سوڈان میں فوجی بغاوت کیخلاف احتجاج پر پولیس کی فائرنگ؛ 5 افراد ہلاک

28

خرطوم: سوڈان کے دارالحکومت میں فوجی بغاوت کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاج کیا جس کے دوران سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ سے 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوڈان میں فوجی بغاوت کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے اور فوجی قیادت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جس میں جمہوری حکومت کی بحالی کے مطالبات تحریر تھے۔سیکیورٹی فورسز نے امن عامہ کے نام پر مظاہرین کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی اور آنسو گیس کی شیلنگ کی تاہم مظاہرین کے منتشر نہ ہونے پر براہ راست فائرنگ کردی۔مظاہرین پر پولیس کی براہ راست فائرنگ میں 5 افراد ہلاک اور درجن سے زائد  زخمی ہوگئے جن میں سے 4 کی حالت نازک ہونے سبب  ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔خیال رہے کہ سیاسی بحران کے شکار ملک سوڈان میں گزشتہ ماہ فوجی جنرل نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اور وزیر اعظم سمیت متعدد وزرا کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔فوجی بغاوت کے بعد سوڈان کے وزيراعظم عبداللہ حمدوک اہلیہ سمیت لاپتہ تھے تاہم عالمی دباؤ کے نتیجے میں 48 گھنٹے بعد اہلیہ سمیت گھر پہنچ گئے تھے۔سوڈان میں سب سے طویل عرصے تک صدر رہنے والے عمر البشیر 2019 کو عوامی مظاہروں کے بعد مستعفی ہوگئے تھے جس کے بعد سے اب تک سیاسی بحران ختم نہیں ہوسکا ہے اور کوئی بھی حکومت چند ماہ بھی قائم نہیں رہ سکی۔