عشق نہیں ہے آساں!

35

عشق کے لغوی معنی تو پھٹ جانے کے ہیں۔ صوفی عشق کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں، ”عشق اُس آگ کا نام ہے جو عاشقوں کے دل اور سینے میں جلتی رہتی ہے اور خدا کے سوا جو کچھ ہے اُسے جلا کر خاکستر کر دیتی ہے” بالکل یہی کیفیت ایک انسان کی دوسرے انسان کے لیے بھی بیدار ہو سکتی ہے۔ محبت بار بار ہوتی ہے‘ لیکن عشق ایک بار ہوتا ہے۔کسی نے کیا خوب کہا کہ محبت پہلی نظر میں ہو جاتی ہے‘ لیکن اس کو عشق کا مقام دینے کے لیے محبت کو کئی منزلیں طے کرنا پڑتی ہیں۔ کئی دشوار راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ محبت اندھی ہوتی ہے‘ لیکن عشق کھلی آنکھوں سے کیا جا تا ہے۔ محبت میں فیصلے بدلتے رہتے ہیں۔ حالات بدلتے ہیں۔ جذبات بدلتے ہیں۔ انتخاب بدل جاتے ہیں۔ انسان بدل جاتے ہیں‘ لیکن عشق؟ عشق آخری فیصلہ ہوتا ہے! عشق میں کچھ نہیں بدلتا۔ محبت انسان کو بدل دیتی ہے‘ لیکن عشق انسان کو ادھورا کر کے بھی مکمل کر دیتا ہے۔ انسان کی جب تک سانسں چلتی رہتی ہیں، وہ کئی محبتیں کرتا ہے۔ شاید انسان کی آخری سانس تک تو محبت کا وجود اور تصور ہی اس کی زندگی سے ختم ہو جاتا ہے۔ عشق میں کبھی الوادع کا لمحہ نہیں آتا۔ عشق کا آخری مقام عاشق کی آخری سانس ہے۔ عشق میں معشوق تبدیل نہیں ہوتا؛
٭ عاشق کو یقینِ کامل ہو جاتا ہے کہ صرف معشوق ہی اُس کی ضرورت پوری کرسکتا ہے اور منزل مقصود تک پہنچاسکتا ہے؛
٭ عاشق اپنے معشوق تک پہنچنے اور پانے کے جنوں میں مبتلا ہو جاتا ہے؛ اُس کے دماغ پر معشو ق کا خیال اور تصورقبضہ کر لیتا ہے۔وُہ ہر وقت معشوق کے بارے میں سوچتارہتا ہے، باتیں کرتا رہتا ہے۔
٭ عاشق معشوق کو راضی اور خوش کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتاہے۔اپنی جان قربان کرسکتا ہے، اپنی ذات کھو سکتا ہے؛ اقبالؔ کے نزدیک عشق ایک عطیہ الہیٰ اور نعمت ِ ازلی ہے۔اقبالؔ کے ہاں عشق وجدان، خود آگہی،باطنی شعور، جنون،محبت،دردوسوز،شوق،آرزومندی،،مستی اور سر مستی کا ذکر جس تکرار اور شدّتِ احساس کے ساتھ ملتا ہے کسی اور موضوع کا نہیں ملتاہے۔ اقبالؔ کے یہاں عشق موت کا باعث نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہے۔ عشق سے فرد کی نظر میں بلندی اور قوت پیدا ہوتی ہے۔ اقبالؔ نے عشق زندگی کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔اقبالؔ شروع سے ہی اس بات کے قائل رہے ہیں کہ عشق موت کو نہیں لاتا بلکہ زندگی کا پیمبر ہے۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی قرآن میں لفظ عشق‘‘ أَشَدُّ حُبًّا لِّلہ‘‘کے الفاظ میں آیا ہے۔ یعنی‘‘ شدید ترین محبت‘‘۔ اس کو فارسی اردو میں عشق کہتے ہیں۔امام غزالی رحمت اللہ کے نزدیک:طبیعت کا کسی لذیذ شے کی طرف مائل ہوجانا ’’مَحَبَّت‘‘ کہلاتا ہے۔اور جب یہ میلان قوی اور پختہ (یعنی بہت مضبوط اورشدید) ہوجائے تو اسے ’’عشق‘‘ کہتے ہیں۔ دو انسانوں میں جذبہ عشق بھی در حقیقت عشق حقیقی کا ہی عنصر ہے۔ رب جسے چائے اس کے دل میں عشق کا نور بھر دیتا ہے۔عشق روح کی غذا ہے۔ روح کی تازگی کا سبب ہے۔ خو ش قسمت ہو تے ہیں وہ لوگ جن کے اندر خالقِ
کا ئنات اِس جذبے کو زیا دہ مقدار میں رکھ دیتا ہے اِس جذبیٔ جنون کا نام ہے ’’عشق‘‘۔ محبت جب حد اعتدال سے تجا وز کر جا ئے تو اُسے عشق کا نام دیا جا تا ہے۔حکیموں کی نظر میں عشق ایک مر ض ہے جنون کی قسم ہے جو کسی حسین شے کو دیکھنے سے پیدا ہو تا ہے یہ لفظ عشق لفظ عشقہ سے بھی منسوب کیا جا تا ہے یہ جس درخت سے لپٹی ہے اس کو خشک بے جان کر دیتی ہے یہی حالت عاشق کی بھی ہو تی ہے جس کو ہو تا ہے اُس کو خشک اور ویران کر دیتا ہے ابو العاس احمد سے جب عشق و محبت کے با رے میں پوچھا گیا کہ محبت اور عشق دونوں میں سے کون زیادہ قابل تعریف ہے تو انہوں نے کہا ’’محبت‘‘ کیوں عشق میں انسان حد اعتدال سے تجا وز کر جا تا ہے.محبوب پر ہر چیز کو قربان کر دینے کا نام عشق ہے۔ بہت سارے اہل دانش نے عشق ِ مجازی کو عشق حقیقی کا زینہ بھی قرار دیا ہے یعنی عشقِ حقیقی سے پہلے عشق مجا زی کی لذتوں سے بھی گزرنا ہو گا عشقِ مجا زی بہت حساس راستہ ہے قدم قدم پر راہنما ئی کی ضرورت ہو تی ہے تا کہ با طن کا آئینہ بے غبا ررہے۔