پاکستانی ایک قوم!

32

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں لوگوں نے اپنے آپ کو کئی قوموں میں بانٹ رکھا ہے۔ ہم ہیں تو ’’پاکستان‘‘ لیکن اس سے پہلے ہم سندھی ہیں، پنجابی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ایسے مسائل ہیں کہ جس سے ہم کمزور ہو جاتے ہیں پاکستان بننا بہت مشکل تھا لیکن اس کو چلانا آسان ،آسان لئے کیوں کہ قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان بننے کے بعد جو پہلی تقریر کی تھی اُسے یاد رکھ کر اگر پاکستانی اس میں کہی گئی باتوں پر عمل کرتے تو انہیں کسی اور گائیڈ لائن کی ضرورت نہ ہوتی اگر ہم اسکول میں پڑھنے والے طلباء، کالج جانے والے سٹوڈنٹس دفتر میں کام کرتے لوگوں کو یہ تقریر بار بار سنواتے تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔
قائداعظم نے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ اس تقسیم پر خوش نہیں ہیں لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو مسلمان، ہندوستان میں ایک مضبوط قوم بن کر رہنے کیلئے بہت مشکلات کا سامنا کرتے، ہم کو کبھی بھی مساوی حقوق نہیں ملتے، ہم کو اپنے مذہب اور حقوق کیلئے کئی لڑائیاں لڑنی پڑتیں جو کہ ہم کو پاکستان میں نہیں کرنا ہو گا۔
قائداعظم نے کچھ اور چیزوں پر بھی زور دیا تھا جیسے کہ لاء اینڈ آرڈر سسٹم، ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ نظام درست ہو گا تو دیگر سسٹم چلانے میں بھی آسانی ہو گی، اس کے علاوہ مذہب جو جس مذہب کو مانتا ہے اُسے ہر طرح کی آزادی ہو گی اپنا مذہب فالوکرنے کیلئے۔ اس کے علاوہ ’’رشوت‘‘ سے متعلق انہوں نے زور دے کر یہ بات کہی تھی کہ کسی بھی معاشرے کو یہ دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے یہ کسی بھی قوم کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ہم کو پوری پوری کوشش کرنی ہے کہ یہ لعنت ہماری قوت اور ملک سے دور رہے۔
بلیک مارکیٹنگ سے بھی قائداعظم نے قوم کو خبردار کیا تھا کہ مختلف طریقوں سے Taxesبچا کر حکومت کے خزانے کو نقصان پہنچانا بہت ہی غلط بات ہے۔ ہر شخص، ہر آرگنائزیشن اور ہر بزنس مین اپنا ٹیکس ایمانداری سے ادا کرے تو قوم کی معیشت میں استحکام ہو گا۔ Nepotismٰیعنی سفارش کی بھی قائد نے شدید مخالفت کی تھی یعنی کہ اپنے کسی رشتے دار، دوست یا جاننے والے کو محض اقربا پروری میں Favorکرنا جبکہ وہ اس کا اہل نہ ہو، یہ سفارشیں سکول، کالجوں سے شروع ہو کر گورنمنٹ کے اداروں اور لیڈر شپ میں بھی آسکتی ہیں۔ ہم کو اس چیز کا بہت خیال رکھنا ہے کہ اگر کوئی آگے آئے تو سفارش سے نہیں اپنے بل بوتے اور اہلیت پر آئے۔
سب سے اہم بات یہ فرمائی تھی قائداعظم محمد علی جناح نے کہ پاکستان بننا اسلئے ضروری تھا کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دو قومیں تھیں جبکہ پاکستان میں ہم ’’ایک قوم‘‘ بن کرر ہیں گے اور کوئی ہمیں مجبور نہیں کرے گا کہ ہم دو قوموں میں بٹ کر رہیں۔
جب پاکستان بنا تھا تو امریکن ڈالر 3.31روپے کا تھا اور 1985میں ڈالر پندرہ روپے کا ہو گیا تھا۔
افسوس کہ جو ساری باتیں ،انمول باتیں قائد نے کی تھیں وہ بھلا دی گئیں رشوت لیے بغیر اگر کوئی آفیسر کوئی کام کردے تو لوگ اُسے بے وقوف سمجھتے ہیں، دیکھو ذرا دوسرے افسروں نے جو تمہارے ہی ساتھی ہیں کتنی جائیدادیں بنا لیں ہیں۔ گھر والے ہی اس ’’بے وقوف‘‘ کو طعنے دے دے کر عاجز کر دیتے ہیں۔
2013ء میں انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان میں صرف 768,000لوگوں نے ٹیکس بھرا ہے۔ 190ملین لوگوں کی آبادی میں سے صرف 0.57فیصد لوگ ٹیکس بھررہے ہیں۔ ہر شخص اس ترکیب اورکوشش میں لگا ہے کہ وہ Taxبچا لے۔ سیاست کا حال تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔ باپ کے بعد بیٹی، ماں کے بعد میاں یا پھر بیٹا، Nepotismکی اس سے بڑی مثال شاید ہی کہیں ملتی ہے کہ جب کسی سیاست دان کے کسی بچے کی تصویر نظر آتی ہے لوگ سوچتے ہیں کہ یہ کب سیاست میں آرہا ہے؟؟
جہاں ہم ہندو مسلمان میں نہ بنٹیں اس کیلئے ہم نے پاکستان بنایا تھا، وہی آج ہم زبان، صوبے، رواجوں میں بٹ گئے ہیں یہ بھول گئے کہ ہم پاکستان اور پاکستانی ہیں۔
جو قائدنے منع کیا تھا کرنے کیلئے وہ پہلے چھپ کر کیا جاتا تھا Gilltyکے ساتھ مگر اب رشوت، سفارش یہ سب فیشن میں آگیا ہے جو یہ ’’فیشن‘‘ نہ کرے اُسے بے وقوف سمجھا جاتاہے، آج پاکستان میں عزت اُسی کی ہے جو یہ سب کررہے ہیں۔
پاکستان بنا تھا ایک قوم کے نظریے کیلئے، یہ قوم ’’ایک قوم‘‘ بن سکتی ہے اس تقریر کو اس گائیڈ لائن کو یاد کر کے عمل کر کے جو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنتے ہی دی تھی، یقین کریں کہ اگر ہم ان اصولوں پر دل سے عمل پیرا ہو جائیں تو ہم سے اچھی اور بہترین قوم اور کوئی نہیں ہو گی۔۔۔