قومی سلامتی کا اجلاس ،اپوزیشن تیار، مائنس عمران خان کیا ممکن ہو سکتا ہے؟

262

قومی سلامتی کااجلاس ختم ہو گیا، جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے تمام شرکاء کو بریفنگ دی اس اجلاس میں تقریباً 78شرکاء نے اپنی اپنی حاضری لگائی اس میں قومی اسمبلی کی تمام ہی پارٹیوں کی نمائندگی موجود تھی، شہباز شریف بھی تھے، بلاول نے بھی اپنی موجودگی ثابت کی۔ پی ٹی آئی سے شیخ رشید سمیت شاہ محمود قریشی سب اہم رہنما موجود تھے۔ ہنسی مذاق کا ماحول بھی برقرار رہا۔ ایک رہنما نے جب جنرل باجوہ سے پوچھاآپ عمران خان کو ساتھ لیکر نہیں آئے، اس پر جنرل باجوہ کا جواب تھا ’’وہ میرے باس ہیں‘‘ اس جواب میں دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ عمران خان وزیراعظم ہیں اور وہ جو چاہیں فیصلے کریں۔ دوسرے وہ یہ بھی ظاہر کرنا چاہ رہے تھے کہ ان کی ٹیم شیخ رشید سمیت موجود ہیں ان کا آنا کوئی ضروری نہیں لیکن اس قومی سلامتی کے اجلاس سے بھارتی میڈیا نے بہت زیادہ شور مچانا شروع کر دیا ہے کہ عمران خان کی چھٹی ہو رہی ہے اور فوج کسی اور کو حکمرانی سونپنے جارہی ہے۔ عمران خان کے نہ آنے سے اپوزیشن اور دوسری پارٹیوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ کھل کر منصوبہ بندی کر سکیں اور مشورہ کر سکیں کہ کس طرح عمران خان کو ہٹایا جائے۔
اپوزیشن اس وقت سارا زور لگارہی ہے کہ کسی طرح مائنس عمران خان پی ٹی آئی میں سے ہی کسی کو وزیراعظم بنوا دیا جائے اور عمران خان کے پیروں کے نیچے سے قالین کھینچ لی جائے۔ اسکے بعد جو بھی پی ٹی آئی کا وزیراعظم ہو گا اس کو ہٹانا اور پی تی آئی کو شکست دینا زیادہ آسان ہو گا۔ ان کے سامنے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر ایسے دو آدمی ہیں جن کو پارٹی کے ارکان زیادہ سپورٹ کریں گے دوسرے جو ارکان دوسری پارٹیوں سے پی ٹی آئی میں گئے ہیں ان کو پلٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی بلکہ ان میں سے کئی لوگ اب بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے رابطوں میں ہیں اور اندر کی خبریں ان دونوں پارٹیوں کو دیتے رہتے ہیں۔
سب سے اہم بات عمران خان کا رویہ ہے۔ وہ کسی طرح بھی ان دو پارٹیوں کے رہنمائوں سے ملاقات کرنے یا ہاتھ ملانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ وہ ان دونوں پارٹیوں کے رہنمائوں کو چور اور ڈاکوا کے القاب سے نوازتے ہیں شاید قومی اسمبلی میں صرف ایک مرتبہ ہی عمران خان نے شہباز شریف یا بلاول سے ہاتھ ملایا ہو گا۔ نواز شریف تو اسکے دور حکومت میں پارلیمنٹ میں تھا ہی نہیں اسی لئے اس سے ملنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا عمران خان ہر بات کو اپنی انا کامسئلہ بنا لیتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے مسئلے پر اپائمنٹ جنرل ندیم کی ہی انائونس ہوئی لیکن دو ہفتہ تک قوم اور پوری دنیا کو انتظار میں رکھا گیا ساتھ ساتھ فوج کو بھی ذلت کا نشانہ بنایا گیا۔ پورا میڈیا طرح طرح کی باتیں کرتا رہا لیکن عمران خان نے اپنے آپ کو تسلی دی اس طرح کی وہ حرکتیں کرتے رہتے ہیں باتیں وہ بہت بڑی بڑی کرتے ہیں ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں لیکن سارے چور ڈاکو ان کی حکومت میں بھرے ہوئے ہیں۔ آدھے وزراء کمیشن خور ہیںاور مال بنانے میں لگے ہوئے ہیں ان کو عمران خان سے کوئی ڈرخوف نہیں ہے۔ ان کو پتہ ہے عمران خان کی حکومت صرف 5ووٹوں کی اکثریت سے ٹکی ہوئی ہے جس دن پانچ ممبر ادھر ادھر ہو گئے عمران کی حکومت گر جائیگی شائد اسی عمران خان کی حکومت کی کمزوری نے ان کو نڈر اور بے غیرت بنادیا ہے وہ اپنے مال بنانے اور عمران حکومت کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ عمران خان اس چیز کو سمجھ کر بھی سمجھ نہیں پارہے ہیں۔
اس وقت عمران خان کے سامنے کئی محاذ کھلے ہوئے ہیں فوج آہستہ آہستہ اپنے آپ کو پیچھے ہٹاتی جارہی ہے۔ جنرل باجوہ کے ریٹائرمنٹ کے بعد نیا آرمی چیف ان کی حمایت کریگا یا نہیں یہ ایک سوال ہو گا نئے چیف جسٹس اگر قاضی عیسیٰ کے صاحبزادے ہی ہوتے ہیں تو عمران کو آخری سال بہت سی مصیبتیں جھیلنے پڑیں گی قاضی فائزعیسیٰ عمران خان کی حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے۔ آنے والے دنوں میں عمران حکومت ہر طرف سے سازشوں میں گھرتی چلی جائے گی۔ اس کی پارٹی کے ممبر اس کے دشمن، فوج غیر جانبدار، امریکہ ناراض، میڈیا دشمن، ساتھ ساتھ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ آئی ایم ایف دھمکی پر دھمکی لگارہا ہے۔ معیشت بہت کمزور ہے۔ مریم نے گالیاں دینے کی قسم کھارکھی ہے۔ عمران خان نے اپنے 5سال اگر پورے بھی کر لیتا ہے تو کیا وہ آئندہ الیکشن جیت پرئیگا، یہ ایک بہت بڑا سوال ہے؟