اور سگ آزاد!!

270

اب عمران کا کوئی بد خواہ، مخالف، دشمن یا پھر اور کوئی جسے عمران کی ذات میں صرف عیب ہی عیب نظر آتے ہیں کم از کم یہ نہیں کہہ سکے گا کہ یہ شخص جو کہتا ہے اس پہ عمل نہیں کرتا۔
عمران نے دہشت گرد تنظیم، لبیک پاکستان سے جو خفیہ معاہدہ چند دن پہلے کیا تھا، اور جس کی بات ہم نے اپنے گذشتہ کالم بھی کی تھی اس کی تفصیلات اور جزئیات اگرچہ ہنوز غلاف میں لپٹی ہوئی معاہدہ کے ثالث اور امین مفتی منیب کے پاس ہیں لیکن اس معاہدہ کی ایک شرط، دہشت گرد تنظیم کی طرف سے ان کا ایک بنیادی مطالبہ پورا کردیا گیا ہے۔ اسے پورا کرنے اور اپنا عہد نبھانے میں عمران حکومت نے گھڑی کی چوتھائی دیر بھی نہیں کی۔
دہشت گردوں کا مطالبہ یہ تھا کہ اس حکومت نے اسی برس، اپریل کے مہینے میں، جو اسے کالعدم قرار دیا تھا، اس فیصلہ کو واپس لیا جائے اور اسے ہر طرح کی آزادی دیجائے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کی حیثیت میں اپنا کاروبارِ شر جاری رکھ سکے۔ سو یہ مطالبہ حکومت نے بے چون و چرا مان لیا ہے۔ آج ہی سرکار کی طرف سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے جس کے ذریعہ اس کالعدم کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اب تحریک لبیک پاکستان کو ملک میں وہی مقام حاصل ہوگا جو عمران کی تحریکِ انصاف کو ہے، یا زرداری کی پیپلز پارٹی کو ہے یا رائے ونڈ کے برائے نام شریفوں کی جماعت کو ہے۔ میں ان شریفوں کی چنڈال چوکڑی کو مسلم لیگ کبھی نہیں کہتا کیونکہ ان کی گھٹیا ذات سے قائد اعظم کی مسلم لیگ کو برائے نام بھی جوڑنا میرے نزدیک قائد اور ان کے پاکستان کی کھلی ہتک ہے۔
لیکن اب اس کو کیا کہا جائے کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی کی سیاست کرنے والا کٹھ ملاوں کا ایک بد باطن اور بد نہاد گروہ بھی، جس کے معتقیدین اور پیروکار خون بہانا اپنا دینی حق سمجھتے ہیں، اب باقاعدہ ایک سیاسی جماعت کے تسلیم کرلیا گیا ہے اور اب اس پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی کہ وہ جتنا چاہے کھل کھیلے اور دین کے پردے میں قتل و غارت گری کو فروغ دے۔
عمران حکومت اس جرم میں فریق بن گئی ہے اس پر بھی ہمیں کم از کم حیرت نہیں ہے اور اس کی وجوہات بھی ہیں۔ پہلی وجہ تو عمران کے اپنے خیالات و عقائد پر ایسے عناصر کی اثر اندازی ہے جو دین کو درگاہوں اور خانقاہوں تک ہی محدود سمجھتے ہیں۔ عمران کی ضعیف الاعتقادی کا پاکستان میں چرچا عام ہے۔ ہمیں کبھی کسی فرد کے عقائد سے تعرض نہیں رہا، عمران کے عقائد سے بھی نہیں ہے، لیکن جب سربراہِ حکومت اپنے عقائد و نظریات کو اپنی پالیسی یا پالیسیوں کا مدار بنائے تو پھر اس کے عقائد اس کی ذات سے بڑھ کر ملک و قوم کی روش پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے خطرے کی گھنٹیاں بجنی شروع ہوجاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے دہشت گردوں کے اس حکومت نے جس طرح سے ناز اٹھائے ہیں اور ان کے غمزوں کو سینے سے لگایا ہے اس کے بعد تو ہر باشعور شخص اپنے ارد گرد خطرے کی گھنٹیوں کا شور سن سکتا ہے اور سن رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عمران اور حواریوں نے اپنی آنکھوں پر پٹیاں باندھ لی ہیں اور کان ہوتے ہوئے بھی سماعت سے محروم ہوگئے ہیں۔
