آثار!

58

دنیا بھر کے تھنک ٹینک کے کام کرنے کا ایک خاص طریقہء کار ہے وہ ریسرچ کرتے ہوئے پہلے کسی مقام، موضوع، خطہ یا ملک کے بارے میں پہلے مواد اکٹھا کرتے ہیں پھر اس مواد کو تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں اور اس مطالعہ میں معاشی، سماجی، ثقافتی اور مذہبی اثرات کو بہت اہمیت دیتے ہیں، اس مطالعہ میں آب و ہوا، لوگوں کے مزاج، ان کی عادات اور اقدارکو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے، یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ آب و ہوا اور غذا ان پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے پھر انکے اوصاف اور خامیوں کو بھی نگاہ میں رکھا جاتا ہے، یہ گویا ان کا نفسیاتی مطالعہ ہوتا ہے اور نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ان سے تعلقات کس طرح استوار کئے جا سکتے ہیں اور اختلافات کی نوعیت کیا ہو سکتی تجارت سے مفادات کیونکر حاصل کئے جا سکتے ہیں، پاکستان تعلیمی اعتبار سے دنیا سے بہت پیچھے ہے اور ہمارے اتنے وسائل نہیں کہ ہم اپنے کسی دوست یا دشمن کااتنی INTENSIVEاسٹڈی کر سکیں اور نہ ہی ہمارے پاس ایسے دماغ ہیں لہٰذا ہم زیادہ تر کتابوں پر انحصار کرتے ہیں مغربی دنیا تیسری دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے ایسی کتابیں شائع کراتی ہے جو تیسری دنیا کے ممالک کی برین واشنگ کر سکیں، یہ کتابیں مغرب کے INTERNAL CONSUMPTIONکے لئے ہر گز نہیں ہوتیں اور وقت کی دھول میں دب جاتی ہیں مگر ان کے حوالے ہماری سیاست، سماج، مذہب اور سوچ میں تادیر رہتے ہیں اور گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں، مغربی دنیا کے ان حربوں پر کبھی غور نہیں کیا گیا اور نہ ہی سمجھا گیا، ایوب کے زمانے میں ایک ایسی ہی کتاب نام نہاد ماہر معاشیات محبوب الحق کی آئی تھی جو امریکہ میں شائع ہوئی اس کتاب کی وقعت امریکہ میں دو کوڑی کی نہ تھی مگر پاکستان کی سیاست میں اس کتاب نے ہلچل مچا دی کسی سیاست دان نے یہ کتاب نہیں پڑھی کتاب اعداد و شمار کا ایک انبار تھی جو کبھی ثابت نہ ہو سکے پاکستان کے کسی ادارے نے ان اعداد و شمار کو نہ تو چیلنج کیا اور نہ ہی اس کی تائید کی پاکستان میں یہ روش ایک پراسرار ہاتھ کا کرشمہ ہے جو نادیدہ ہی رہتا ہے مگر معجزاتی ہے 1970کے انتخابات میں اس کتاب کا ایک جملہ زد زبان عام تھا کہ ملک کی دولت چالیس خاندانوں میں مرتکز ہو کر رہ گئی ہے کن خاندانوں میں؟ وہ سارے خاندان تو اس وقت اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے تھے، یہ ایک مثال ہے اس قسم کی کتابیں وقتاً وقتاً شائع ہوتی رہی ہیں اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ ان کی اشاعت کے پیچھے چھپی سازش کو کبھی بے نقاب نہ کر سکے، ان ذرائع ابلاغ کو چٹ پٹی خبریں چھاپنے کا ایسا نشہ ہے کہ وہ ملک کے مسائل کو کبھی ہائی لائٹ کرہی نہ سکے میڈیا ایمپائیرز کے بننے کے بعد صحافت دم توڑ گئی اور صحافی بھی بکنے لگے، حکمرانوںکی عقل کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ وہی محبوب الحق جنرل ضیاء الحق کا وزیر خزانہ بنا اور اس کی معاشی ہنر مندی کا پول کھل گیا اور وہ پاکستان کی معیشت کو نہ چلا سکا۔
