معاشی عدم استحکام!

283

پاکستان میں کوئی حکمران ایسا نہیں آیا جس کو تین چیزوں کا علم ہوتا، ایک تو پاکستان کے مسائل کا ادراک، پاکستان کے وسائل کا علم اور یہ کہ پاکستان کے وسائل کو کیسے فروغ دینا ہے اور اس کے علاوہ معاشی منصوبہ بندی کو کیسے بروئے کار لانا ہے، پاکستان کے اتھلے ذہن کے صحافی جن کی صحافت کی کوئی تربیت ہی نہ تھی وہ لیاقت علی خان کی اس بات پر ڈھول پیٹتے رہے کہ انہوں نے اس وقت نمک پر ٹیکس لگادیا تھا جب وہ غیر منقسم ہندوستان کے وزیرخزانہ تھے، یوں بھی یہ ٹوپی لگا کر رپورٹنگ کرنے والے کسی بھی بات کے اثرات سے واقف تو تھے نہیں، یہ وہ لوگ تھے جن کو نوکریاں نہیں ملتی تھیں اُردو لکھ لیتے تھے، ہمارے کالم نگار بھی سیاست کی باریکیوں کو تو جانتے نہیں تھے بس کسی بھی خبر پر ایک ردعمل اور یہ روش آج بھی باقی ہے، زیادہ تر کالم نگار خبر پر گفتگو کرنے کو تجزیے سے تعبیر کرتے ہیں یہی حال سارے ٹی وی اینکرز کا ہے ان کو عالمی سیاست کے رموز اور بین القوامی امور کی نزاکتوں کا علم نہیں ہوتا، اور نہ ہی اپنے ملک کے مسائل کا، ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حقیقی مسائل پر بات نہ کی جائے یاان کی نشان دہی نہ ہو، وہ نہیں جانتے کہ قوم کیسے بنتی ہے اور ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں، ملک کی ترقی کس چڑیا کا نام ہے، جدید سیاسیات میں کوئی ملک مذہب کی بنیاد پر باقی نہیں رہ سکتا،اور یہ بات تو تین صدیوں پہلے ہی طے کی جا چکی تھی جب پارلیمنٹ کو چرچ پر فتح نصیب ہوئی تھی اور مذہب کو انسان کاذاتی مسئلہ مان لیا گیا تھا تو پاکستان جس کو جمہوریۂ پاکستان ہونا چاہیے تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان کیسے ہو گیا، یہ کیسے ہوا کہ اسلام جو پندرہ سو سال تک ملوکیت کی گود میں پلا وہ جمہوریت کا متبنیٰ ہو گیا اور یہ دونوں شیر و شکر ہو گئے، کتنے ہی فتوے جمہوریت کے خلاف آئے مگر جب یہ پتہ چلا کہ اقتدار کا راستہ یہیں سے گزرتا ہے تو جمہوریت حلال ہو گئی بس اس کے ایک کونے پر حلال لکھا گیا اور جمہوریت اسلامی جمہوریت بن گئی، جب آل انڈیا کانگریس بنی تو اس کا BASIC CONCEPTبرطانیہ نے اپنی جمہوریت کے حوالے سے دیا تھا کانگریس کی تشکیل دیسی اصولوں یا مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی مسلم لیگ کی تشکیل بھی انہی خطوط پر ہوئی جب جمہوریت کو ایک پیکیج کے طور پر قبول کیا گیا ہے تو یہ ایک دھوکہ تھا کہ جمہوریت پر اسلام کا لیبل لگا دیا جائے مگر اسلام کے نام پر کچھ بھی بیچا جا سکتا ہے سو یہ چورن خوب بکا۔
دنیا بھر کے آئین پڑھ جائیے ان میں ریاست کا بنیادی مقصد حکومت کی تشکیل کر کے حکومت کے سارے اجزائے ترکیبی کو اس مرکز کی جانب لانا ہوتا ہے کہ ملک میں HUMAN DEVELOPEMENTکیسے کی جائے اسکا مقصد ملک کی حدود میں رہنے والے ہر فرد کی بلا تفریق مذہب رنگ و نسل، معاشی، جسمانی، تعلیمی اور ثقافتی نشوونما اور ترقی ہوتا ہے اور HUMAN DEVELOPMENTکو انسانی حقوق پر رکھی گئی ہے، ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کا نام اپنے لئے پسند کر لیتے ہیں اور باقی تمام شرائط اسلام کا نام لے کر مسترد کر دیتے ہیں مگر ساری اسلامی تاریخ یا اسلامی فقہے سے اس کا متبادل نکال کر نہیں دکھاتے، بھٹو عجیب سیاست دان تھا جس کو لوگ ذہین اور زیرک کہنا نہیں بھولتے