ناز برداری کی دوسری بڑی وجہ اور بھی تکلیف دہ اور اپنے مضمرات میں پاکستان کے حق میں مزید فالِ بد ہے۔ وہ وجہ ہماری عسکری قیادت میں مذہبی انتہا پسندی کی کھلی ہوئی حمایت اور سرپرستی کا رجحان ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ آج سے چار برس پہلے جب یہ دہشت گرد، اپنے اس وقت کے مفسد قائد، خادم رضوی، کی کمان میں اسلام آباد میں دھرنا دیکے بیٹھ گئے تھے اسی وقت یہ مناظر عام دیکھنے کو ملے تھے کہ وردی میں ملبوس اعلی افسران مفسدوں اور شرپسندوں میں فیاضی سے پیسے بانٹ رہے تھے۔ سرپرستی اور حوصلہ افزائی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہئے؟ پھر اس بار بھی دہشت گردوں کا منہ بند کرنے کیلئے پاکستان کی اعلی ترین عسکری قیادت حرکت میں آئی اور پھر، یک نہ شد دو شد، مفتی منیب کو بھی ثالثی میں حاکم بنایا گیا۔ پاکستان کے میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا، جو اس دور میں سماجی رویوں اور آراء کو پرکنے کی سب سے بڑی کسوٹی بن چکا ہے، اس پر جو تبصرہ آپ چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں جن کا لبِ لباب یہی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو ملٹری اور ملاؤں دونوں کی سرپرستی حاصل ہے اور عسکری قیادت، بطورِ خاص، اس شرپسند تحریک کو حکومتِ وقت کی مشکیں کسنے اور کلوں پر مکمل اختیار حاصل کرنے کیلئے بطورِ ہتھیار استعمال کرنا چاہ رہی ہے بلکہ صاف لفظوں میں یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ استعمال کررہی ہے۔
تو اب یہ وہ صورتِ حالات ہوگئی ہے یا تیزی سے ہورہی ہے کہ جس کا بے مثال نمونہ مرحوم فیض احمد فیض کا یہ ایک مصرعہ ہے ؎
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد !
اب پاکستان میں کس انداز کی سیاست ہوگی اور انتہا پسند سیاسی جماعتیں، جنہوں نے دین کا چولا اپنے بدن پر ڈالا ہوا ہے تاکہ بدن کے بدنما داغ چھپاسکیں، کس طرح اپنا انتہا پسندی کا ایجنڈا حکومتِ وقت سے منوائینگی، اس بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہنا چاہئے۔ اب یہ رواج بن جائے گا، اور کیوں نہ بنے کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدا ایک انتہا پرست سیاسی تنظیم، جس کے دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے تھے کہ ان چند برسوں میں، صرف چار برس میں وہ ریاستِ پاکستان کے ساتھ، اس تازہ ترین معاہدہ کے بشمول، ایک دو نہیں بلکہ پورے سات معاہدے کامیابی سے کرچکی ہے اور ہربار اس کے غنڈوں اور شر پسندوں نے قتل و خونریزی کا بازار گرم کرکے حکومتِ وقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔
تو اب، وہ جو کہا جاتا ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، تو تحریکِ لبیک کی دیکھا دیکھی اور جماعتیں بھی احتجاج اور دھرنے اور ملک کے ذرائعِ حمل و نقل کو مفلوج کرنے کی گندی اور ناپاک سیاست کو اپنا شعار بنا لیںگی اور پاکستانی سیاست اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی نظام ان دہشت گردوں اور شرپسندوں کے ہاتھوں میں کٹھ پیلی ہوکر رہ جائے گا۔ تاریخ میں شر اور فساد کی ایسی پیش رفت کیلئے بس ایک ہی تعریف ہے، اور وہ ہے طوائف الملوکی۔
ہماری اسلامی تاریخ اور خاص طور پہ ہماری برصغیر کی آٹھ سو برس کی مسلم حکمرانوں اور سلاطین کی تاریخ طوائف الملوکی کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک سے ایک بڑی حسرتناک داستان تاریخ کے صفحات پہ رقم ہے جس میں سازشی ملوک اور امراء کمزور اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو یوں مسندِ اقتدار پہ بٹھاتے اور ہٹاتے تھے جیسے شطرنج کی بساط پہ مہرے بٹھائے جاتے ہیں۔
