TLPکیساتھ اگر سخت رویہ نہ اپنایا گیا تو پھر یہ بھی مستقبل کے دہشت گرد(TTP)ثابت ہوں گے!

66

یہ بات بہت ہی ناقابل اعتبار ہے کہ ایک ملک کا وزیر خارجہ ایک کالعدم تنظیم سے یہ درخواست کررہا ہے کہ آپ اپنے ایک مطالبے سے برائے مہربانی دستبردار ہو جائیں باقی سارے مطالبات ہم من و عن مان لیں گے۔ اس ہفتے کالعدم تنظیم ٹی ایل پی سے پہلے شیخ رشید نے منگل تک کی مہلت مانگی کہ برائے مہربانی آپ اپنے دھرنے اور مارچ کو مریدکے تک روک کررکھیں ہم بدھ کو فائنل مذاکرات کے بعد حتمی اعلان کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق اس کالعدم تنظیم کے لوگ قافلہ لے کر لاہور سے اسلام آباد کی طرف گامزن ہیں جہاں وہ پہلے کی طرح سے فیض آباد والا دھرنا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کا مطالبہ یہ ہے کہ اس جماعت کے حادثاتی سربراہ سعد رضوی کو رہا کیا جائے جسے باپ خادم رضوی کی موت کے بعد نیا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔ خادم حسین رضوی نے اس تنظیم کی 2015ء میں کراچی میں بنیاد رکھی تھی صرف پچھتر ارکان کیساتھ۔ 2021ء میں اس جماعت کو دو پولیس والوں کے قتل اور تین کو زخمی کرنے کے بعد کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ اس سال اپریل میں سعد رضوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک سے فرانس کے سفیر کو نکال دیا جائے ورنہ وہ اسلام آباد میں دھرنا دے کر زندگی مفلوج کر دیں گے۔ اس دھمکی کے بعد حکومت نے سعد رضوی کو گرفتا رکر کے جیل میں ڈال دیا اور انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ قائم کر لیا گیا۔ ٹی ایل پی کے متعلق خبروں اور پروپیگنڈہ پر پابندی لگا دی گئی مگر تحریک نے پھر بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اپریل میں بدنام زمانہ لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کے رہائی کے احکامات جاری کر دئیے اور حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتاری کو مزید نوے دن کیلئے آگے بڑھا دیا۔ معلوم یوں ہوتا ہے کہ جیسے فلموں کی طرح سے چور سپاہی کا کھیل جاری ہے۔ دراصل حکومت نے پہلے ہی دن سے ان دہشت گردوں کی طرف گھیرا تنگ اور سخت کردینا چاہیے تھا جب خادم حسین رضوی نے ملک کے وزیراعظم اور افواج کے سربراہ کو مادر زاد ننگی اور غلیظ گالیوں سے للکارا تھا۔ وہ تو اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس نے اس شخص کو اوپر اٹھا لیا ورگرنہ حکومت تو اس وقت بھی آج ہی کی طرح بے بس نظر آرہی تھی۔ یہ بالکل وہ ہی حالات ہیں جیسے پرویز مشرف کے زمانے میں اسلام آباد کی لال مسجد کے مولویوں نے پیدا کیے تھے۔ آئی ایس آئی جس پر ہر پاکستانی کو بڑا فخر ہے یہ پتہ ہی نہ چلا سکی کہ لال مسجد میں ہر قسم کا جدید اسلحہ پہنچایا جاتا رہا اور ایک طرح سے اسلحہ ڈپو بنا ہوا تھا پورا لال مسجد کا کمپائونڈ، اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب فوج کے چھاپے کے بعد جس طرح سے اندر سے مقابلہ کیا گیا اور بموں سے حملے کئے گئے۔ جب ملائوں اور فسادیوں کے مارے جانے کے بعد میڈیا کو مسجد کے احاطے اور اسلحہ خانہ کا ٹورکرایا گیا تو دیکھنے والوں نے کہا کہ صرف میزائلوں اور ٹینکوں کی کمی رہ گئی تھی ورنہ تو تمام تر اسلحہ وہاں پر موجود تھا۔ آج شیخ رشید صاحب پھر بھیگی بلی بنے ان فسادیوں سے مزید مہلت مانگ رہے ہیں اور ملتمس ہیں کہ برائے مہربانی فرانسیسی سفیر کی بیدخلی کا مطالبہ واپس لیں ورنہ پاکستان کو بہت نقصان ہو گا۔ شیخ صاحب سے سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت پاکستان کی ساکھ کو کیا کم نقصان پہنچ رہا ہے جب ایک ریاست ایک باغی گروہ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے؟ پرویز مشرف نے لال مسجد پر حملہ کر کے صحیح سمت میں صحیح فیصلہ کیا تھا وگرنہ تو قاف لیگ کے نام نہاد لیڈران تو اس وقت بھی انہیں منع کررہے تھے۔ آج بھی اسی قسم کے ایکشن کی ضرورت ہے ورنہ آپ ہمیشہ ان فسادیوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے۔