یہ اسٹیل مل مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلائی جائے گی!

131

کولوراڈو: امریکا میں ایک بڑی اسٹیل مل کو پہلی بار مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلانے کی تیاری کرلی گئی ہے جو اپنی 300 میگاواٹ بجلی کی تمام ضرورت وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے شمسی پینلوں سے پوری کرے گی۔

واضح رہے کہ فولاد سازی (اسٹیل مینوفیکچرنگ) کا شمار دنیا کی آلودہ ترین صنعتوں میں ہوتا، جس کی ایک اہم وجہ غیرمعمولی طور پر زیادہ مقدار میں بجلی کی ضرورت ہے۔

فولاد سازی سے وابستہ آلودگی کم سے کم کرنے کےلیے امریکی ریاست کولوراڈو میں ’ایوراز راکی ماؤنٹین اسٹیل فیکٹری‘ کو آئندہ ماہ سے مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس مقصد کےلیے ’بگ ہارن سولر پروجیکٹ‘ سے 300 میگاواٹ شمسی توانائی حاصل کی جائے گی جو اسٹیل مل کے قریب ہی واقع ہے۔

یہ 750,000 شمسی پینلوں پر مشتمل ایک سولر فارم ہے جو 1800 ایکڑ کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

اسے برٹش پٹرولیم اور لائٹ سورس نامی اداروں نے باہمی اشتراک سے تعمیر کیا ہے جبکہ اس پر 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (تقریباً 50 ارب پاکستانی روپے) لاگت آئی ہے۔

اس سولر فارم سے بجلی کی تمام پیداوار آئندہ ماہ سے اسٹیل مل کےلیے مختص کردی جائے گی جو ایک معاہدے کے تحت 2041 تک جاری رہے گی۔

اندازہ ہے کہ اتنی بڑی اسٹیل مل کی شمسی توانائی پر منتقلی کے نتیجے میں سالانہ 433,770 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا اخراج کم ہوگا۔

قدرے آسان الفاظ میں کہا جائے تو یہ کمی تقریباً اتنی ہوگی کہ جیسے پورے سال 92,100 کاریں نہ چلائی جائیں۔