چین کے مبینہ ہائپرسونک میزائل تجربے پر امریکا کو تشویش

162

واشنگٹن: امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ، جنرل مارک ملی نے چین کی جانب سے مبینہ ہائپرسونک میزائل تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے امریکا کےلیے قابلِ تشویش قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ چینی ہائپرسونک میزائل کے تجربے کی رپورٹ 16 اکتوبر کو امریکی اخبار فائنانشل ٹائمز نے دی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چین نے اگست کے مہینے میں ہائپرسونک (آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ تیز رفتار) میزائل کا تجربہ کیا ہے جسے نیوکلیائی ہتھیاروں سے لیس کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ اس مبینہ ہائپرسونک میزائل نے نچلے مدار میں رہتے ہوئے زمین کے گرد دو چکر لگائے اور پھر یہ اپنے ہدف کی طرف بڑھا، تاہم یہ مطلوبہ ہدف سے 30 کلومیٹر دور گرا۔

اگلے روز چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ جولائی میں کیا گیا تھا اور اس میں ہائپرسونک میزائل نہیں بلکہ بار بار استعمال کے قابل خلائی جہاز (ری یوزیبل اسپیس کرافٹ) کی آزمائشیں کی گئی تھیں۔

پنٹاگون نے فائنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا لیکن بعد ازاں 21 اکتوبر کو اعلان کیا کہ امریکی افواج نے بھی ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔

گزشتہ روز جنرل ملی بینڈ نے ہائپرسونک میزائل کے چینی تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’بہت ہی تشویشناک‘ قرار دیا۔

ہائپرسونک میزائلوں کو خطرناک ترین عسکری ٹیکنالوجی میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ صرف ایک سیکنڈ میں کم از کم دو کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