پاپولزم کا مستقبل

293

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور صدارت میں پاپولسٹ تحریک کا سب سے بڑا لیڈر تھا اُس نے نہ صرف اپنے ملک میں پاپولسٹ سیاست کو فروغ دیا بلکہ دنیا بھر کے پاپولسٹ حکمرانوں کی پر زور حمایت کی اسے شائد اس بات کا احساس تھا کہ پاپولزم کی تحریک جتنے پر پرزے نکالے گی اتنا اسکے اقتدار کو دوام حاصل ہو گا اِس نے نریندرا مودی کے غیر انسانی اور غیر جمہوری انداز حکومت کو نظر انداز کرتے ہوے اسکے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا ڈونلڈ ترمپ کے دور میں فلپائن کے صدر Rodrigo Duterte جن پر آجکل International Criminal Court میں دو سو سے زیادہ افراد کو منشیات کے خلاف حکومتی آپریشن میںہلاک کرنے پر مقدمہ چل رہا ہے کی طرفداری کی اور انکے آمرانہ طرز حکومت پر کبھی بھی تنقید نہ کی اسی طرح ہنگری کے وزیر اعظم Viktor Orban ‘ برازیل کے صدر Jair Bolsonaro اور بیلا رس کے صدر Alexander Lukashenko سے انکے قریبی تعلقات تھے ڈونلڈ ٹرمپ ان پاپولسٹ حکمرانوں کے آمرانہ ہتھکنڈوں کو دیکھتے ہوے بھی انکی حمایت کرتے رہے ترکی کے صدر طیب اردوان نے ہزاروں مخالفین کو جیلوں میں بند کیاسینکڑوں ترک صحافی یورپی ممالک جا چکے ہیںترکی اور نیٹو ممالک کے اختلافات ٹرمپ کے دور حکومت میں اپنے عروج پر تھے انہی دنوں طیب اردوان نے روس سے S–400 ائیر ڈیفنس سسٹم خریدنے کا معاہدہ کیا یورپی ممالک نے طیب اردوان کو سخت نتائج کی دھمکی دی مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ سب کچھ نظر انداز کرتے ہوے ترکی کے صدر سے تعلقات برقرار رکھے سابق امریکی صدر نے وزیر اعظم عمران خان کا بھی وائٹ ہائوس میں پر تپاک استقبال کیا ان دنوں امریکی اسٹیبلشمنٹ اور روس میںکشیدگی عروج پر تھی مگر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے تھے اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہر پاپولسٹ حکمران کی طرح ٹرمپ بھی اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھے
پاپولزم کی تحریک انیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوئی تھی اس تحریک کے لیڈر وں نے اس نظریے پر اپنی سیاست کی بنیاد رکھی کہ عوام اخلاقی طور پر مضبوط ہوتے ہیں اور اشرافیہ کرپٹ اور خود غرض ہوتی ہے انکا کہنا تھا کہ کرپٹ حکمران اپنے مفادات ‘ بڑی کارپوریشنوں اور بیرونی ممالک کے احکامات کو عوام کی خواہشات اور ضرورتوں پر ترجیح دیتے ہیں ہر پاپولسٹ تحریک کسی ایسی کرشماتی شخصیت پر انحصار کرتی ہے جسمیں بے پناہ خود اعتمادی ہوتی ہے‘ جو اپنے آپ کو قوم کا مسیحا سمجھتا ہے اور جسے یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کو کرپشن‘ تنزل اور تباہی سے بچا سکتا ہے اسکے خیال میں سیاسی میدان اچھائی اور برائی کی قوتوں کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ کا اکھاڑا ہوتاہے اس میدان حرب و ضرب میں کرپٹ اشرافیہ ہر صورت میں عوام سے شکست کھاتی ہے پاپولسٹ حکمران معاشرے کو واضح طور پر کئی دھڑوں میں تقسیم کر کے کاروبار مملکت چلاتے ہیں انکے مخالفین انکے لئے Demagogue کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اس سے انکی مراد ایک ایسا سیاستدان ہے جو عام آدمی کے سامنے پیچیدہ قومی مسائل کے نہایت آسان حل پیش کر کے انکی ہمدردیاں حاصل کر تا ہے وہ لوگوں کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش تو کرتا ہے مگر قومی مسائل کا کوئی عقلی اور منطقی حل پیش نہیں کرتا وہ لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا فن بھی جانتا ہے اور بڑی مہارت سے اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ کو نیکی اور بدی کی قوتوں کا تصادم قرار دیتا ہے اسکی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے پورے ملک میں اسکا ایک فین کلب ہوتا ہے جو ہر وقت اسکے کارناموں کی تعریف و توصیف کرنے کے علاوہ اسکی ہر غلطی اور کوتاہی کی پردہ پوشی کیلئے تیار ہوتا ہے اپنے مسیحا کی مدح سرائی اس فین کلب کے کلچر کا بنیادی ستون ہوتا ہے
گذشتہ صدی میںاور آجکل بھی پاپولسٹ حکمران نیشنلزم‘ لبرلزم اور سوشلزم کے فلسفوں سے اپنی سیاست کیلئے خام مواد حاصل کرتے ہیں آج بھی دنیا کے ہر خطے میں دائیں اور بائیں بازو کے پا پولسٹ حکمران مختلف سیاسی فلسفوں کی بنیاد پر حکومت کر رہے ہیں حکمرانوں کے اس طبقے کو ماہرین معاشیات نے ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا ہے انکا کہنا ہے کہ پاپولسٹ حکمران کیونکہ عوام سے ڈھیر سارے وعدے کر کے اقتدار حاصل کرتے ہیں اسلئے انہیں بہت جلد بیرونی ممالک سے ڈھیر سارے قرضے لینے پڑ جاتے ہیںان ماہرین کی رائے میں ہر پاپولسٹ حکمران کی اقتصادیات اور دیگر امور مملکت سے ناواقفیت بہت جلد معاشی تنزل کی صورت میں سامنے آ جاتی ہے بعض پاپولسٹ حکمران اس تباہی کو دیکھتے ہوے بہت جلد اصلاح احوال کی کوشش کرتے ہیںمگرڈونلڈ ٹرمپ کی طرح مسیحائی کے سرور میں ڈوبے ہوے حکمران اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار سے رخصتی کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ‘ یورپ اور دیگر ممالک کو بھی پاپولزم سے نجات مل جائیگی مگر امریکہ کی چھ ریاستوں میں دو نومبرکو ہونیوالے انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی میدان میں موجود ہے اور امریکی پاپولزم بھی کہیں نہیں جا رہا میں اس کالم میں حالیہ امریکی نتخابات اور گلوبل پاپولزم کے بارے میں لکھنا چاہ رہا تھا مگر اسکے لئے پاپولزم کی تھوڑی بہت تشریح ضروری تھی اسلئے بات حال اور مستقبل کی بجائے ماضی کی طرف نکل گئی فکر کا ،رہوار مسافر کو ایک اور دنیا میں لے گیا’’موجہ گل سے چراغاں ہے گذرگاہ خیال ۔تخیل ‘ سوچ اور خواب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ‘‘مجھے امید ہے کہ اس سلسلے کے اگلے کالم میں رہوار تخیل نیلگوں فضائوں میں کلیلیں بھرنے سے گریز کریگا !!