دنیا بھرکے جرائم پیشہ دھڑا دھڑ پاکستان کے ویزے لگوا رہے ہیں!نظام انصاف زندہ باد!!

34

پاکستان کا عدالتی نظام بہت اعلیٰ ہے۔ یہاں پر قاتلوں کو بھی فوری ضمانت مل جاتی ہے۔ پیسے والے لوگوں کا یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ درپردہ یہ پیغام ہوتا ہے جائو اپنے جرم کے چشم دید گواہوں سے نمٹو، انہیں رشوت دو، دھمکیاں دو یا انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دو۔ بھئی کیا ہوا۔ تمہارے پاس لوٹ مار کا بے تحاشہ پیسہ ہے۔ اپنے بچائو کے لئے کام میں لائو، ابھی تو ن لیگ کے جوکر اور اسکے کپوت حمزہ پر 25ارب روپے کی ٹرانزیکشن کاالزام ہے۔ وکلاء سر پھٹول کررہے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ عدالت میں کیس داخل ہوتا ہے۔ ملزم کو طلب کیا جاتا ہے وہ جرم سے صاف انکار کرتا ہے۔ وکلاء کی بحث کے بعد اگلی تاریخ مل جاتی ہے۔پھر یوں ہوتا یہ ہے کہ کبھی ملزم دستیاب نہیں ہوتا۔ کرونا کا شکار ہوجاتا ہے۔ سیڑھیوں سے گر جاتا ہے یا ڈینگی کا بخار چڑھ جاتا ہے۔ الغرض عدالت میں حاضری سے قاصر ہوتا ہے۔ داخل دواخانہ ہوتا ہے۔ اب تاریخیں بڑھتی رہتی ہیں کبھی وکلاء حاضر نہیں ہوتے اس طرح آرام سے سالوں گزر جاتے ہیں۔ حکومتی بدلتی ہیں کیس ادھر ادھر ہو کر غائب ہو جاتا ہے۔ اب دنیا کے تمام جرائم پیشہ لوگوں کو یہاں کے نظام کے بارے میں معلوم ہو گیا ہے۔ ’’شیطان کے کان بہرے ‘‘اب انہوں نے دھڑا دھڑ پاکستان کے ویزے لگوانے کی درخواست دے دی ہے اور اپنا کیس یہاں کی عدالتوں میں لانے کا پکا فیصلہ کر لیا ہے۔ دروغ بہ گردن راوی۔
یہاں کے شہریوں کی زندگی بھی چند سکوں کے برابر ہے۔ آپ کسی بھی ملک سے آئیے یہاں پر کسی ماں کی کوکھ اجاڑئیے، کسی خاتون کو بیوہ کیجئے۔ بچوں کو یتیم کر جائیے آپکو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اب یاد کیا دلایا جائے بے حس لوگوں کے ذہن میں شاید یہ واقعات پوشیدہ ہوں۔ ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ صلاحِ عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے۔
کسی کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ کب آلو پیاز کی ریڑھی لگاتے تھے۔ کب بھٹے میں لکھوری اینٹیں پکاتے تھے یا لوہے کی سریا سے شٹرنگ کرتے تھے اب تو آپ پجارو، لینڈ کروزر، مرسٹڈیز ،بکتر بند گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں۔ جھکتے ہیںسر جھکانے والا چاہیے۔ ماضی میں آپ کیا تھے مٹی پائیے۔ اب آپ ہمارے ان داتا ہیں۔چاہے آپ ہماری کوئی مدد نہ کریں لیکن آپ سے جڑے رہنے میں بھی فائدہ ہے۔ اختیار ایک دبنگ اینکر ہے جو لگی لپٹی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے وہ واقعات کی کمان پر جو تیر چڑھاتا ہے وہ صحیح نشانے پر لگتا ہے۔لیکن کبھی کبھی جیسے کرشنا اپنی ماں سے پوچھا کرتے تھے کہ رادھا کیوں گوری، میں کیوں اتنا کالا۔ اس مثال کے تناظر میں کبھی کبھی اینکر صاحبان اپنا اور عمران خان کا موازنہ کر بیٹھتے ہیں اور ’’ہینڈسم، ہیڈسم‘‘ کی رٹ لگانے لگتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ وہ آئینہ دیکھنا چھوڑ دیں اور اپنے میک مین سے کہیں کہ ’’لپ اسٹک کا استعمال کم کرے‘‘ باقی سب خیریت ہے۔ الفاظ کا جو ذخیرہ اس کے پاس ہے تشبیہات، استعارے جو وہ استعمال کرتا ہے اس دور میں عنقا ہیں۔ بے انتہا دلچسپ تبصرہ ہوتا ہے۔ اللہ جانے یہ الفاظ اسکے ذہن میں کہاں سے علقا ہوتے ہیں اپنے پروگرام میں اگر غیر متعصب لوگوں میں مدعوکیا کریں تو بہتر ہو گا، بقراط نے یہی مشورہ دیا ہے۔