گزشتہ چالیس سالوں کی سیاسی روش اور معاشی کیفیات کو نظر میں رکھئے آپ کو معلوم ہو گا کہ سیاست میں ESTABLISHMENTکا واضح رول نظر آجائیگا عالمی طاقتوں نے عجب پراسرار رویہ اپنایا ہے وہ دنیا بھر میں فوجی حکومتوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں مگر مصر اور پاکستان میں ان کی ترجیہات مختلف ہیں مصر میں عنان حکومت فوج کے ہاتھوں میں مگر پاکستان میں ایک CONTROLLED DEMOCRACYکو متعارف کرایا گیا ہے جس میں سیاست دان اقتدار کی بھیک فوج سے مانگتے ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد فوج کے اشاروں پر ناچتے ہیں، کہیں جو ذرا DEVIATEکرتے ہیں تو ان کو فوج کے قہر کا سامنا ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ سب کس کے اشارے پر؟ اور سادہ جواب یہی ہے کہ فوج کسی بین الاقوامی ایجنڈے پر کام کررہی ہے جس کا سراغ نہیں مل رہا، عالمی طاقتیں یہ سب جانتی ہیں کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے مگر ان کو معلوم ہے کہ پاکستان میں فوج کسی کو جوابدہ نہیں جبکہ سیاست دان یہ عذر تراش کر سکتے ہیں کہ وہ کسی حد تک تو عالمی طاقتوں کو خوش کر سکتے ہیں مگر ان کی ساری شرائط مان نہیں سکتے کیونکہ ان کوالیکشن کے لیے اپنے اپنے حلقوں میں جانا ہے اور وہ عوام کو جوابدہ ہیں فوج کی مطلق العنانیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ AGPRنے آخری ملٹری آڈٹ کب کیا تھا، دنیا بھر میں پاکستان کے سفارت خانے بھی فوج کے ہی زیر اثر معلوم ہوتے ہیں ان کا بھی OVERSEAS AUDITبرائے نام ہی ہوتا ہے سارے کانسلیٹ دنیا بھر میں کمیونٹی فنڈ کا حساب کبھی نہیں دیتے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیاست آزاد کیوں نہیں ہے اور عوامی فلاح کے کام کیوں نہیں ہو پاتے، ہم کئی بار ان مضامین میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں بس فوج اور مولوی تین وقت پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور ان کو بجلی، گیس اور مہنگائی نہیں کاٹتی۔
یہی حال معیشت کا ہے جنرل ضیا الحق کے بعد سے پاکستان کی صنعت کاری کو اسٹاپ لگ گیا اور پھر ان کی جانب کبھی توجہ نہیں دی گئی صنعتیں اتنی ہی پیداوار کرتی ہیں جس سے اتنا ٹیکس جمع ہو جائے جس سے فوج کی ضروریات پوری ہو جائیں FULL VOLUMEپروڈکشن کی اجازت نہیں، کبھی بجلی کا بہانہ کبھی گیس کا، سیلاب، بارشوں اور MUD SLIDINGہر سال تباہی لاتے ہیں ان کا مستقبل سدِ باب کبھی ہوتا ہی نہیں، سوال یہ ہے کہ کوتاہی کیوں؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ عوام کو سکون سے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں اور نہ فارغ البالی کی غیر ملکی جریدے لکھ چکے ہیں کہ پاکستان میں بے انتہا ECONOMIC POTENTIALہے مگر امن و امان کا ایک خودساختہ مسئلہ ہے عالمی جریدے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں FORSCED CRIMEپنپ رہا ہے کہ شہروں میں پولیس کا مورال بہت پست ہے اور بڑے جرائم کی روک تھام کے لئے فوج کو طلب کرنا پڑتا ہے، پولیس کی جدید خطوط پر تربیت اس لئے نہیں کی جاتی کہ تربیت یافتہ پولیس شہروں میں موثر طور پر جرائم کی بیخ کنی کر سکتی ہے جو فوج نہیں چاہتی مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے فوج کو شہروں میں رہنا ضروری ہے اندازہ لگائیے کہ علاقے کا کور کمانڈر سول انتظامیہ کو خاطر میں لائے بغیر کچھ بھی کر سکتا ہے، یہ سب آثار بتارہے ہیں کہ یہ ملک ایک SCRIPTED PROJECTIONکا شکار ہے جس میں عوام کا کوئی عمل دخل نہیں، جمہوریت، آئین، پارلیمنٹ، قانون اور ادارے بس نام کے لئے، کہیں ایسا تو نہیں کہ سکیورٹی کے نام پر فوج نے عالمی طاقتوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کررکھا ہو، سیاست کے نام پر بظاہر دو خاندانوں اور اشرافیہ اور حکمران جماعت کے درمیان ایکPOWER SRUGGLEہے یہ بھی شائد دھوکہ ہی ہو۔