’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘

130

لیکن پہلے اس خبر کی بات جس نے اتوار 24 اکتوبر کو پاکستانی قوم کیلئے روزِ عید بنا دیا۔
اس قوم کو خوشیاں کم کم ہی ملتی ہیں۔ داخلی اور بیرونی مسائل،بلکہ مصائب، میں گھرے ہوئے پاکستان اور اس کے ان باسیوں کیلئے جن کا صبر دشمنوں سے زیادہ دوست آزماتے ہیں، اچھی خبر یا دل خوش کردینے والی پیش رفت یوں لگتا ہے جیسے اس حرماں نصیب قوم کو قدرت نے اپنی طرف سے کوئی تحفہ دیا ہو۔ اور کرکٹ کے میدان میں اگر کوئی معجزہ ہوجائے اور ہماری ٹیم کوئی ایسا کارنامہ کرے جس کی توقع کم رہی ہو تو پھر پاکستانیوں کے دل باغ باغ کیوں نہ ہوں؟
ہماری کرکٹ ٹیم نے ٹی -20 کا پہلا میچ اپنے ازلی حریف بھارت کے خلاف کھیلا اور کھیلا بھی وہاں جہاں پاکستانیوں سے کہیں زیادہ بھارتی رہتے ہیں اور وہ بھارتی ایسے تھڑ لّے اور پاکستانیوں کو زچ کرنے والے ہیں کہ دبئی میں، جہاں میچ ہورہا تھا، ہندوستانیوں نے زیادہ سے زیادہ ٹکٹ خریدے تاکہ پاکستانی شائقین کیلئے اسٹیڈیم میں بیٹھنے کی گنجائش کم سے کم ہو!۔ لیکن مسلمان تعداد سے تو کبھی نہیں گھبراتا۔ ہماری تو تاریخ ایسے واقعات اور ایسی جنگوں سے بھری ہوئی ہے جن میں کم تعداد مسلمانوں نے اپنے حریف کی کثرت کو پامال کیا۔ ہمارے حکیم الامت نے غلط تو نہیں کہا تھا کہ؎
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی!
تو خیر یہ جنگ نہیں تھی کرکٹ کا میچ تھا دو ایسے حریفوں کے درمیان جن میں سے ہر ایک دوسرے کو نیچا دکھادے تو اس کی پوری قوم نشہء فتح سے سرشار ہوجاتی ہے۔ اور ہمارے شاہینوں نے یہی کیا کہ بھارت کی ٹیم کو اس میچ میں دس وکٹوں سے ہراکر گویا ایک عبرتناک شکست سے دوچار کیا جس کا ٹیم نے تو کیا پوری بھارتی قوم نے سوچا بھی نہیں تھا۔
میچ سے پہلے بھارتی، خاص طور پہ ان کے سابقہ کھلاڑی اور کمنٹیٹر، دانت نکال نکال کے ٹیلی وژن کے پروگراموں میں پیشن گوئیاں کررہے تھے کہ نتیجہ وہی ہوگا جو سن 1992 سے ان دو حریفوں کے درمیان ورلڈ کپ کے مقابلوں میں ہوتا آیاتھا۔ یعنی پاکستان ہارتا تھا اور بھارت جیتتا تھا۔ تو سب کا یہی خیال تھا کہ بھارت کی مضبوط اور تجربہ کار ٹیم اپنے سے کمزور اور ناتجربہ کار ٹیم کو ایک اور شکست سے ہمکنار کریگی۔ لیکن دبئی کا میدان جب سجا تو دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کے جوان شاہین اپنے حریفوں پر یوں ٹوٹ کے جھپٹے جیسے عقاب اپنے شکار پر قہر بن کر گرتا ہے اور ایک ہی جھپٹے میں اسے دبوچ لیتا ہے۔
دیکھئے کہ ہم نے اس میچ کا خلاصہ اور پاکستان کی عظیم اور تاریخی فتح کو کیسے ان چار مصرعوں میں یوں سمیٹا ہے جیسے سمندر کو کوزہ میں بند کردیا جائے:؎
کیا جھپٹا ہے عقابوں نے مودی کے چوزوں کو
بھارت کا ہر کھلاڑی اب اک تر نوالہ ہے
کشمیر میں بھی جلد یہ انجام دیکھنا
مودی کا منہ سیاہ یونہی ہونے والا ہے
تو ہمارے شاہینوں نے یہ ثابت کردیا کہ ان کی ناتجربہ کاری بھارت کے تجربہ کار کھلاڑیوں پر بہت بھاری پڑی، ایسی کاری پڑی کہ دن میں تارے دکھادیئے۔
پاکستانیوں کیلئے یہ ایسی خوش خبری تھی جس کا جشن دنوں تک منانا جائز ہوتا لیکن خدا بھلا کرے ہماری اس سیاسی حکومت کا جس کی سوچ، جس کی فہم، اور جسکی پالیسیاں اب ہماری فہم سے بالاتر ہوتی جارہی ہیں اور کیوں نہ ہوں جب پالیسی سازوں میں شیخ رشید جیسے مسخرے اور بھانڈ مرکزی کردار ادا کرتے ہوں!
