کیاپاکستانیوں کو ایماندار حاکم نہیں چاہیئے؟

141

عمران خان نے جب سے کرپشن کے خلاف جنگ شروع کی ہے، اس پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں۔ جب کرپٹ حضرات کے مفادات پر حرف آتا ہے، تو ان کی پہلے تو چیخیں نکلتی ہیں، پھر جوابی کاروائیاں۔ کرپشن کے بادشاہ جو ولایت میں عیش لوٹ رہے ہیں، اور پاکستان میں انکی شہزادی، جو سازشوں کی ماہر ہے، وہ اپنے چاہنے والے ، شراکت داروں کو اکساتے رہتے ہیں کہ کوئی ایسا کام کیا جائے کہ ان کا دشمن عمران خان وزیر اعظم نہ رہے۔ پھر وہ کسی نہ کسی حربے سے میاں نواز شریف کو واپس اقتدار کی گدی پر بٹھا دیں گے، اور کرپشن کا پھر ایک ایسا دور شروع ہو گا کہ بچے اپنی مائیں بھی بیچ دیں گے۔ ہر سرکاری ملازم اپنے رتبہ کے مطابق لکھ پتی یا کڑوڑ پتی بن جائے گا ۔ اور سیاستدان ارب پتی۔اللہ بس، باقی ہوس۔
کیسی عجیب بات ہے کہ مخالفین ، جن کو اس سازش میں، اپنے لیے ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے، انہوں نے مل کر پی ڈی ایم کا محاذ بنا یا۔ کوئی گیارہ کے قریب پارٹیاں اس کا حصہ بن گئیں۔ ان میں پی پی پی اور ن لیگ پیش پیش تھیں۔ لیکن کرنا خدا کا کیا ہوا؟ پی پی پی نے جب نون لیگیوں کے مقاصد پر غور کیا تو انہیں سمجھ آئی کہ یہ سارا کھڑاگ نواز شریف کو واپس اقتدار میں لانے کے لیے ہے، تو انہوں نے پی ڈی ایم سے کنارہ کشی کر لی کیونکہ وہ تو بلاول کو تخت شاہی پر بٹھانا چاہتے تھے۔ان دونوں جماعتوں کے عزائم میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ اب رہ گئی نون لیگ اور باقی کی چھوٹی جماعتیں۔ ان چھوٹی جماعتوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ انہیں تو اقتدار ملنے کا کوئی سوال ہی نہیںپیدا ہوتا تھا۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ پی ڈی ایم نے قیادت کس کو سونپی؟ ملا فضل الرحمن کو جو ہر الیکشن ہار چکا تھا لیکن خواہشمند تھا کہ ہر دوسرے دن انتخابات ہوں جب تک کہ وہ جیت نہ جائے۔فضلو کو اگرچہ اس کے حلقے کے عوام نے مسترد کر دیا تھا، لیکن ملک کے سینکڑوں، ہزاروں مدرسوں میں اس کا اثر و رسوخ تھا اور وہ مدرسوں کے فارغ التحصیل طلباء کوچند روپوں کا لالچ دے کراکٹھا کر سکتا تھا جو کالی اور سفید دھاریوں والے جھنڈوں کے ساتھ حاضری دے دیتے تھے۔ ملا فضلو کی مثال کسی بھی موقع پربھاڑے کے لاٹھی بردار، گمراہ نوجوانوں کو لانے والے ٹھیکیدار کی بن گئی ہے ۔ جو بھی سیاستدان اور ان کے وفادار ٹھیکیدار کچھ رقم ملا فضلو کی نذر کر دے، اس کوملا کی ڈنڈے بردار، جھنڈے لہراتی ،فوج ظفر موج جلسے جلوسوں کے لیے مہیا کر دی جاتی ہے۔یہی انکو پی ڈی ایم کی صدارت دینے کا راز ہے۔
سب سے زیادہ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ جماعت اسلامی کے سربراہ ملا سراج الحق کس بات پر اچھل کود رہے ہیں؟ وہ خواہ مخواہ، بہتی گنگا سے ہاتھ دھونا چاہتے ہیں۔ بھئی اگر خدا نا خواستہ ایک نیک اور ایماندار حاکم وقت آ ہی گیا ہے تو اس کو ہٹانے سے آپ کو کتنے نفلوں کا ثواب ہو گا؟ اور تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی زمین پر فتنہ اور فساد نہ پھیلائو۔ اور حاکم وقت کی تابعداری کرو۔لیکن ملا سراج الحق کو ارشاد باری تعالیٰ سے اتفاق نہیں ہے، کیونکہ وہ زیادہ جانتے ہیں۔ جب نئی حکومت بنے گی تو ان کی ننھی منھی پارٹی کو بھی، اور چھوٹی پارٹیوں کی طرح، ن لیگ میں ایک آدھ وزارت دیئے جانے کی امید دلائی گئی ہے۔
