بیرون ملک پاکستانیوں کی ایک درخشاں مثال!

197

ہمارے ایک مہربان دوست کینیڈا میں رہتے ہیں، انہوں نے ایک بہت قابل تعریف کام کیا، کہ اپنی ریٹائر منٹ کے بعد زندگی بھر کی جمع پونجی میں سے تقریباً تین لاکھ ڈالر پاکستان کی ایک تنظیم ریڈ فائونڈیشن Read Foundation)ٖ)کو دیئے جس سے بھمبر میں ایک تین منزلہ سکول بنایا گیا۔ جس میں لڑکے اور لڑکیوں کو ابتدائی اور ثانوی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک درمیانے طبقہ کے تنخواہ دار شخص کے لیے اتنی خطیر رقم جوڑنا تو ممکن نہ ہوتا اگر اس میں اپنی تمام پینشن کی رقم نہ لگائی ہوتی۔اور پھر اس کو اللہ کی راہ میں صدقۂ جاریہ کے لیے لگا دینا ایک انتہائی قابل تعریف اور غیر معمولی عمل ہی نہیں ، بلکہ دولتمندوں کے لیے سبق آموز بھی ہے۔ ورنہ لوگ جب تین لاکھ ڈالر جمع کر لیتے ہیں تو ان کوچار لاکھ بنانے کی فکر ہوتی ہے۔میرے ان عزیز دوست کا نام ہے عبدل غفور چودھری، اور یہ ٹورانٹو میں رہتے ہیں۔2019 میں جب یہ سکول بن گیا تو ریڈ فائونڈیشن نے چودھری صاحب سے کہا کہ اگر وہ اور امداد کر دیں تو لڑکوں کے لیے ایک علیحدہ سکول بھی بنا دیا جائے جس پر تقریباً 88ہزار ڈالر کی لاگت آئے گی۔ چنانچہ چودھری صاحب نے وہ بھی حامی بھر لی۔اور عبدل کی تمام جمع پونجی ختم ہو گئی۔ 2021 میں فائونڈیشن نے سوچا کہ کیوں نہ چودھر ی صاحب کو اور ثواب کمانے کا موقع دیا جائے۔ چنانچہ عبدل (جس نام سے کینیڈینز ان کو پکارتے ہیں) نے پھرحامی بھر لی اور ایک اور سکول کی داغ بیل ڈالنے کا ارادہ کر لیا، جس میں ان کی آبائی جائداد فروخت ہونے سے آنے والی رقم لگ جائے گی۔
یہ دوسرا سکول بنانے کا موقع ایسے پیدا ہوا کہ لالہ موسیٰ کے علاقہ میں ،مشہور کالم نویس اور صحافی جاوید چودھری صاحب کی، نزدیکی گائوں میں آبائی زمین تھی جو انہوں نے سکول کی عمارت بنانے کے لیے فائونڈیشن کو پیش کر دی۔ اس علاقہ میں لڑکیوں کے لیے کوئی سکول نزدیک نہیں تھا۔ فائونڈیشن نے چابک دستی سے زمین کے کاغذات تیار کیے اور ساتھ ہی سکول کا پلان بھی ۔ان سب کی نقل ٹورانٹو والے چو دھری صاحب کو بھجوا دی۔ عبدل نے تخمینہ منظور کر دیا اور ان کو جو آبائی جائداد بیچنے سے جو رقم ملی تھی وہ بھی ریڈ فائوندیشن کو بھیج دی۔سکول کے منصوبہ کے مطابق ، یہ ابتدائی تعلیم کا سکول ہو گا لیکن اس کو ثانوی تعلیم کے لیے بڑھایا جائے گا۔سکول کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر جاوید چودھری نے کہا کہ اس سکول کے ابتدائی مرحلہ کو ایک سال یا پندرہ مہینے تک مکمل کر دیا جائے گا تا کہ کلاسیںشروع کی جا سکیں۔اس علاقہ میں نا صرف تعلیمی سہولتوں کا فقدان تھا، جو تعلیمی ادارے تھے بھی تو ان میں تعلیمی معیار ناقص تھا جس کے نتیجہ میں مقامی آبادی کو نہ اچھے ڈاکٹر ملتے تھے نہ انجینئراور نہ وکیل ۔اس علاقہ میں متعدی بیماریاں جیسے آشوب چشم، بہت پھیل رہی ہیں ۔اس کے علاوہ ذیابیطس کا مرض بھی عام ہے۔ دل کی بیماریاں بھی عام ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں میں ان بیماریوں سے بچنے کے لیے آگاہی دی جائے۔
