استحکام اور خوشحالی!!

41

انتشار‘ بے چینی اور شوریدگی کا شکار معاشرے ترقی نہیں کر سکتے سیاسی استحکام خوشحالی کی منزل کا پہلا سنگ میل ہے پاکستان میں آج اگر استحکام ہوتا تو اسکا شمار دنیا کے اہم ترین ممالک میں ہوتامغربی دنیا کو پاکستان کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ پندرہ اگست کے دن امریکی انخلا سے پہلے تھی اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی اہمیت اب پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے تو بیجا نہ ہو گا افغانستان کے دگر گوں حالات کی وجہ سے مغرب کو ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جو ایک پل کا کردار ادا کر سکے جو اس جنگ زدہ ملک میںدہشت گردی کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کر سکے جو بھوک اور افلاس میں جکڑے ہوے چار کڑوڑ افغانوں کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کیلئے راہداری مہیا کر سکے امریکہ کے کہنے پر پاکستان نے بھارت کو ستر لاکھ ٹن گندم افغانستان پہنچانے کی اجازت دینے کی حامی بھر لی ہے مگر اسلام آباد میں افرا تفری اور سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اتنی زیادہ ہے کہ حکومت کو کسی دوسری طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں آج اگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں سر پھٹول اور جوتم پیزار کی فضا نہ ہوتی تو یہ عالمی سیاست میں ایک نمایاں کردار ادا کر سکتا تھا امریکہ کی وزارت خارجہ نے چند روز پہلے اعلان کیا ہے کہ قطر ‘ امریکہ اور افغانستان میں رابطے کیلئے سفارتکاری کی سہولت مہیا کرے گا دوحہ میں دو سال تک امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے جن کے نتیجے میں بیس سال تک جاری رہنے والی ایک خوفناک جنگ کا اختتام ہوااس دوران پاکستان میں اگر استحکام ہوتا اسے ایک سنجیدہ‘ بردباراور توانا قیادت میسر ہوتی تو دنیا کو قطر کی ضرورت نہ پڑتی یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغان جنگ کے دوران امریکہ نے پاکستان کو اپنے شکنجے میں اتنی بری طرح سے جکڑا ہوا تھا کہ اسکی بقا کو خطرات لاحق ہو گئے تھے ایسے میں وہ ایک ثالث کا کردار کیسے ادا کر سکتا تھا یہ دلیل اب امریکی انخلا کے بعد کار گر نہیں رہی پاکستان آج جس انتشار‘ توڑ پھوڑ اور بدنظمی کا شکار ہے اسکی ذمہ داری امریکہ پر نہیں ڈالی جاسکتی ایک طاقتور ریاستی ادارے اور حکومت کے درمیان سینئر افسروں کی تعیناتی پر جو تنازعہ ڈیڑھ مہینے تک چلتا رہا اسکا تماشہ پوری دنیا نے کیا جو معاملات تھوڑی سی فہم و فراست‘ تحمل اور برد باری سے بند کمروں میں حل ہو سکتے تھے انہیں عالمی برادری کے سامنے بر سر بازار رکھ دیا گیا اسکے فوراّّ بعد تحریک لبیک پاکستان نے جس طرح پورے ملک میں کارو بار زندگی کو مفلوج کر دیا اسکا نظارہ بھی پوری دنیا نے کیا بد قسمتی سے ہمارے سیاستدان اور عسکری قیادت آج تک اس حقیقت کا ادراک نہیں کر سکے کہ جب تک قومی معاملات کو دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش نہ کی جائے یہ دنیا کے ہر دارلحکومت میں اسطرح چہ میگوئیوں کا باعث بن جاتے ہیں جس طرح دو گھروں کی لڑائی پورے محلے میں گپ شپ کا موضوع بن جاتی ہے گذشتہ تین ماہ سے اسلام آباد میں حکومت‘ حزب اختلاف اور ریاستی اداروں کے درمیان جو تکرار و تصادم ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے رہبران ملت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کو ملک کے عزت و وقار سے زیادہ اہم سمجھتے ہیںانہیں اپنی انا‘ ہٹ دھرمی اور مفادات ملک سے زیادہ عزیز ہیں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ کسی بات پر اگر تمام فریقین کا اتفاق رائے ہے تو وہ یہ ہے کہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے سب مانتے ہیں کہ یہ تنزل اتنا شدید اور یہ بحران اتنا گہرا ہے کہ اس پر قابو پانے میں کئی سال لگیں گے اسکے باوجود حکومت ہر حال میں انیس نومبر سے پہلے انتخابی اصلاحات کے دو بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور کرانے پر تلی ہوئی ہے یہ بات ایک بھپری ہوئی حزب اختلاف کیلئے قابل قبول نہیںحکومت کے پیش کردہ دوالیکشن ایکٹ ترمیمی بلز میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کے انٹرنیٹ ووٹنگ کے حقوق سر فہرست ہیں
ہم جانتے ہیں کہ جولائی 2018 کے انتخابات میںووٹنگ کا نظام درہم برہم تھا اسوقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ وہ رات بھر چیف الیکشن کمشنر کو فون کرتے رہے مگر ان سے رابطہ نہ ہو سکاانتخابی نتائج کا اعلان رات بارہ بجے کے بعد شروع ہوا اس سے پہلے کے انتخابات میں حتمی نتائج نصف شب تک آ جایا کرتے تھے یعنی اس میدان میں بھی ہم ترقی معکوس کے سفر پر گامزن ہیں اس معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کو اسے نہایت تحمل اور برد باری سے حل کرنا چاہیئے تھامگر انتخابی اصلاحات جیسے نازک اور پیچیدہ مسئلے کو حکومت نے ہر حال میں انیس نومبر سے پہلے حل کرنیکا تہیہ کیا ہوا ہے اور حزب اختلاف نے بھی طاقت کے ہر ایوان میں اسے چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ایک دنیا جانتی ہے کہ انیس نومبر کے دن ISI میں Change of Gaurd ہو گا اسدن لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس طاقتور ادارے کا چارج لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے حوالے کریں گے دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ فیض حمید کی آئی ایس آئی سے رخصتی کے بعد پی ٹی آئی حکومت یہ انتخابی اصلاحات اپنی مرضی کے مطابق نہ کرا سکے گی اسی لئے حکومت اور ایک ریاستی ادارے کے درمیان یہ تصادم چھ ہفتوں تک عالمی میڈیا کی راڈار سکرین پرجما رہا اسکے بارے میں مسلسل خبریں شائع کرنیوالے ہندوستان ٹائمز نے تئیس اکتوبر کو یہ سرخی لگائی تھیImran Khan in rare face off with Pakistan army over naming new ISI chief بھارت کے درجنوں تاک شوز نے اس تنازعے پر جو بھد اڑائی اسکی باز گشت پاکستان کے میڈیا میں بھی سنائی دیتی رہی مگر اس جگ ہنسائی کی کسی کو پرواہ تک نہ تھی سب اپنے اپنے ہدف کا تعاقب کرتے رہے کیونکہ سب کیلئے یہی سب سے زیادہ اہم تھا اس عدم استحکام ‘ تو تکار اور توڑ پھوڑ کے ماحول میں خوشحالی کی دیوی کیسے مہربان ہو سکتی ہے اظہارالحق صاحب نے ہمارے قومی منظر نامے کو ایک شعر میں اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اسے ایک ضرب المثل کا درجہ حاصل ہو گیا ہے
غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پر ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے !!
جب تک یہ شوریدگی اور تلاطم خیزی ختم نہیں ہوتی کسی استحکام اور خوشحالی کی توقع نہیں کی جا سکتی!!