اس مہنگائی کا کچھ تو علاج ہو! عوام کابھرکس نکل چکا ہے!

337

مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے بھرکس نکل چکا ہے۔ چلتی پھرتی زندہ لاشوں سے کیا حال احوال پوچھا جائے۔ یہی کہتے ہیں
ہر وقت گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟
بیچارے گھبرائیں گے کیا سکت ہی نہیں رہ گئی ناک پکڑو دم نکلتا ہے۔ پٹرول، گیس، بجلی پر قیمتیں بڑھتی ہیں تو پیسوں کا تو دم چھلا یا جھنجٹ لگایا جاتا ہے مثلاً بجلی ایک روپے 62پیسے مہنگی تو سمجھ جائیے پورے 2روپے۔ اسی طرح پٹرول گیارہ روپے کچھ پیسے مطلب 12روپے ہی شمارکیجئے۔ اس حکومت کے ڈوبنے کا سب سے بڑا سبب یہ گرانی ہے۔ دھیلے، پیسے، پائی، کوڑی کا زمانہ گیا اب تو کروڑوں پر بات چلی گئی ہے۔ عوام مارکیٹوں میں نگاہوں میں حسرتوں کے سمندر لیے گھومتے نظر آتے ہیں۔ دکانداروں کی حقارت بھری نظروں کو برداشت کرنا بھی ایک مرحلہ ہے۔ کسی بھی شے کو چھونے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ قیمت پوچھو تو ٹکا سا جواب ملتا ہے۔ آگے بڑھو جنہیں لوگ ٹکے ٹکے کے کہا کرتے تھے انکا ایک ٹکا آپکے دو روپے کے برابر ہے۔ بیلجم وغیرہ کی مثال دینا چھوڑئیے۔ اپنی بات کیجئے
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا
جو سنا افسانہ تھا!
فسادی فضلو کو نواز شریف نے ایک ٹاسک دے دیا ہے کہ وہ مہنگائی کا فریادی جھنڈا بلند کریں۔ عوام مہنگائی سے ویسے ہی تنگ آئے ہوئے ہیں۔ کوئی مخالفت میں نہیں اٹھے گا اس وقت سب چور اکٹھے ہیں سب کا مفاد اس میں ہے کہ یہ حکومت گھر جائے تو وہ اپنے لوٹے ہوئے مال پر عیش کریں۔ غریب عوام کی رگوں میں کچھ لہو رہ گیا ہو تو وہ بھی نچوڑ لیں۔
جب تک نواز، زرداری ٹبر کا جڑ سے خاتمہ نہیں ہوتا پاکستان میں امن و امان نہیں ہو سکتا۔ یہ لوٹی ہوئی دولت سے اپنے ہمنوا بناتے ہیں لوگوں میں افراتفری پھیلائی جاتی ہے۔حکومت ان شر پسندوں سے نمٹنے میں لگ جاتی ہے۔ دوسرے بڑے کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔
فضلو فسادی تو تھالی کا بینگن ہے، جہاں پر دیکھے پرات وہاں ناچے ساری رات‘‘
جو ذرا سخاوت دکھائے فضلو کو خرید سکتا ہے صرف حلوے مانڈے کا انتظام کر دے۔ لسی کے گلاس وافر مہیا کر دے۔ یہ بڑا عالم دین بنا پھرتا ہے۔ اسے اتنا ظلم بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے والے کے لئے کیا احکام دیا ہے۔ جو لوگ کسی مقصد کے تحت اپنے گرد لوگوں کا گروہ جمع کرتے ہیں اور انکی تعلیمات احکامات خداوندی سے جدا ہوتی ہیں۔ روز حساب انکی قوم کے ساتھ انہیں حاضر کیا جائے گا اور انکے پیروکار گواہی دینگے ہمیں اس نے گمراہ کیا۔ ہم بے قصور ہیں۔ خدا کو دیکھنا نہیں مگر عقل سے تو پہچاننا ہے۔ خود سوچیئے کیا فیصلہ ہو گا؟ مگر اس کو کوئی فکر نہیں ۔بیچارے گائوں کے سیدھے سادھے جاہل لوگ اسکی باتوں میں آجاتے ہیں۔
وزیراعظم کو سارے خطابات، القابات سے نوازا جا چکا اور دیکھا کہ کچھ اثر نہیں ہوتا تو اب انکی ازدواجی زندگی پر شب خون مارنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ دو دفعہ حالات خراب کر کے انہیں چین نہ ملا۔ جمائما باوجود غیر قوم ہونے کے نہایت باوفا خاتون ہیں۔ اب بھی وہ عمران خان کے بارے میں کسی غلط بیانی کو برداشت نہیں کرتیں۔ اپنے دونوں بیٹوں کو انہوں نے اسلامی تعلیمات سے روشناس کروایا ہے۔
ریحام خان دوسری بیوی تھیں۔ جن میں شرم و حیات چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ سنا تھا کہ عمران خان سے انکی دور کی رشتہ داری بھی ہوتی تھی۔ طلاق یافتہ تھیں، دو بیٹے بھی تھے بالکل مغربی تہذیب میں ڈھلی ہوئی تھیں۔ ڈانس پارٹیاں وغیرہ میں ناچتی ہوئی، بے ہودہ لباس میں انکی ویڈیوز ہیں۔ پتہ نہیں کیسے عمران خان انکے پھندے میں آگئے۔ ریحام نے انہیں بے انتہا تنگ کیا۔ طلاق کے بعد گھٹیا الزامات لگائے جو کہ کوئی باحیا مشرقی خاتون نہیں استعمال کر سکتی ن لیگیوں کی شہ پر اور دولت سمیٹنے کی لالچ میں شتر بے محار ہو گئیں۔ سنا ہے ن لیگی جوکر نے بھی خاصی رقم دیکر بہت کچھ کہلوایا اور لکھوایا تھا۔ محترمہ نے ایک کتاب میں بہت کچھ بے ہودہ بکواس کی لیکن عمران خان نے بڑی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا انہوں نے مادرپدر آزاد عورت کے کسی الزام کا جواب نہیں دیا۔
اور اب تیسری بیوی یعنی بشریٰ بی بی کے حوالے سے پھولن دیوی بڑے انکشافات کررہی ہیں۔ دراصل انکی حکومت گئی ہے ہو سکتا ہے انکے عاملوں نے یہ ٹونے ٹوٹکے انہیں بتائے ہوں۔یعنی پتلیاں بنانا، سوئیاں چوبھونا، کالے اُلو کے خون سے تعویذ لکھنا، طوطا فال نکالنا سب عملیات پھولن دیوری نے آزمالئے اور اب یہ سب الزامات بشریٰ بی بی پر تھوپ رہی ہیں۔
پتہ نہیں خان کی ازدواجی زندگی سے لوگوں کو اتنی دلچسپی کیوںہے، اور لوگوں نے بھی کئی کئی شادیاں کررکھی ہیں۔ شہباز سے کوئی پوچھے کھر کی بیگم تہمینہ کو کیسے چھاپ لیا اور بہت سی کہانیاں ہیں جو پردہ ٔراز میں ہیں؟ حمزہ کی شادیاں یہ سب پوشیدہ ہے۔ اسی طرح زرداری صاحب کے معاشقے کبھی سامنے نہیں آئے۔
عاصمہ شیرازی اور پھولن دیوی کو عملیات کے بارے بہت کچھ ذاتی تجربہ ہے۔ اس لئے اگرکسی کو استفادہ کرنا ہو تو ان دوتین خواتین سے رجوع کرے۔ یعنی پھولن دیوی کی کنیز خاص وغیرہ سے۔