عبدل غفور چودھری صاحب نہ صرف ایک حساس دل رکھتے ہیں، ان میں پاکستان کے لیے محبت کوُٹ کوُٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ابھی چند روز پہلے انہوں نے فیس بک پر ایک نوٹ لگایا جس پر پوچھا گیا تھا، کہ پاکستان کے چھ بڑے اہم مسئلے بتایئے: ۱۔ آبادی کا تیزی سے بڑھنا؛ ۲۔ غربت؛ ۳۔ نا خواندگی؛۔ ۴۔ صحت کے مسائل؛ ۵۔ کرپشن؛ اور ۶۔ مذہبی انتہا پسندی۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ سارے مسائل ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔راقم نے کہا کہ عمران خان نے ان میں سے جو سب سے مشکل مسئلہ تھا، کرپشن، اس کو سبپر ترجیح دی کیونکہ کرپشن دیمک کی طرح پوری آبادی میں پھیل چکی تھی اورحکومت اس کے آگے بے بس تھی۔اگرچہ اس ترجیح پر مباحثہ کیا جا سکتا ہے۔ عبدل کا کہنا ہے کہ اگر ترجیح دینی ہے تو تعلیم کو سب سے اول ترجیح دینی چاہیے۔ ان کی بات میں بڑا وزن ہے۔ اگر لوگوں کو کوالٹی تعلیم ملے تو باقی مسئلے وہ خود حل کر لیں گے۔ راقم نے ان سے اتفاق کیا لیکن اس پر عمل کرنے میں مشکلوں کے پہاڑ کھڑے ہیں۔ ہمارا جاگیر دارانہ نظام،تنگ نظر مُلا، کرپٹ سیاستدان، صنعت کار، اورکئی اور طاقتور گروہ نہیں چاہتے کہ عوام تعلیم یافتہ ہوں اور انہیں اپنے حقوق کا ادراک ہو ۔ اور پھر وہ زیادہ اُجرت اور رعایتوں کے مطالبے کریں۔یہی وجہ ہے کہ اگر باہر سے بھی امداد آئی بھی تعلیمی ترقی کے لیے تو سیاستدانوں نے کاغذوں پر اساتذہ کو بھرتی کیا اور ان کی تنخواہیں اپنی جیب میں ڈالیں۔ اگر سکول بن گئے تو ان میں اپنے ڈھور ڈنگر رکھ دیے۔ پا کستان میں تعلیم صوبوں کی ذمہ واری ہے۔ جب تک صوبے فعال نہیں ہونگے، اور تعلیم میں ترجیحی بنیادوں پر تندہی نہیں دکھائیں گے، حالات بہتر نہیں ہو نگے۔
تو بات ہو رہی تھی عبدل غفور چودھری کی۔ عبدل ، جیسے کہ انگریزی کی کہاوت ہے،’’to put your money where your mouth isـ یعنی جب بات کرو تو اس پر عمل بھی کرو، کی مثال ہیں ۔وہ نہ صرف تعلیم کے فروغ اور اس کی اہمیت کی بات کرتے ہیں بلکہ عملی طور پر اپنا دھن دولت بھی اس پر خرچ کرتے ہیں ۔ آفرین ہے آ فرین۔چند ماہ پہلے عبدل کے دوستوں نے ان کی 86 ویں سالگرہ پر ان کے ساتھ ایک شام منانے کا اہتمام کیا تو انکی فرمائش پر میں نے بھی ایک مختصر مضمون لکھا جس میں اپنے اور انکے تعلقات کی تاریخ بھی بیان کی۔ مضمون کا عنوان تھا:”Man with a Golden Heart ایک ایسا نسان جس کا دل سونے کا ہے۔ یہ عنوان راقم نے عبدل کی دریا دلی اور خدا ترسی اور حاتم طائی والی سخاوت کو مد نظر رکھ کردیا تھا۔اب تک وہ تقریباً تین لاکھ ڈالر اپنی جیب سے خرچ کر چکے تھے۔بھمبر گجرات سے64 کلو میٹر آزاد کشمیر میں ہے۔ ان کا سکول شہر سے دور ایک دیہاتی علاقہ برہنگ میں واقع ہے۔ اگرچہ وہاں سکول تو تھے لیکن خستہ حالت میں، سہولتوں سے خالی۔ایک نئے سکول کی اشد ضروت تھی۔ اب اس سکول میں لڑکے لڑکیاں دونوں پڑھتے ہیں اور پرائیویٹ سکولوں کی طرح یونیفارم بھی پہنتے ہیں۔
عبد ل غفور 28جنوری 1935 میں کامونکی منڈی کے قصبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام تھاحاکم بشیر حسین۔ کامونکی پنجاب بھر میں اعلی چاولوں کی فروخت کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ ہائی سکول پاس کرنے کے بعد وہ کالج کی تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے۔ وہیں سے بی اے پاس کیا اور سوشل ورک کے مضمون میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔یہ ایک اتفاق کی بات ہے کہ جب ابھی وہ سوشل ورک کی تعلیم لاہور میں لے رہے تھے، راقم ڈھاکہ کی یونیورسٹی میں اسی مضمون کا طالب علم تھا۔ اسی دوران ان کا پورا گروپ ڈھاکہ آیا اور ہمارے ساتھ انکی ملاقات ہوئی۔ دوسرا بڑا اتفاق یہ تھا کہ ہم دونوں نے گریجوایشن کے بعد لاہور میں ملیریا ایریڈیکیشن پروگرام میں بطورہیلتھ ایجوکیٹرز تعینات ہو گئے۔ وہاں کچھ مہینوں ہمارا بڑا اچھا ساتھ رہا، لیکن پھر مجھے امریکہ میں پڑھائی کرنے کا فیلوشپ مل گیا تو میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کے برکلے کیمپس چلا گیا۔ چوہدری صاحب نے بھی کچھ عرصہ بعد امریکہ کی کسی ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی سے سوشل ورک میں ایک اور ماسٹرز کی ڈگری لی اور پھر کینیڈا چلے گئے۔ وہاں 27 سال بچوں کی ویلفئر کے اداروں کے ساتھ کام کیا۔1989 میں ان کی اہلیہ داغ مفارقت دے گئیں۔ انہوں نے دو لڑکیوں اور ایک بیٹے کو باپ اور ماں بن کر پڑھایا،لکھایا اور ان کی شادیاں کیں۔ خود اپنا اکیلا پن دور کرنے کے لیے مختلف مذہبی اور سماجی اداروں کے ساتھ بطور رضاکا ر کام کرتے رہے۔ ان کی سماجی خدمات کے صلہ میں انہیں کینیڈا کی حکومت سے کئی سرٹیفیکیٹ اور تعریفی سندیں مل چکی ہیں۔راقم نے امریکہ سے تعلیم مکمل کر کے چند سال ملیریا ایریڈیکیشن کے ہیڈ آفس کراچی میں کام کیا اور اس کے بعد زیادہ تر بین الاقوامی اداروں کے فیملی پلاننگ شعبوں میں ملازمت کی اور سن2002میں یو این او سے ریٹائرمنٹ لی۔اس دوران امریکہ میں نقل مکانی بھی کر لی۔اتفاق سے ایک دوست کی وساطت سے چوہدری صاحب سے بھی رابطہ بن گیا جو اب تک قائم ہے۔
