جن کا پیسہ حلال تھا مگرووٹ حرام تھا، وہ مشرف بہ اسلام ہوئے،آخر کا ر اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کا حق دینے کامطالبہ پورا ہوگیا!

137

ایک طویل عرصے سے غیر ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانی اس بات کے خواہاں تھے کہ ان کو پاکستان کے انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا جائے مگر ہر مرتبہ ہر پارٹی وعدے کر کے مکر جایاکرتی تھی۔ہر حکمران جماعت اوورسیز پاکستانیوں سے جھولی پھیلا پھیلا کرملک میںڈالرز بھیجنے اور زرمبادلہ میں اضافہ کرنے کے لئے بھیک مانگتے تھکتے نہیں۔مگر انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں دینا چاہتے تھے یعنی ان پاکستانیوں سے پیسہ لینا تو سوفیصد حلال تھا مگر ان کو حق رائے دہی دینا حرام تھا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ایک ایسا موقع بھی آیا کہ غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے ہنڈی کے ذریعے پیسہ بھجوانا شروع کردیا جس میں انہیں بہتر ریٹ بھی ملتا تھا مگر کیونکہ عمران خان بہت عرصے تک غیر ملک مقیم رہے تو انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے ملک سے کس قدر والہانہ محبت رکھتے ہیں اور وہ ملک کی خاطر اپنا نقصان کر کے بھی بنکوں کے ذریعے پاکستان اپنا پیسہ منتقل کرنے کو تیار ہیں ۔ اس بات کا اندازہ انہیں شوکت خام ہسپتال کے فنڈ ریزنگ ڈنرز سے بھی ہوا کہ پاکستانی اپنے ملک کے اداروں کے لئے بھی مدد کرنے کے لئے کس قدر مخلص ہیں ۔ ہمارا تو آج کے دن تک بھی یہ ا یمان ہے کہ وہ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں وہ اندرون ملک رہنے والے پاکستانیوں سے زیادہ پاکستانی ہوتے ہیں چونکہ وہ جب وطن سے دور ہوتے ہیں تو انہیں اس بات کا شدت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس پاکستان کو وہ چھوڑ کر آئے ہیںاس نے انہیں کیا کیا دیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جو چیز پاس نہیں ہوتی تو اس کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔ بے شک وہ پاکستان سے زیادہ پیسہ کما رہے ہوتے ہیں ۔ بیرون ملک رہ کر مگر ان کے دل اپنے اپنے شہروں ، گائوں اور دیہاتوں میں ہی دھڑکتے ہیں۔ عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے اووسیز پاکستانیوں کیساتھ کئے ہوئے وعدے کا پاس رکھا اور یہ بل دونوں ایوانوں سے پاس کرایا بھلے وہ گالیوں کے ساتھ ہوا ہو۔ چاہے وہ مکوں اور گھونسوں کے ساتھ ہوا ہو، چاہے وہ اسپیکر کے منہ پر پرچے پھاڑ کر ہی ہوا ہو مگر بل پاس ہوگیا۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی اہم بل پاس ہوئے ہیں جن میںالیکٹرانک ووٹنگ مشین کااستعمال، سندھ میں نئی مردم شماری کرانے کاآغاز اورحیدر آباد یونیورسٹی کا قیام بھی شامل ہے۔ مگر آج ہم صرف اپنے سے وابستہ ایشو پر ہی بات کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ہماری اورآپ کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔مسلم لیگ نون کے ایک لیڈر احسن اقبال کاکہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کم فہم لوگ ہیں جنہیں پاکستان کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم قرون وسطیٰ کے زمانے میں نہیں رہ رہے ہیں اور نہ ہی پتھر کا زمانہ ہے،آج پوری دنیا موبائل فون کے ذریعے آپ کی ہتھیلی پر موجود ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی تارکین وطن افغانستان سے نہیں ، پاکستان سے آئے ہیں اور مسلسل پاکستان کیساتھ رابطے میں رہتے ہیں ۔ آج دنیا بھر میںمقیم پاکستان کے تارکین وطن چوبیس گھنٹے ڈان نیوز، اے آر وائی نیوز، ہم نیوز، دنیا نیوز، ایکسپریس نیوز، جیونیوز،بول نیوز، 92 نیوز اور پی ٹی وی نیوز جیسے نشریاتی اداروں کی یوٹیوب کے ذریعے پل پل کی خبروں سے آگاہ رہتے ہیں۔ پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ نجی ٹی وی چینلز ہیں اور بے شمار یوٹیوب چیلنز ہیں جونہ صرف نیوز کے محاذ پر بلکہ ثقافت کے حوالے سے بھی بین الاقوامی سطح پر نشریات جاری رکھے ہوئے ہیںلہٰذا نون لیگیوں کوخلاء سے ا تر کرزمین پر آنا پڑے گا، میاں صاحب کا زمانہ تو گیا،ہماری طرف سے تمام اوورسیز پاکستانیوں کو بہت بہت مبارکباد۔