کالعدم تحریکوں کیساتھ مذاکرات کرنا حکومت کی کمزوری ثابت کررہا ہے

201

پچھلے ہفتے حکومت پاکستان نے کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے شدت پسندوں کیساتھ مذاکرات کیے اور دھرنا ختم ہو گیا۔ اس کے بعد پنجاب حکومت نے وفاق سے درخواست کی کہ ٹی ایل پی کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ان پر عائد پابندی کو ختم کیا جائے اور اب وہ کل کی دہشت گرد تنظیم اب کالعدم نہیں رہی ہے۔ اس وقت سب نے کہا کہ ان ذہنی طور سے معذور لوگوں کے ہاتھوں دس مرنے والے پولیس اہلکاروں کا خون کس کے ہاتھ پر ہو گا۔ مگر اب اس ہفتے جب یہ اعلان کیا گیا کہ اب کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کیساتھ بھی سرکاری سطح پر افغان طالبان کی میزبانی میں مذاکرات شروع کر دئیے گئے ہیں تو ایک بہت بڑی پاکستانیوں کی تعداد ایک طرح سے سراپا احتجاج ہے کیونکہ عمران خان کی حکومت ایک کے بعد ایک دہشت گردوں کے سامنے سرینڈر کرتی جارہی ہے۔ ٹی ایل پی کی تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان سے مذاکرات کے نتیجے میں ان کا نہ صرف دھرنا ختم ہو گیا بلکہ ان ملائوں نے اس بات کی بھی گارنٹی دی کہ آئندہ کبھی ان کا کوئی فرد کسی بھی قسم کے مارچ، جلوس، یا دھرنے میں شامل نہیں ہو گا۔ گو کہ ان کے سرخیل سعد رضوی کی رہائی کی بابت کچھ نہیں کہا گیا ہے مگر خیال کیا جارہا ہے کہ اس شخص کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ مگر ٹی ٹی پی کے ہاتھ تو 75ہزار سے زائد معصوم پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ہمارا تو خیال تھا کہ سانحہ پشاور کے بعد ملک کی سکیورٹی فورسز نے زبردست آپریشن کر کے ان طالبانوں کو جہنم رسید کردیا تھا اور جو بچ گئے تھے انہیں افغانستان واپس چلے جانے پر مجبور کر دیا تھا؟ اس وقت بھی ان دہشت گردوں کی جانب سے اکا دکا کارروائیوں کے علاوہ کسی جگہ پر دھرنا یا کسی کو یرغمال نہیں بنایا گیا تھا تو پھر ان سے مذاکرات کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ ان کے قبضے میں تو ہمارے کوئی یرغمالی نہیں ہیں البتہ ہمارے پاس ان کے قاتل دہشت گرد ضرور گرفتار ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ان گرفتار شدگان کی رہائی کے بدلے مذاکرات کریں گے مگر یہاں سوال یہ ہے کہ پاکستان کی ریاست کو ان مذاکرات سے کیا حاصل ہو گا؟ بظاہر یوں معلوم ہورہا ہے کہ ہم افغان طالبان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ان کے پیٹی بند پاکستانی طالبان دہشت گردوں سے بات چیت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا براہ راست مطلب یہ ہوا کہ اس ملک میں کوئی بھی جتھہ، کوئی بھی دہشت گرد گروپ جب چاہے لوگوں کو بے دریغ قتل کر کے ان ہاتھوں کو خون سے کئی سالوں تک لپ پت کر کے جب دل بھر جائے تو اپنے گرفتار شدگان کو رہا کروانے کیلئے مذاکرات کرے اور واپس افغانستان چلا جائے۔ تو گویا ان کے اسلحہ چلانے، بم اڑانے اورقتل و غارت گری کرنے کی ٹھرک بھی پوری ہو گئی اور پھر قاتلوں کی جیلوں سے رہائی بھی حاصل ہو گئی تو پھر ریاست اور اس کے عوام تو بے وقوف ہی بن گئے؟ اب ان دو واقعات کے بعد یہ آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ اگر ان دہشت گرد گروپوں کو غیر کالعدم کیا جاسکتا ہے، ان کے جرائم معاف کئے جا سکتے ہیں، ان کے گناہ دھوئے جا سکتے ہیں تو ہمارے کیوں نہیں؟آج الطاف حسین کے حوالے سے یہ بات ہورہی ہے کل عزیر بلوچ بھی اس بنیاد پر معافی طلب کرے گا، پرسوں القاعدہ بھی عام معافی کے تحت راستہ مانگے گی اور پھر ترسوں داعش والے بھی کہیں گے کہ ٹی ٹی پی کی طرح انہیں بھی تمام تر خون خرابے کے بعد قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے مذاکرات کے ذریعے عام معافی دے دی جائے۔ تو پھر کسوٹی کیا ہے؟ کیا کوئی ریڈ لائن بھی ہے ریاست کی؟