چوہدری صاحب کو بھمبر میں سکول بنانے کا خیال کیسے آیا؟ وہ ایسے کہ کہ ٹورانٹو میں وہ ایک بین الاقوامی رضاکار ادارے (ICNA) کے ساتھ کام کرتے تھے۔ ان کا ایک پراجیکٹ پاکستان میںریڈفائونڈیشن کے ساتھ تھا۔ تو اس ادارے نے عبدل کو پاکستان بھیجا کہ وہ اس کا معائنہ کر کے اس کی رپورٹ دیں۔ چوہدری صاحب کو ریڈ فاونڈیشن کے منتظمین کا کام بہت اچھا لگا، اور وہیں سے تعلقات کا آغاز ہوا۔اور بات سکول بنانے تک جا پہنچی۔چوہدری صاحب نے مجھے تفصیل سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا اور یہ کہ وہ کس طرح ریڈ فاونڈیشن کے ساتھ مل کر سکول کی بلڈنگ بنا رہے ہیں۔چوہدری صاحب بے حد نفیس شخصیت کے حامل ہیں، نہایت مخلص، ایماندار، درد رکھنے والے۔ دو بیٹیوں کا باپ ہونے کے ناتے لڑکیوں کی فلاح و بہبود میں خاص دلچسپی لیتے ہیں۔اسی لیے جب سکول بنانے کا منصوبہ بنا تو اس میںجو اول شرط رکھی گئی وہ لڑکیوں کی تعلیم کی تھی۔
بیرون ملک کئی پاکستانی، پاکستان کے لیے بہت کام کر رہے ہیں، اور عبدل غفورچوہدری ان میں سے ایک ہیں۔ بد قسمتی سے جو لوگ صرف نیکی کمانے کے لیے اور اپنے اللہ کو خوش کرنے کے لیے کام کرتے ہیں، وہ اپنے کاموں کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔ یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن دوسروں کو جو حقیقت جانتے ہیں ضرور اس کی شہرت کرنی چاہیے، وہ اس لیے کہ پاکستانیوں کو معلوم ہو کہ بیرون ملک پاکستانی بھگوڑے نہیں بلکہ ملک کے لیے نا صرف زر مبادلہ کماتے ہیں بلکہ بہت سے خیراتی کام بھی کرتے ہیں، ان میںچوہدری صاحب کے سکول بنانے کی مثال اوروں کے لیے سبق بھی ہے اور مشعل راہ بھی۔
چوہدری صاحب کو یقین کامل ہے کہ پاکستانیوں کو تعلیم دینا ان کی اولین ضرورت ہے۔ اسی لیے انہوں نے نہ صرف اپنے بڑھاپے کا سہارا، اپنی تمام پینشن کی رقم، اسی خدمت پر لگا دی، بلکہ اب وہ ورثہ سے ملنے والی رقوم کو بھی اسی کام پر لگانے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ ا س کار خیرمیں راقم ان کے تین بچوں اور بہن بھائیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے کہ انہوں نے ان کے ساتھ پورا تعاون کیا۔ پاکستان میںلڑکیاں ، لڑکوں کے مقابلے میں پڑھائی میں بہت پیچھے ہیں۔ در حقیقت اکثر پسماندہ مسلمان ممالک میں یہی صورت حال ہے۔ راقم اپنے تئیں بھی لڑکیوں کی تعلیم پر قومی اور بین الاقوامی کانفرینسز پر وکالت کرتا رہتا ہے۔اپنے کالموںمیں بھی اکثر تعلیم کی کسمپرسی پر توجہ دلاتا رہتا ہے، جو اگرچہ صدا بصحرا ہی ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت سے بہتر توقعات ہیں۔ خدا کرے کہ وہ پوری ہوں۔