یہی حکومت تھی جس نے اسی سال گذشتہ اپریل کے مہینے میں اس شر پسند تحریک لبیک پاکستان ٹی ایل پی کو دہشت گرد قرار دیکر اس پر پابندی لگادی تھی اور اس پابندی کا اعلان کرنے والا یہی سیاسی مسخرہ، شیخ رشید تھا جو آج اس سے مکر رہا ہے اور کہتا ہے کہ ٹی ایل پی پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی اور اسے حکومت نے دہشت گرد قرار نہیں دیا۔
جب حکومت کے مشیر اور وزیر اس قابلیت کے، اس قماش کے لوگ ہوں تو پھر ایسی حکومت کو کون سنجیدگی سے لے گا؟ اور یہ کوئی ایسا سوال نہیں ہے جو رواروی میں کیا جائے اسلئے کہ پاکستان کے سر پر باہر کی دنیا کی طرف سے مدتوں سے اس عنوان سے تلوار لٹکتی رہی ہے، اور اب طالبان کے افغانستان پر حاوی ہوجانے کے بعد یہ تلوار اور بھی بے نیام ہوچکی ہے جسکا ایک ثبوت، بہت تازہ، یہ ہے کہ ابھی تین دن پہلے ایف اے ٹی ایف جو مغربی ممالک کی شہ پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے وضع کردہ ادارہ ہے صرف اس کام کیلئے کہ وہ دنیا بھر کے ممالک کی مالی پالیسیوں اور بنکنگ کے معاملات پر عقاب کی سی نظر رکھے تاکہ دہشت گردوں کیلئے روپے پیسے کی ترسیل کو روکا جاسکے۔ اس ادارے کے فیصلے، بلاشبہ، سیاسی مصلحتوں پر مبنی ہوتے ہیں لیکن بہرحال پاکستان جیسے ممالک اس کی زد میں ہیں۔ پاکستان پر عتاب اور یوں بھی ہے کہ مودی کا فسطائی بھارت، جو خود دہشت گرد ہے اور جس کی دہشت گردی کے ثبوت روز مقبوضہ کشمیر سے ملتے رہتے ہیں، وہ مغربی ممالک کا چہیتا ہے اور پاکستان کے خلاف پابندیوں کو طول دینے میں بھارت کا مذموم کردار الم نشرح ہے۔ خود بھارتی وزیرِ خارجہ، جیا شنکر، نے بڑے زعم سے یہ اقرار کیا اور جتایا کہ پاکستان کے سر پر ایف اے ٹی ایف کی جو تلوار لٹک رہی ہے اسے برقرار رکھنے میں بھارت کا بڑا دخل ہے۔
تو تین دن پہلے اسی ایف اے ٹی ایف نے پیرس میں اپنے اجلاس میں یہ طے کیا کہ پاکستان اس کی گرے لسٹ میں مزید کئی مہینوں کیلئے رہے گا تاکہ اس سے جن باتوں کا تقاضہ ہے وہ پوری کروائی جاسکیں۔ پاکستان کو مطالبات کی ایک فہرست دی گئی تھی جس میں 34 سوال تھے۔ ادارے کے سربراہ کے بقول پاکستان نے 34 میں سے 30 کا جواب تسلی بخش دیا ہے اور جو چار سوال تشنہ رہ گئے ہیں ان پر بھی بقول ان کے تسلی بخش پیش رفت ہوئی ہے لیکن پاکستان کا ازلی دشمن بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان کو فی الحال گرے لسٹ سے نکالا جائے تو اس کا پلہ بھاری ٹہرا اور پاکستان کی گلو خلاصی نہ ہوسکی۔
لیکن آپ سے ہمارا سوال ہے کہ جب یہ مسخری حکومت خود اس سے مکر جائے کہ اس نے ایک دہشت گرد تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا تھا یا اس پر پابندی لگائی تھی تو پھر پاکستان کے دشمنوں کو کیوں یہ موقع نہیں ملے گا کہ وہ پاکستان کو خود اس کی تلوار سے ذبح کریں اور پاکستان پر اس الزام میں پابندیاں برقرار رکھیں کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتا ہے؟
