طالبان اور امریکہ میں پہلے باضابطہ مذاکرات

198

افغانستان سےانخلاء کےبعدامریکہ اورطالبان کے درمیان پہلی مرتبہ دو روزہ مذاکرات کا سلسلہ قطرکےدارالحکومت دوحا میں شروع ہو گیا ہےامیر متقی نے کہا ہے کہ طالبان عالمی برادری سے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں تاہم کسی کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہو گی۔طالبان وفد نے افغان نگران وزیرخارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں امریکی وفد سے دوحا میں ملاقات کی۔ افغان وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کوافغان مرکزی بینک کےاثاثوں پرعائد پابندی ختم کرنے کا کہا ہے۔امریکہ افغانستان کو کورونا سے بچاوکی ویکسین فراہم کرے گا۔امریکی حکام کے مطابق اجلاس میں انھوں نے طالبان سے دہشتگرد گروہوں کو روکنے، امریکی شہریوں کے انخلا اور انسانی ہمدردی کی امداد جیسے موضوعات پر بات کی۔امریکہ نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کا مقصد قطعا انہیں تسلیم کرنا نہیں۔وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین نے سنہ 2020 میں طے ہونے والے دوحہ معاہدے کی پاسداری پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے مذاکرات سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس ملاقات میں ہم طالبان پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں سمیت تمام افغانوں کے حقوق کا احترام کریں اور وسیع حمایت کے ساتھ ایک جامع حکومت بنائیںانھوں نے کہا تھا کہ جیسا کہ افغانستان کو شدید معاشی بدحالی اور ممکنہ انسانی بحران کا سامنا ہے، ہم طالبان پر بھی دباؤ ڈالیں گے کہ وہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کو ضرورت مند علاقوں تک آزادانہ رسائی دیں۔