مذہبی جماعتوں نے الگ حکومت کی کھٹیا کھڑی کر دی ہے۔ فضلو بھی اس لئے شامل ہیں کہ شاید انہیں اقتدار ہاتھ آجائے اور وہ اپنا لوٹا ہوا اثاثہ محفوظ کر سکیں چونکہ نام کے ساتھ مولانا کا دم چھلا لگا ہوا ہے اس لئے وہ جب چاہیں حرام کو حلال کر سکتے ہیں۔
ایک مولانا کی بیوی نے گلی سے ایک مرغہ پکڑ کر ذبح کیا اور اسکا بڑا خوشبودار ذائقے دار قورمہ بناڈالا۔ مولوی جب گھر آئے اور بیوی سے پوچھا ’’کیا پکا ہے‘‘ بیوی نے جواب دیا مرغ، مولانا کو جب پتہ چلا کہ مرغ چوری کا تھا تو لاحول پڑھنے لگی۔ بیوی سے کھانا نکالنے کے لئے کہا۔ بیوی نے قورمے کی ہانڈی اٹھائی مولانا نے کہا اس میں گھی، مصالحے وغیرہ تو ہمارے ہیں اس لئے شوربہ دے دو، بیوی نے شوربہ نکالنا شروع کیا تو اتفاق سے بوٹیاں بھی نکل آئیں۔ بیوی نے پریشان ہو کر انہیں واپس ہانڈی میں ڈالنا چاہا تو مولانا بولے بیگم جو اپنے آپ آئی ہیں انہیں آنے دو باقی سب خیر ہے، یہ ہے مولانا کا حرام،حلال پر فتویٰ۔
تحریک لبیک کی بھاگم دوڑ اب دھرنے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ فرانس کے سفیر کے واپس بھیجنے کا مطالبہ موقوف ہو چکا ہے۔ مغربی ممالک کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلام کے بارے میں غلط قسم کے پروپیگنڈے سے مسلمانوں کو کتنی روحی اذیت پہنچتی ہے اور یہ مسلمانوں کی دکھتی رنگ ہے یعنی نبی کریم کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتا تو وہ اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ مکھی کی فطرت ہے کہ وہ پورا جسم چھوڑ کا اُسی جگہ بیٹھتی ہے جہاں زخم ہوتا ہے۔ سوچیئے اور اس اذیت کا کوئی مثبت حل نکالیے۔
اپنے ملک میں اپنی قوم کو مت روندھئے۔ ان نازیبا حرکتوں کے خلاف تحریری اور تقریری احتجاج کیجئے لیکن خدارا اپنی املاک کو اپنے قومی اثاثوں کو نقصان مت پہنچائیے۔ مغرب اپنے زوال پذیر معاشرے سے پریشان ہے اور اس کھجلاہٹ میں وہ مسلمانوں پر چڑھ دوڑتا ہے۔ مسلمانوں کو اپنے اندر اخلاق ،روداری کو فروغ دینا چاہیے اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ ہم ہر لحاظ سے ایک بہتر قوم ہیں ۔تحریک والے 27لوگ کلاشنکوف لیکر آئے تھے انہوں نے 3پولیس والوں کو شہید کردیا۔ آٹھ کی حالت تشویشناک ہے، 70کے قریب زخمی ہیں۔ آپ نے اپنے ہی لوگوں کو نہ صرف مارا بلکہ قانون کے رکھوالوں کو شہید کیا۔ ایک بڑے افسر کو اغواء کیا پولیس لائنز پر قبضہ کیا۔ ان گھٹیا حرکات سے آپ نے دنیا کو کیا دکھایا کہ آپ ایک دہشت گرد قوم ہیں۔ یہ پیغام گیا ہے دنیا کو توہین رسالت کرنے والوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ یہ احتجاج کا طریقہ بڑا غیر مناسب تھا۔
یہ سرزمین شہادت نہ رائیگاں جائے
ہے اپنے خواب کی جنت نہ رائیگاں جائے
رہے خیال کہ یہ مہلت ہے آخری مہلت
رہے خیال کہ مہلت نہ رائیگاں جائے!!