دکھ ہوتا ہے عمران خان اور اس کی حکومت کا یہ حالِ زار ہوتا دیکھ کر کہ ایک شخص جو اپنی ذات سے بہت کھرا اور ایماندار ہے، اس میں اس طرح کی کوئی اخلاقی کمزوری نہیں ہے جو زرداری اور نواز جیسے شاطروں اور چوروں کا سر نامہ ہے، وہ پاکستان کیلئے اپنے دل میں بہت درد و ملال بھی رکھتا ہے اور اصابتِ نیت کے ساتھ پاکستان کے حالات سنوارنے کیلئے کوشش بھی کررہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی کچھ ایسی کمزوریاں ہیں جن سے اس کے دشمن نہیں بلکہ وہ ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں جو بظاہر اس کے دوست اور کے اقتدار کے ضامن کہلائے جاتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور اسے بھنور سے نکالنے کیلئے عمران کی تدابیر، آہستہ ہی سہی، اب مثبت نتائج پیش کررہی ہیں۔ پاکستان کی درآمدات میں کمی ہورہی ہے اور برآمدات میں فروغ۔ سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ کپاس کی فصل بہت اچھی ہوئی ہے اور کپاس پاکستانی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت پاکستانی برآمدات میں سرِ فہرست ہے اور اس سال ٹیکسٹائل مل مالکان کی انجمن کے صدر کا یہ کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل کی برآمدات بائیس ارب ڈالر تک ہوجائینگی جس سے مجموعی برآمدات کا حجم 35 ارب ڈالر تک بڑھ جانے کی امید ہے۔ یہ تمام شماریات پاکستانی معیشت کیلئے بہت اچھی خبر ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی دہشت گرد تنظیموں کو کھلی چھٹی دینا تشویش کا باعث ہے اور وہ یوں کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے متعلق مغربی ممالک میں، بھارت کی شہ پر، بہت منفی رجحانات پائے جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے بارہا پہلے بھی کہا ہے، آج کی دنیا میں خبر پر لگاکر اُڑتی ہے۔ دنیا پاکستان کو تحریکِ لبیک جیسی دہشت گرد جماعت کی حوصلہ افزائی کا اگر ذمہ دار قرار دے تو وہ غلط نہیں ہوگا اور ہم اس حیثیت میں نہیں ہونگے کہ یہ کہہ سکیں کہ یہ الزام ہم پر ہمارے دشمنوں کے ایما پر لگایا جارہا ہے۔ جب حکومت اپنے آپ کے شرپسندوں کے سامنے بے بس اور مجبور کے طور پہ پیش کرے تو پھر دشمن کو یا دشمنوں کو الزام دینے کیلئے ہمارے پاس کیا جواز رہ جاتا ہے؟
اس مایوسی کے عالم میں ایک بہت دل کو شاد کرنے والی خبر تو یہ ہے کہ ہمارے کرکٹ کے شاہین دبئی میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مقابلوں میں میدان پر میدان مارتے ہوئے اب سیمی فائنل میں پہنچ گئے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ مسرور کن پیش رفت یہ ہے کہ بھارت کی ٹیم پاکستان سے ہارنے اور رسوا ہونے کے بعد اب مقابلے سے باہر ہوگئی ہے۔ گویا مودی کے بنیؤں کے غرور کا سر کچل دیا گیا ہے۔
دعا کیجئے کہ اگلے ہفتے جب یہ کالم لکھا جائے تو اس خوش خبری کے ساتھ اس کا آغاز ہو کہ پاکستان نے یہ مقابلہ، یعنی ورلڈ کپ پھر سے جیت لیا ہے۔ پاکستان نے پہلا ورلڈ کپ 1992 میں کپتان عمران خان کی قیادت میں جیتا تھا تو اب یہ فالِ نیک ہے کہ وہی کپتان آج پاکستان کا حکمراں ہے اور ملک کے جملہ امور کا کپتان ہے۔ اس کی قیادت میں، اس کے دورِ حکمرانی میں پاکستانی ٹیم کا پھر سے ورلڈ کپ جیتنا تو سونے پر سہاگہ ہوگا۔ خدا کپتان کی لاج رکھے اور ہم سب کی دعاؤں کے ساتھ پاکستان کے شاہین قوم کا سر فخر سے بلند کردیں۔ آمین۔