہیں۔
پاکستان میں بھی وہ سب جماعتیں جو عمران کی حریف ہیں وہ ان مشینوں کے استعمال کے خلاف مورچہ بناکے بیٹھ گئی ہیں۔ ان کی مخالفت ایک تو اس سبب سے ہے کہ ان کا ایمان اور دھرم عمران کی ہر بات کی مخالفت کرنا ہے۔ عمران اگر چمکتے سورج کی موجودگی میں یہ کہے کہ دن روشن ہے تو یہ بالشتیئے فورا” یہ کہینگے کہ نہیں، اندھیرا ہے۔ یہ مخالفت برائے مخالفت ہے اور یہ مرض مریم نواز، بلاول، زرداری اور پاکستان کے سب سے نامی منافق، ملا فضلو کو ایک مدت سے لاحق ہے۔ لیکن مخالفت کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ وہ سیاسی بالشتیئے ہیں جن کی فہم کج میں انتخابات دھاندلی سے کبھی خالی نہیں ہوتے، خاص طور پہ وہ انتخابات جن کا نتیجہ ان کے حق میں نہ ہو۔ وہ مثل مشہور ہے نا کہ چور ہر ایک کو، پوری دنیا کو، اپنی طرح سے چور سمجھتا ہے۔ کیونکہ یہ جماعتیں خود سفاکی سے بے ایمانی کی عادی ہیں اور ان کا ایمان صرف اس میں ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو انتخاب کا نتیجہ اپنے حق میں موڑا جائے تو اب انہیں یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اگر الیکٹرونک مشینوں کا استعمال ہوا تو انتخابی نتائج ان کے حق میں دور دور نہیں ہونگے۔
یہی سبب ہے کہ یہ سیاسی کوچہ گرد اور گماشتے بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے حق میں بھی نہیں ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے کہ بیرون ملک پاکستانی ان کو پسند نہیں کرتے، ان پر لعن طعن کرتے ہیں اور ان پاکستانیوں کا جھکاوء عمران خان اور تحریک انصاف کی طرف ہے۔
تو، قصہ مختصر یہ کہ حزب اختلاف الیکٹرونک مشینوں کے استعمال کے خلاف بھی اپنی صفیں جمائے بیٹھے ہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ آن لائن ووٹنگ کی سہولت دینے کے بھی مخالف ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ چونکہ پاکستان اور پاکستانیوں کے دشمن ہیں اور پاکستان کو برباد کردینے کے ناپاک منصوبوں پر عمل پیرا سازشی بیرونی طاقتوں کے آلہء کار بھی یہ چھٹ بھیئے مدت دراز سے چلے آرہے ہیں لہٰذا ان کا سب سے نمایاں منشور یہ ہے کہ نہ الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں استعمال ہوں اور نہ ہی بیرون ملک پاکستانی صاف شفاف انتخابی عمل میں شریک ہوسکیں، وہ اگر شریک ہوگئے تو مریم نواز کی بکواس پر کون کان دھرے گا اور ملا فضلو کی حکومت کو مستقل گیدڑ بھبھکیاں کہاں سامع جمع کرسکیںگی؟
لیکن عمران نے ان دونوں معاملات کو اپنے لئے انا کا مسئلہ بنالیا ہے ویسے ہی جیسے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے عمل کو بنایا تھا اور وہ اس مسئلہ کے کسی ممکنہ حل کیلئے حزب اختلاف سے مزاکرات کیلئے کسی طور آمادہ نہیں ہیں۔ حزب اختلاف تو دور کی بات ہے انہوں نے تو ان حساس معاملات پر اپنے سیاسی حلیفوں سے مشورہ کرنا ضروری نہیں گردانا۔
اس غیر لچکدار رویہ کا نتیجہ کیا نکلا؟ وہی جو عام طور سے ہوتا ہے۔ ان کی حکومت نے ان مسائل پر غور کرنے کیلئے پارلیمان کو جو مشترکہ اجلاس بلانا چاہا تھا اور جس کیلئے صدرعارف علوی نے سرکاری گزٹ میں اعلان بھی کردیا تھا وہ نہیں ہوسکا اور حکومت کو اسے ملتوی کرنے میں ہی عافیت دکھائی دی اسلئے کہ اس کے حلیفوں نے بتادیا تھا کہ وہ اس پر اس کا ساتھ نہیں دینگے۔ ان کا گلہ بجا ہے کہ وہ جب شریک اقتدار ہیں تو انہیں ایسے اہم معاملات میں کیوں سوتیلوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اور کیوں ان کی مشاورت کی حکومت کو ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
ہم حیران ہیں کہ عمران کا یہ غیر لچکدار رویہ کیوں ہے؟ کیوں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواب دیکھنے والا اس تاریخی حقیقت سے نابلد ہے کہ اس تاریخی ریاست مدینہ کی بنیاد ہی باہمی مشورہ اور مشاورت میں تھی اور ہادیء برحق، رسولؐ امم اہم معاملات میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کرتے تھے۔
لیکن عمران کی انا ایسے مراحل پر ان کی اور ان کی حکومت کی دشمن بن جاتی ہے جب کہ عمران کو احساس ہونا چاہئے کہ ان کی حکومت سیاسی حلیفوں کی مرہون منت ہے اور اگر یہ حلیف فیصلہ کرلیں، جس کے اشارے ایم کیو ایم کی قیادت کی جانب سے مل رہے ہیں، کہ اب وہ عمران کے ساتھ نہیں چل سکتے تو یہ حکومت گرجائیگی اور اس پارلیمان کو تحلیل کرنا پڑجائے گا۔
عمران کی حکومت، جیسا کہ ہم نے آغاز میں کہا، اس وقت اپنے ہی پیدا کردہ حصار میں ہے اور اس حصار کو توڑنے اور ختم کرنے کیلئے خود عمران کو پہل کرنی ہوگی۔ نہ کی تو پھر اس کا حشر بھی سابقہ حکومتوں سے مختلف نہیں ہوگا۔ ملک میں ہوشربا مہنگائی اور افراط زر نے پہلے ہیں غریب عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے اور عوامی قبولیت اور پذیرائی کا گراف عمران کے حق میں دن بہ دن گررہا ہے۔ حزب اختلاف کے چھٹ بھیٔے عمران کو کمزور پڑتا دیکھ کر پہلے ہی اپنی چھریاں تیز کرنے لگے ہیں لیکن عمران کا رویہ اور اناگیری ان کو اور ہوا دے رہی ہے۱
سمجھ میں نہیں آتا کہ عمران نے سوچا کیا ہے؟ یہ سیاسی خودکشی کی رو کہاں سے جاگی ہے۔ ہاں یہ ہم جانتے ہیں کہ عمران کی انا اس پورے منظر نامہ میں ان کے سیاسی مستقبل پر سب سے بڑا سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہے۔ کیا عمران کی عقل اس حد تک ماؤف ہوچکی ہے کہ انہیں نوشتہء دیوار نظر نہیں آرہا؟