حزب مخالف کے پاس عوام کو بتانے کے لیے عمران خان کے خلاف کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے کیونکہ وہ نا صرف ایماندار شخص ہے بلکہ غریبوں کے لیے اپنے سینہ میں درد بھی رکھتا ہے۔ اور اپنے احساس پروگرام کے ذریعے، ان غریبوں، مفلسوں اور ناداروں تک امداد پہنچا رہاہے، جن کو کبھی کسی حکومت نے پوچھا تک نہیں۔اس لیے انہوں نے ایک ایسی چیز کو بڑا کھڑاگ بنا دیا ہے جو ہر دور میں ہوتی آئی ہے اور اب بھی ہے۔وہ مہنگائی ہے۔ مہنگائی کا شکوہ بھٹو کے زمانے میں تھا، اور اس کے بعد ہر جمہوری حکومت کے دور میں بھی۔پی ڈی ایم نے مہنگائی کو ایک بڑا مسئلہ بنانے پر اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا جواز بنانے پر اتفاق کیا، اور عمران خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کا واحد راستہ۔
پاکستانی حزب مخالف نے برطانوی جریدہ ’’ ایکونومسٹ‘‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ا س کی رپورٹ کے مطابق ، دنیا کے42 ممالک میں مہنگائی کی فہرست میں پاکستان کا چوتھا نمبر ہے۔ جب کہ وزارت خزانہ کا کہنا ہے ہے کہ اگر پاکستان کا تقابل اس جیسے ممالک سے کیا جاتا تو پاکستان کا نمبر30 ہوتا۔بہر حال، اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کا تناسب9ے جب کہ ارجینٹینا میں 51.4 اور ترکی میں19.6 بتایا گیا ہے۔وزارت خزانہ نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں مہینے بھی ایک جیسے نہیںہیں وہ اس لیے ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔علاوہ ازیں، دنیا بھر میں کووڈ کی وجہ سے قیمتیں بڑھی ہیں۔ مہنگائی عالمی سطح پر ایک چیلنج ہے۔
امریکی ریاست نیو جرسی کے ایک حلال فوڈ سٹور نے یہ نوٹس لگایا : ’’تلنے والا گھی گزشتہ برس21 ڈالر کا تھا، 6مہینے پہلے32 ڈالر کا ہوا اور اب 44 ڈالر کا ہو گیا ہے۔ یعنی گزشتہ برس کے مقابلہ میںایک سو فیصد سے بھی زیادہ مہنگا ہو گیا۔ مرغی کے بازو کا کیس جو گزشتہ برس 45ڈالر کا تھا اب172 ڈالر کا ہو گیا ہے۔ کھانا پیک کرنے کے ڈبے جو گزشتہ سال 25 ڈالر کے تھے ، وہ 95 ڈالر کے ہو گئے ہیں۔
یہی حال تقریباً ہر اس چیز کا ہے جو ہم استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ ُٓ کا مقامی ریسٹورانٹ ڈالر ایک، دو یا تین کا اضافہ کرتا ہے تو وہ اس سے کوئی لکھ پتی نہیں بن جائے گا۔ لہٰذا، جب ریسٹورانٹ میں کھائیں تو اس بات کا خیال رکھیں۔
تو اس بات کا خیال رکھیں۔یہ تو ایک مثال ہے۔ تمام دنیا کا یہی حال ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تو ایکونومسٹ بھی بی بی سی کی طرح حقائق کو توڑ مڑوڑ کر اپنے مطلب کے نتائج نکالنے کا ماہر ہے۔اس کی رپورٹ کے مقابلے میں ورلڈ پاپولیشن ریویو کا جائزہ دنیا کے
