یہ کلجگ ہے

38

گزشتہ زمانے میں صرف مکان کرائے پر لئے یاد یئے جاتے تھے۔ وہ بھی جب کسی کو دوسرے شہر میں ملازمت کی غرض سے جانا پڑتا تھا ورنہ اپنے شہر یا گائوں میں تو حسب حیثیت انکے پاس رہائش ہوتی تھی۔ اکثر بڑی بڑی آبائی حویلیاں ہوتی تھیں جسمیں تمام خاندان رہتاتھا۔ سب کا چولہا ہانڈی ایک ہی تھا مگر پھر زمانہ بدلا تو ہر چلن بدل گیا اب بہت سی چیزیں کرائے پر ملنے لگیں۔ جلسے، جلوسوں میں نعرے لگانے والے میراثی، ڈوھلچی، طبلچی وغیرہ جو ایک پلیٹ بریانی، قیمے والے نان پر دستیاب تھے۔ کرائے کے لئے چند سکے وغیرہ، حیرت ناک بات یہ ہے کہ مولوی ملا بھی کرائے پر ملنے لگے جس قسم کا فتویٰ چاہیے آپکے حسب منشا مل جائے گا۔
اسی طرح ایک مولوی، پیرمردود، پیر فرتوت اپنے مدرسے کی تلنگی فورس کے ساتھ حاضر ہے۔ اس سے لسی، حلوے مانڈے اور ایک بھاری رقم کا وعدہ کر لیجئے اسکی توند آپکے جلسے میں حاضر ہوگی۔ یہ مولوی فسادی فساد کا جھنڈا اٹھائے ہر وقت دستیاب ہے۔ شیطان کا بہت فرمانبردار چیلا ہے۔ دین پر یقین رکھنے والا بندہ اس مولوی کے روز حساب کے دن کے تصور سے تھر تھر کانپ رہا ہے۔
یہ فسادی ٹولہ مختلف ناموں سے میدان میں آتا ہے۔ اب PDMکی کڑھائی پھر چڑھا دی گئی ہے۔ وہ ڈاکوئوں کا سردار لندن سے ڈوری ہلا رہا ہے اور مولوی فسادی کو فساد کا جھنڈا دیکر پھر پاکستانی عوام پر مسلط کر دیا ہے۔ یہ تخم شیطان اپنے باپ کی بھی مخبری کرنے سے نہیں چوکتا تھا۔ اس کا باپ بھی اس سے سیاسی باتیں چھپایا کرتا تھا۔ ادھر لندن کے بھگوڑے نے ہدایات دی ہیں کہ عوام اس وقت سخت مشکلات کا شکار ہیں جس میں مہنگائی سر فہرست ہے۔ اس ڈاکو سے کوئی پوچھے کہ معیشت کو کس نے تباہ کیا ،کیا یہ سوچتا ہے کہ عوام باور کر لیں گے کہ یہ سب موجودہ حکومت کی وجہ سے ہوا۔ یہ چور اپنا دامن صاف دکھاتا رہے گا؟ نہیں ایسا نہیں ہو گا عوام مہنگائی کی چکی میں تو پس رہے ہیں لیکن اس افتاد کے نزول سے ناواقف نہیں۔ ابھی تو ان فسق و فجور سے بھرپور لوگوں کو پہچان گئے ہیں۔ آنے والا تاریخ دان ہر راز سے پردہ اٹھا دے گا۔ جو کارنامے ابتک خفیہ راز میں رہے۔
’’جاہلوں پر حکمرانی چاہتے ہو تو مذہب کا غلاف اوڑھ لو‘‘ (ابن رشد) جاہلوں کے ٹولے کو دیکھ ہی لیا ہو گا کہ وہ حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ ظلم اپنی انتہا سے بھی آگے بڑھ گیا اسکی مثال ناظم جوکھیو کے بہیمانہ قتل سے دیکھی جا سکتی ہے۔ ابھی تو قوم ظاہر جعفر کے قتل کو جو کہ اس نے نور مقدم کا کیا یعنی قتل کے بعد گردن تن سے جدا کر دی۔ ناظم جوکھیو کا جرم اتنا ہی تھا کے شکار پر آنے والے مہمانوں کی ویڈیو بنا لی تھی۔ اسکی لاش کے بارے میں جس پر تشدد کیا گیا تھا پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے جس نے وہ لاش دیکھی ہو گی اسکی کیا حالت ہوئی ہو گی۔ اس پر تشدد کرنے والے شاید نشے میں تھے یا انسانیت سے خالی کوئی اور مخلوق تھے جنہوں نے کند ہتھیار سے اسکے جسم کا کوئی حصہ مضروب کرنے سے نہیں چھوڑا۔ پورا جسم خراشوں سے بھرا ہوا اور سوجا ہوا تھا۔ اندرونی بلیڈنگ ہوئی تھی جسمیں سر بھی شامل تھا آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ بقیہ حالات تحریر کرنے سے قلم قاصر ہے۔ پتہ نہیں مجرمان کو پکڑا جاتا ہے یا نہیں؟ کیا سزا ملتی ہے یا یہ 27سالہ جوان بغیر کسی انصاف پائے قبر میں اتر جاتا ہے۔ سوچئے اسکے گھر والے کیا زندگی بھر اسکی اذیت پر تڑپتے نہیں رہیں گے؟ کیا کوئی بھی قانون ناظم جوکھیو واپس لا سکتا ہے؟ عوام شور مچاتے ہیں، سزائیں تجویز کرتے ہیں عمل درآمد کب ہوتا ہے؟ پیسے میں بڑی طاقت ہے۔ سب کچھ بکتا ہے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ قانون کے رکھوالے بڑے دم دلاسے دیتے ہیں۔ ہوتا ہواتا کچھ نہیں یہ اپنے سر سے ذمہ د اریاں ہٹانے والی بات ہوتی ہے۔ کیوں شور مچاتے ہو یار تمہار بندہ تو واپس آنے سے رہا مک مکا کرکے جان چھڑائو اور قانون کے رکھوالے اپنا دامن چھڑا لیتے ہیں۔
جنسی جرائم بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ ملا مولوی بھی پیچھے نہیں غریبوں کے جگر گوشے مدرسوں میں پامال کر دئیے جاتے ہیں۔ کبھی چھتوں سے پھینک کر شور مچا دیا جاتا ہے کہ خودکشی کر لی آٹھ سالہ بچے نے۔ کبھی ریلوے لائن پر کٹی پھٹی لاش ملتی ہے۔ یہ مشہور کر دیا جاتا ہے کہ مدرسے سے فرار ہوا تھا۔ غلطی سے ٹرین کے نیچے آگیا۔ کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔ عوام الٹے سیدھے بہانوں پر یقین کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ مایوس ہو چکے ہیں کہ کسی بھی جرم کے خلاف آواز اٹھانے والا بھی مار دیا جاتا ہے۔ یہ سب غیر قانونی کارروائی ہوتی رہیں گی انکی روک تھام ناممکن ہوتی جارہی ہے کیونکہ یہ سب کچھ بااثر لوگوں کے زیر اثر ہورہا ہے۔ مافیا بڑا طاقتور ہے قانون دان بھی خوف زدہ ہیں انکی بھی جان و مال دائو پر لگا ہوا ہے۔ حکومت کی طرف سے انکی حفاظت کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں، گواہان خائف ہو جاتے ہیں۔ انکو بھی مختلف طریقوں سے خوفزدہ کر دیاجاتا ہے۔
ایک ایک نیا جرم بھی سامنے آیا ہے پہلے تو مالز میں جو ٹرائل روم ہوتے تھے ان میں کیمرے نصب کر دئیے جاتے تھے اور کپڑوں کے ٹرائل میں انکی تصویر لے لی جاتی تھی پھر انہیں بلیک میل کیا جاتا تھا۔ اب سنا ہے تعلیمی اداروں میں ٹوائلٹ میں کیمرے لگے پائے گئے ہیں۔ تعلیمی ادارے پہلے مختلف قسم کے نشوں میں ملوث پائے گئے اب یہ کیمرہ (سکینڈل) سامنے آگیا ہے خرابی وہاں سے شروع ہوئی جب پولیس والے رشوت لینے لگے۔ کچھ کے سر پر بڑے بڑے سیاستدانوں کا ہاتھ تھا۔ سب سے پہلا کام پولیس والوں کی تنخواہیں مناسب ہونی چاہئیں تھیں تاکہ وہ حرام مال کمانے کی طرف راغب نہ ہوں۔ انکے کردار کے بارے میں پوری چھان بین کے بعد ملازمت دی جاتی۔ انگریز نے پولیس میں بھرتی سے پہلے لوگوں کی خفیہ معلومات حاصل کیں انکے خاندان تک کی چھان پھٹک کی جاتی تھی یہی وجہ تھی اچھے خاندانی اور باضمیر لوگ بھرتی کئے جاتے وہ اس مثل پر عمل کرتے تھے۔ ’’اصل سے دغا نہیں کم اصل سے وفا نہیں‘‘ سب سے پہلے پولیس کے محکمے کو صحیح کیا جائے۔ تب ہی قانون کی بالادستی قائم ہوسکتی ہے چونکہ جرم کی اطلاع سب سے پہلے پولیس کو ہی ملتی ہے۔ امید ہے صاحب اقتدار اس پر غور کریں گے۔