یہ کیسی غیر سنجیدہ، بلکہ ڈرپوک حکومت ہے کہ جس ٹی ایل پی کو دہشت گرد قرار دیکر اسے کالعدم ٹہراتی ہے اسے جلوس نکالنے اور شاہراہوں کو بند کرنے کی سہولت بھی دیتی ہے جس سے دہشت گرد اور شیر ہوجاتے ہیں۔ وہ پولیس کے تین سپاہیوں کو لاہور شہر میں ہلاک بھی کرتے ہیں لیکن حکومت اس کے باوجود انہیں کھلی چھوٹ دیتی ہے کہ وہ شاہراہیں بند کردیں اور پھر جب نظام زندگی مفلوج ہونے لگتا ہے تو ان دہشت گردوں کے سرغنوں سے برابری کی بنیاد پر مذاکرات بھی کرتی ہے۔ وزیر اعظم خود تو دو تین دن کیلئے سعودی عرب چلے جاتے ہیں اور دہشت گردوں سے بات چیت کی ذمہ داری مسخرے شیخ رشید کو سونپ جاتے ہیں۔ یہ وہی شیخ رشید ہے جس کیلئے عمران خان نے بھرے جلسے میں با آوازِ بلند کہا تھا کہ وہ اس شخص کو چپراسی کی نوکری بھی نہیں دینگے لیکن اب ملک کی قسمت کے فیصلے اسی نالائق کے سپرد کرگئے ہیں۔
شیخ رشید نے کارنامہ یہ کیا کہ دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ ان کا ہر مطالبہ مان لیا، جس میں ان کا یہ دیرینہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکال دیا جائے۔ یہی نہیں، شیخ صاحب، جن کی شیخی بڑی بڑی ڈینگیں مارنے کی ہے، نے یہ فیصلہ بھی کرلیا، اور اس کا اعلان بڑے طنطنہ سے کیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں جن شر پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا ان سب کو، یعنی 350 دہشت گردوں کو رہا کیا جارہا ہے اور مزید کو رہائی کا پروانہ بہت جلد ملے گا۔ ظاہر ہے کہ شیخی خور شیخ رشید نے یہ فیصلہ وزیر اعظم کی رضامندی سے ہی کیا ہوگا۔ تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جس دن پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے بھارت کو دھول چٹوائی اسی دن اس ٹیم کے سابق کپتان، جن کی شہرت یہ تھی کہ وہ مشکلات کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے تھے، دہشت گردوں کے سامنے وہ خود ڈھیر ہوگئے۔
اللہ اللہ، کیسی بلندی، کیسی پستی۔ کپتان نے کرکٹ کو کیا چھوڑا لگتا ہے کہ ان کی تمام تر بہادری، جوانمردی اور صائب فیصلے کرنے کی قوت بھی ساتھ ہی رخصت ہوگئی۔ بائبل میں ایک داستان ہے پہلوان سیمسن کی جن کی تمام قوت اور طاقت ان کے بالوں میں تھی جسے جان کر دشمن نے ایک خوبصورت عورت، ڈلیلا، کے ذریعہ ان کے بال کٹوا دئیے اور بال کٹتے ہی سیمسن کی ساری قوت کافور ہوگئی۔ لیکن بائبل کی داستان وہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ دشمنوں نے سیمسن کو بے دست و پا کرکے پھر اسے سزا دینے کیلئے مندر کے بلند و بالا ستونوں کے ساتھ باندھ دیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کا سر قلم کرتے سیمسن کے بال پھر سے اگ آئے اور سیمسن کی وہ قوت لوٹ آئی جو دشمن کو نیست و نابود کرسکتی تھی اور سیمسن نے عالمِ طیش میں، زنجیروں سے بندھے ہونے کے باوجود، پورے مندر کو اپنے اور اپنے دشمنوں کے اوپر گرادیا۔
خدا نہ کرے جو عمران یا پاکستان پر وہ وقت آئے جس کا سیمسن کو سامنا تھا۔ لیکن عمران نے ان دنوں جو حماقتیں کی ہیں اور جس طرح اپنے آپ کو بے دست و پا بنایا ہے وہ ہم جیسے عمران کی صلاحیتوں کے قائل افراد کیلئے بلاشبہ تکلیف دہ ہے۔