135 ممالک پر مشتمل ہے جو ایک زیادہ حقیقت پسندانہ موازنہ پیش کرتا ہے ۔اس کے مطابق، دنیا کا مہنگائی انڈکس2021 کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 135تھا، اور انڈکس 21۔ یعنی پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک تھا۔ جب کہ سب سے مہنگا ملک نمبر1برمودا تھا جس کا مہنگائی انڈکس 147.77 تھا۔ اس کے بعد سویٹزر لینڈ، جو نمبر 2 تھا اور اس کا انڈکس 125.69 تھا۔ یہ رپورٹ ورلڈ پاپولیشن ریویو نے شائع کی، اور انٹر نیٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔اس سروے میں انڈکس کا تعین کرنے میں کرایوں، اشیاء ضرورت، ریسٹو رانٹ کے نرخ، اور خدمات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ اور اس انڈکس کے تناظر کے لیے نیو یار ک شہر کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔جس شہر یا ملک کا انڈکس 100سے اوپر ہو ،اسے نیو یارک سے زیادہ مہنگا سمجھا جائے گا۔ اس انڈکس کے مطابق دنیا کا دوسرا سستا ترین ملک بھارت ہے۔ اس کے بعد بتدریج کرغزستان، افغانستان اور شام ہیں۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ ایک سروے پاکستان کو دنیا کا سستا ترین ملک بتا رہا ہے، اور دوسرا چوتھا مہنگا ترین۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اعداد و شمار کو اپنی مرضی توڑ مروڑ کر نتایج اخذ کرنا تو کوئی مشکل بات نہیں۔ یہ کوئی بھی اچھا ماہر شماریات آسانی سے کر سکتا ہے۔اور اپنی مرضی کا نتیجہ نکال کر دکھا سکتا ہے۔ اب جب کہ پاکستانی حزب مخالف مہنگائی کو ایک سنگین مسئلہ بنا کر ملک گیر احتجاج کر رہے ہیں تو ایکونومسٹ کے لیے انہیں ایسا مواد دینا ، جو جلتی پر تیل کا کام کرے،ان کی پاکستان دشمنی کے ضمن میں کوئی مشکل امر نہیں۔ لندن میں پاکستان کے سابق مخالف سیاسی حکمران، جو بھارتی پراپیگنڈا مشینری کی مشاورت پر چلتے ہیں اور ذرہ بھر ملک کے وفادار نہیں، وہ یہ سب کچھ کرواتے ہیں۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عالمی ادارہ پاکستان کو سستا ترین ملک بتا رہا ہے اور کوئی اس کا چوتھا مہنگا ترین ملک۔ یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ بہر حال پاکستانی سیاسی مخالفین کو اچھا خاصا بارود تو دے دیا گیا ہے۔
لیکن سیاسی مخالفین حقائق کو دیکھے بغیر اپنے پراپیگنڈا کو ہوا دیتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، مثلاً عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 81فیصد بڑھی لیکن پاکستان میں 17 فیصد، گیس کی قیمتوں میں 101 فیصد اضافہ ہوا لیکن پاکستان میں صرف 17 فیصد، چینی کی قیمتیں دنیا میں53 فیصد بڑھیں اور پاکستان میں 15فیصد، یوریا کی قیمت دنیا میں 66 فیصد بڑھی اور پاکستان میں28 فیصد، اور کھانے والے تیل کی قیمت48فیصد بڑھی لیکن پاکستان میں 38فیصد۔ ان اعدادو شمار کو دیکھتے ہوئے، مخالف سیاسی جماعتوں کا احتجاج بے معنی اور مضحکہ خیز لگتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ملک میں فسادات،ہنگامے، اور توڑ پھوڑ کروا کر مخالفین کس کی اِچھا پوری کر یں گے؟ اگر ان کا خیال ہے کہ عمران خان تنگ آ کر استعفیٰ دے دے گا، تو زیادہ امکان یہ ہے کہ عمران خان اسمبلیاں توڑ دے گا اور دوبارہ عام انتخابات کا راستہ ختیار کرے گا۔ اور مخالفین یہ بھی نہیں چاہتے کیونکہ انتخاب لڑنا خالہ جی کا گھر نہیں۔ اس پر اب کڑوڑوں لگتا ہے اور اگر عمران خان دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گیا تو کرپشن کے دروازے بھی تنگ ہو جائیں گے اور انتخاب پر لگائی رقمیں کیسے ملیں گی؟ ان حالات کو سوچتے ہوئے ، مخالفوں کی ہنڈیا چڑھتی نظر نہیں آتی۔ زیادہ امکان ہے کہ مخالفین ہنگامے کر کے تتر بتر ہو جائیں گے۔ اور آئیندہ انتخابات تک کوئی بڑا قدم اٹھانے سے باز رہیں گے۔