چاند پر 2 ارب سال پہلے آتش فشانوں سے لاوا اُبل رہا تھا، تحقیق

184

واشنگٹن/ بیجنگ: سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ 2 ارب سال پہلے چاند پر آتش فشانوں سے لاوا اُبل کر اس کی سطح پر پھیل رہا تھا۔

یہ دریافت پچھلے سال دسمبر میں چینی خلائی مشن ’’چانگ ای 5‘‘ کے ذریعے چاند سے لائے گئے پتھروں اور مٹی کے تفصیلی تجزیئے سے ہوئی ہے جس نے چاند کی ابتداء اور ارتقاء سے متعلق ہمارے اب تک کے تصورات کو چیلنج کردیا ہے۔

’’چانگ ای 5‘‘ نے یہ نمونے چاند کے ایک ایسے مقام سے جمع کیے تھے جہاں اربوں سال پہلے آتش فشاں موجود تھے۔ یہ نمونے تقریباً دو کلوگرام وزنی ہیں جو چین کی ملکیت ہیں البتہ ان کا کچھ حصہ عالمی تحقیق کےلیے فراہم کردیا گیا تھا۔

بتاتے چلیں کہ ماہرینِ فلکیات اس بات پر متفق ہیں کہ آج سے تقریباً 4 ارب 50 کروڑ سال پہلے کوئی چھوٹا سیارہ ہماری زمین سے آ ٹکرایا تھا جو اُس وقت انتہائی گرم اور مکمل طور پر پگھلی ہوئی حالت میں تھی۔

اسی تصادم کے نتیجے میں پگھلی ہوئی زمین کا کچھ حصہ الگ ہوگیا اور زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے ٹھنڈا ہونے لگا۔ آج زمین کے اسی ٹکڑے کو ہم ’’چاند‘‘ کے طور پر جانتے ہیں۔

چونکہ زمین کے مقابلے میں چاند کی کمیت 81 گنا کم اور جسامت 4 گنا کم ہے، لہذا ماہرین کا خیال ہے کہ زمین سے الگ ہوتے ہی چاند بہت تیزی سے ٹھنڈا ہونے لگا۔

اگلے ایک ارب سال میں، یعنی آج سے تقریباً ساڑھے تین ارب سال پہلے، چاند اس قدر ٹھنڈا ہوچکا تھا کہ وہاں آتش فشانی عمل بھی مکمل طور پر رک گیا۔