وہ سوشلزم پر آیا اور پاکستان کو اسلامی آئین دے کر چلا گیا، اس کو معلوم تھا کہ وہ ملک کس کے حوالے کر کے جارہا ہے اور پھر اسلام کے نام پر اس ملک میں کیا ہو گا، دینی حلقوں کی عیاری کمال کی رہی بھٹو سے اسلامی آئین بنوایا اور پھر یہ نام نہاد اسلام ایک تلوار کی طرح عوام کے سروں پر چالیس سالوں سے لٹک رہا ہے، انسانی حقوق ،صحت، تعلیم اور معاشی ترقی سب خواب ہو کر رہ گئے، معاشی منصوبہ بندی جو اس دور میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی اہم معاشی پالیسی ہوتی ہے اس سے ملک کے کسی حکمران کو سروکار نہیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس بیماری کا علاج ممکن ہے اور اچھی معاشی پالیسی اس کا حل ہے، مگر ایوب خان کے وزیر خزانہ شعیب کے بعد پاکستان کو کوئی اچھا ماہرِ معاشیات نہ مل سکا مگر یہ بھی ہے کہ ملک کی معاشی حالت کو بہتر کرنا کسی حکومت کی ترجیح تھی ہی نہیں، اسلامی مفکر کیمونزم اور سرمایہ داری پر لعنتیں تو بھیجتے ہیں مگر سارے عالم اسلام کے کوئی طرم خان اسلامی معاشی نظام وضع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا، کمیونسٹ فلاسفی کا ایک جملہ ہی اس فلسفے کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے بہت ہے اس فلاسفی میں کہا گیا ہے ہم اشیاء منافع کمانے کے لئے نہیں بناتے بلکہ یہ سوچ کر بناتے ہیں کہ یہ انسانوں کی ضرورت ہے روس نے لگاتار چار معاشی منصوبے بنا کر اور ان کے سو فیصد اہداف حاصل کر کے دنیا کو ورطہ ء حیرت میں ڈال دیا، اور یہی معاشی منصوبہ بندی ECONOMICS OF PLANNINGکی بنیاد بنی جس کی ترقی پذیر ممالک میں بہت پذیرائی ہوئی اور بیشتر سرمایہ دار ملکوں نے اس سے فیض پایا آج ECONOMICS OF PLANNINGمغرب کی تمام یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے مگر اسلام میں حرام ہے، سرمایہ دار اور فیوڈلز کی کمینگی دنیا نے دیکھی ہے یہ کیمونزم کا دبائو تھا کہ سرمایہ داری نے فیصلہ کیا کہ صارف کو زندہ رکھا جائے اور CONSUMERS ECENOMYکا تصور ابھرا۔
پاکستان میں جوہری دھماکوں کے بعد عالمی طاقتوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو صنعت کاری کی طرف جانے سے روکا جائیگا اور پاکستان کے سیاست دانوں کو اقتدار کا لالچ دے کر پاکستان کو صنعت کاری کی جانب جانے سے روک دیا گیا، منگلہ ڈیم اور جامشورو ڈیم نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا تھا پھر کیا وجہ تھی کہ مزید ڈیم نہیں بنائے گئے اسکا جواب یہی ہے کہ ہم پر عالمی دبائو تھا بجلی گیس کا مصنوعی بحران اور گزشتہ سالوں میں اس کی شدت میں اضافہ سمجھ سے باہر ہے اور یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ عمران کو ایک خاص ایجنڈے کی تکمیل کے لئے لایا گیا ہے ورنہ اس دور میں مرغی، چوزے، کٹوں، پناہ گاہوں، لنگر خانوں کی بات کوئی فاتر العقل ہی کر سکتا ہے اور عمران نے صنعتی ترقی کو چھوڑ کر عوام کی دینی تربیت کا کام اپنے ذمہ لگا لیا ہے اور اس کام میں فوج اس کی معاون ہے، اب تو یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ IMFکو پاکستان میں لانا اور اسٹیٹ بنک کو اس کے تابع کر دینا اسی ایجنڈے کی کڑی ہے تاکہ عوام کی رہی سہی قوت بھی جواب دے جائے، عمران کو کسی قیمت پر عوام دوست نہیں کہا جاسکتا، یہ بدترین حکمرانی پاکستان کو لے ڈوبے گی۔