لبیک!

136

کراچی میں راتوں رات سہگل کی فنڈنگ سے جمعیت علماء پاکستان بنا دی گئی، اس کا مطلب کراچی میں جماعت اسلامی کو سیاسی طور پر دفن کرنا تھا اور کردیا، ESTABLISHMENTنہیں چاہتی تھی کہ کراچی سے مضبوط اپوزیشن ملے، اور کراچی میں کوئی ایسا نظام بن جائے جو پاکستان کے دیگر علاقوں کے لئے قابلِ تقلید ہو، جمعیت علماء پاکستان میں ایسے لوگوں کو لایا گیا جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا اور یہ لوگ ایک لایعنی سا نعرہ لے کر آئے تھے کہ نبی کا جھنڈا اونچا رہے گا مگر مولانا نورانی کبھی اس بات کی وضاحت نہ کر سکے کہ نفاذِ مصطفی ہے کیا، پی ٹی وی پر فرہاد زیدی نے اس زمانے کے تمام نام نہاد سیاسی اکابرین کے انٹرویو کئے تھے مگر جہالت سر چڑھ کر بولتی رہی، اس بات کو پچاس سال ہو گئے مگر اس مرض کی دوا نہ ملنا تھی نہ ملی، ضیاء الحق نے کراچی کو لسانیت کے حوالے کر دیا، یہ بھی جہالت کی بگڑی ہوئی شکل تھی عالمی جریدے اس موضوع پر تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ کراچی کی ترقی سارے ملک میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے اور مقتدرہ کو یہ منظورنہیں، یہ بھی شنید ہے کہ عرب ریاستیں جن کی حالت تیس چالیس سالوں میں تبدیل ہو چکی ہیں وہ بھی نہیں چاہتی کہ کراچی میں معاشی ترقی ہو کراچی کی ترقی چھوٹی چھوٹی عرب ریاستوں کے مستقبل پر سوال کھڑے کر دے گی، حتیٰ کہ کراچی کے اثرات سنگا پور پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے مگر کراچی کو مذہب اور لسانیت کے حوالے کرنا ایک سوچا سمجھامنصوبہ تھا اور فوج کا یہ منصوبہ کراچی کی تباہی کا سبب بنا تو دوسری طرف ملک کی صنعتی ترقی کی راہ کا پتھر بن گیا، ذرا سا غور کریں کہ ایوب خان کو مذہب کی طرف لے جانے والی قوتوں کے پسِ پردہ کیا عزائم تھے عالمی جریدے یہ بھی لکھ چکے کہ فوج کے جنرلز کو بتایا گیا کہ اگر پاکستان میں صنعتی ترقی کی رفتار یہی رہی تو فوج کو بیرکوں میں جانا ہو گا اور سویلین کی تابعداری کرنی ہو گی، یہ پیغام جنرل موسیٰ اور جنرل اعظم خان کو بھی دیا گیا، انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا، جنرل موسیٰ نے خاموشی اختیار کی اور جنرل اعظم خان نے اس سے الگ موقف اختیار کیا، کیا عالمی طاقتوں کے ہمیشہ ہی فوج سے روابط رہے اور کیا فوج ان کے UNWRITTENعزائم سے اتفاق کر چکی تھی اور کیا ان عزائم سے اب بھی اتفاق کرتی ہے یہ اہم سوال ہے مگر اس کا جواب کبھی نہیں ملے گا یہ سوال پوچھنے والا غدار ٹھہرے گا، گزشتہ چالیس سالوں سے پاکستان پر بالواسطہ یا بلاواسطہ تسلط ہے۔
اس بار ESTABLISHMENTنے پنجاب کو اپنے منصوبے میں شامل کیا، لاہور کے ایک خطیب خادم حسین رضوی کو 2017ء محکمہ اوقاف سے برطرف کیا گیا، اور اس نے تحریک لبیک کی بنیاد رکھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جماعت 2015ء میں بن چکی تھی اور اس کو عوام کی توجہ اس وقت ملی جب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سزائے موت دی گئی ختم نبوت پر اتفاق موجود تھا مگر 2017ء میں جب خادم رضوی نے فیض آباد پر دھرنا دیا تو وہ مرکزِ نگاہ بن گیا، ایک مقدمہ جسٹس فائز عیسیٰ کی عدالت میں زیر سماعت رہا جس کے فیصلے میں جسٹس فائز عیسیٰ نے فوج کے کردار پر تنقید