کیا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈوب گیا!!

197

پاکستان میں ٹی وی 1964میںآیا دو سال بعد کراچی میں آیا۔ قیام پاکستان سے سن اسّی تک ریڈیو ایک اہم مواصلاتی ذریعہ تھا، یعنی 50-60 اور 70 کے عشرے تک ریڈیو اکثریت کے گھروں میں ہوتا تھا، روزآنہ کے اخبارات کے علاوہ ریڈیو بھی خبر رسانی کا یک اہم ذریعہ تھا ہر فرد اخبار کے خرچ کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا تھا اور خبروں کے لیے ریڈیو کو لوگ ترجیح دیتے تھے پھر یہ کہ اس سے ڈرامے اور دیگر تفریحی پروگرام بھی آتے تھے۔ ہمارے یہاں بھی 1963 یا 64 میں ریڈیوآیا ہوگا۔ مجھے یاد ہے کہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کی خبریں ہم ریڈیو پاکستان سے شمیم اعجاز، انور بہزاد اور شکیل احمد کی پرجوش آواز میں سنتے تھے۔ فرصت کے اوقات میں ہم خبروں کے علاوہ ریڈیو کے دیگر پروگرام بھی شوق سے سنتے تھے۔ دو سیاستدانوں کی اہم تقاریر جو ایک خاص حوالوں سے بہت مشہور ہوئی تھیں ہم نے اپنے کانوں سے سنا۔ مشرقی پاکستان کی جدائی کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم بنے تو وہ اکثر قوم سے خطاب کرتے تھے ان ہی دنوں میں ایک دفعہ میں ان کی تقریر سن رہا تھا جو ریڈیو پاکستان سے براہ راست نشر ہو رہی تھی دوران تقریر ایک موقع پر بڑے پر جوش انداز میں انہوں نے کہا کہ اس ملک کے لیے میں جتنی محنت کرتا ہوں کوئی … کیا کرے گا، خالی جگہ پر انہوں نے گالی بکی تھی پھر کہا کاٹ دو کاٹ دو جذبات میں منہ سے نکل جاتا ہے اور پھر یہ بھی کہا کہ جذبات ہی میں صحیح رہنمائی ہوتی ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد شاید جنوری کے مہینے میں ہندوستان کی وزیر اعظم اندر اگاندھی کی انڈیا کے کسی اسٹیشن سے تقریر آرہی تھی وہ مغربی بنگال میں کسی جلسے سے خطاب کررہی تھیں پھر ان کا وہ مشہور جملہ میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا۔
دو قومی نظریے کی اصطلاح برصغیر ہند و پاک میں اس وقت زبان زد عام ہوئی جب مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا،جب تک انگریزوں سے آزادی کی تحریک چل رہی تھی تو اس وقت ایسی کوئی اصطلاح وجود میں نہیں آئی تھی کہ قائد اعظم خود جدوجہد آزادی کی تحریک میں کانگریس کا ساتھ دے رہے تھے لیکن قائد اعظم محمد علی جناح کی عقاب نظروں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ ہندو ایک تنگ نظر قوم ہے، مسلمانوں کے ساتھ اس کا رویہ نفرت پر مبنی ہوتا ہے اگر تحریک آزادی کامیاب ہوجاتی ہے تو ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہندوئوں کی غلامی میں آجائیں گے، اس کے بعد مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے الگ خطہ زمین کا مطالبہ پیش کیا، اور پھر یہ نعرے وجود میںآئے کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں اب، بٹ کے رہے گا ہندوستان اور بن کے رہے گا پاکستان۔ قائد اعظم کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کا مذہب ہی الگ نہیں ہے بلکہ ہمارا کلچر رہن سہن ہماری ثقافت یہ سب ہندوئوں سے الگ ہیں اس لیے ہمارا الگ وطن ہونا چاہیے اس وقت برصغیر ہندوستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک مسلمان تحریک پاکستان کا ہراول دستہ بن گئے، یہ علامہ اقبال کا خواب تھا 1938 میں گو کہ علامہ اقبال کا انتقال ہو چکا تھا لیکن وہ اپنی زندگی میں پاکستان بنتا ہوا دیکھ رہے تھے 1940 میں لاہور کے جلسہ عام میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی اس زمانے میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنمائوں نے اس دو قومی نظریے کی مخالفت کی اور کہا کہ قومیں مذہب سے نہیں اوطان سے بنتی ہیں جب کہ مسلم لیگ کے تمام رہنما جس میں جید علمائے دین بھی شامل تھے کہتے تھے کہ قومیں مذہب سے بنتی ہیں نہ کہ وطن سے، مولانا مودودی بھی یہی رائے رکھتے تھے کہ قوم مذہب سے بنتی ہے نہ کہ وطن سے اور اس کے لیے مولانا نے تحریک آزادی ٔہند کے نام سے جس کا پرانا نام موجودہ سیاسی کشمکش تھا پوری کتاب لکھی جس میں پورے دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ قومیں کیسے مذہب سے وجود میں آتی ہیں مسلم لیگ نے مولانا کے اس لٹریچر کو اپنے مضبوط موقف کے ابلاغ کا ذریعہ بنایا اور اس کے ہینڈ بل دو ورقے بڑی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کرائے۔
مشرقی پاکستان کے سقوط میں دو قومی نظریے کا قصور نہیں ہے یہ تو ہماری نا اہلی اور ہمارے طاقت کے مراکز پر قابض لوگوں کی ہوس اقتدار کا نتیجہ تھا جس نے پاکستان کو دو لخت کردیا غاصب حکمران جنرل یحییٰ چاہتا تھا کہ تھوڑی تھوڑی نشستیں سیاسی پاٹیاں لے کر ایوان میںآئیں اور پھر میں دوبارہ صدر بن جائوںشیخ مجیب کامیاب ہوا اسے اقتدار نہیں دینے دیا گیا بھٹو صاحب اپوزیشن میں بیٹھنے کو تیار نہیں ہوئے بھارت نے جب دیکھا کہ پاکستانی فوج نے حالات سنبھال لیے ہیں اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے کچھ بات بن سکتی ہے تو اس نے 22نومبر 1971 کو مشرقی پاکستان پر سولہ مقامات سے حملہ کردیا اور 16دسمبر 1971کو ملک ٹوٹ گیا اگر قومیں مذہب سے نہیں وطن سے بنتی ہوتیں تو پھر بنگلہ دیش بن جانے کے بعد لاکھوں بنگالیوں کو کیوں تہہ تیغ کیا گیا اورآج تک ان بنگالی رہنمائوں کو سزائے موت دی جارہی ہے جنہوں نے اس وقت کی جائز حکومت پاکستان کا ساتھ دیا تھا بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے بنگالی رہنمائوں کو دی جانے والی موت کی سزائیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ کہ دو قومی نظریہ کہیں ڈوبا نہیں بلکہ اب بھی سطح زمین پر موجود ہے ایک دفعہ جب بنگلہ دیش میں جنرل ارشاد کی حکومت تھی تو وہاں زبردست سیلاب آیا یہاں سے جنرل ضیاء الحق امدادی سامان لے کر خود بہ نفس نفیس بنگلہ دیش گئے تو ائر پورٹ پر جنرل ضیاء کا استقبال کرتے ہوئے جنرل ارشاد نے اپنا سر ضیاء صاحب کے مصافحہ والے ہاتھ پر رکھتے ہوئے بڑی دل گیر آواز میں کہا کہ کبھی ہم ایک تھے، ایک پاکستانی تاجر چٹاگانگ میں ایک ہوٹل میں گئے تو ایک بنگالی ویٹر یہ سن کر کہ یہ پاکستانی ہیں رونے لگا کہ کبھی ہم بھی پاکستانی تھے، بنگلہ دیشیوں کی اکثریت کے دلوں میں اب بھی پاکستان بستا ہے ابھی حال ہی کی بات ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے میچ میں جب پاکستان نے بھارت کو شکست دی تو پورے پاکستان میں خوشی کے شادیانے بجنا تو ایک فطری عمل تھا لیکن مقبوضہ کشمیر میں جس طرح آتش بازی ہوئی حتیٰ کہ ہندوستان کے شہر دہلی کے ایک محلے میں پاکستان کی جیت کی خوشی میں پٹاخے پھوڑے گئے اور خوشیاں منائی گئیں اور پھر اسی طرح بنگلہ دیش میں پاکستان کی جیت کی خوشیاں منائی گئیں اس نے تو اندرا گاندھی کی اس بات کا جواب دیا ہے کہ دو قومی نظریہ کہیں ڈوبا ووبا نہیں ہے بلکہ وہ آج بھی برصغیر کی فضائوں میں ہوائوں میں اورآسمانوں میں بڑی آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے اور اسی کی روشنی میں بھارت اور بنگلہ دیش میں کئی پاکستان وجود میں آئیں گے، ان شاء اللہ