کی تھی پھر وہ زیر عتاب رہے، فوج نے ہزارہزار روپے دئیے جب تحریک لبیک نے دھرنا ختم کیا، اس بات سے پردہ کبھی نہیں اٹھتا کہ یہ جماعتیں راتوں رات کیسے بن جاتی ہیں اور ان کی فنڈنگ کون کرتا ہے شنید ہے کہ فیض آباد کے دھرنے کے بعد خادم رضوی کو 79کروڑ ادا کئے گئے ،عمران کے زمانے میں بھی خادم رضوی نے دھرنا دیا تھا اور اس کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اس قدام پر حکومت نہ تو سپریم کورٹ گئی نہ ہی اس جماعت کے اثاثے ضبط کئے گئے، اس بات پھر تحریک لبیک نے حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزی کاالزام لگا کر مریدکے کے مقام پر دھرنا دیا اور سارے راستے بلاک کر دئیے، گزشتہ دس دن سے حکومت ایک کالعدم جماعت سے مذاکرات کررہی ہے سونے پر سہاگہ یہ کہ اس کالعدم جماعت کو پاکستان میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس جماعت نے عمران سے انتخابی اتحاد کر لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا ووٹ عمران کو جائیگا، جب سیاسی پیار محبت کا یہ عالم ہے تو اس کے غیر قانونی دھرنوں پر قانون کیسے حرکت میں آئیگا، اس ملک میں حکومتیںاپنے سیاسی مفاد کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہیں اور وہ حکومت جو فوج کی بیساکھیوں پر کھڑی ہو وہ قانون پرعمل کیسے کرائیگی۔
شیخ رشید فوج کے ہی TOUTہیں اور اس بات پر ان کو ناز بھی ہے وہ خود دہشت گردی کے کیمپ چلاتے رہے ہیں اور ان کا جھکائو مذہبی جماعتوں کی طرف بہت زیادہ ہے انہوں نے اس بار بتایا کہ تحریک لبیک سے مذاکرات ہوئے ہیں ان سے معاہدہ ہو چکا اور ان کو مریدکے کے مقام پر بدھ تک بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی ہے، مختلف حکومتوں تحریک لبیک سے یکے بعد دیگرے کئے معاہدات کئے مگر کسی معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ ARYکے ارشد شریف جو DOCUMENTSنکالنے کے معاملے میں شہریت رکھتے ہیں ان کی خدمات لی جا سکتی ہیں جب کبھی فوج کو ضرورت محسوس ہو گی تب ارشد شریف بتائینگے کہ اس جماعت نے کہاں کہاں HIDE OUTبنائے تھے اور سرنگیں بنائی تھیں یا نہیں، خبر ہے کہ تحریک کے تمام گرفتار اراکین جیل سے رہا کر دئیے گئے ہیں اور ان کے مقدمات بھی واپس لے لئے جائینگے، شیخ رشید نے کہا کہ اس جماعت کو کالعدم نہیں رہنے دیا جائیگا ارو اس کی ڈرائی کلیننگ کر لی جائیگی میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ اقدامات کیونکر طاقت کے بل پر قانونی بنا دئیے جاتے ہیں یہ بات تو ثابت ہو چکی کہ ریاستِ مدینہ میں مولوی کو اس کے انتہائی قبیح جرائم کی سزا کبھی نہیں ملے گی چاہے اس پر الزام اغلام بازی کا ہو یا قرآن کے صفحات کو پھاڑ کے غلاظت میں ڈالنے کا ہو بچیوں کو ریپ کر کے قتل کرنے کا یا ناجائز جلائو گھیرائو اور آتش زدگی کا، عوام کی زندگی اگر یہ لوگ عذاب بنا دیں تو حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا، فوج ایسے دہشت گرد گروپ بناتی ہے اور دنیا کو ڈراتی ہے کہ پاکستان کہ ایسے دہشت گردوں سے بھرا ہوا ہے اور ان کو مہذہب زندگی کی طرف نہیں لایا جاسکتا اور نہ ہی ان کا جدید تمدن سے کوئی واسطہ ہے اس کے پیچھے یہ بھی پیغام ہے کہ پاکستان اپنی مذہبی پالیسیوں کی وجہ سے خود ہی FATFسے نکلنا نہیں چاہتا۔