چین اور تائیوان میں کشیدگی سے خطے کا امن خطرے میں پڑگیا

305

بیجنگ: چین اور تائیوان کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ تائیوان کی سرحد کے نزدیک چین کی فوجی نقل و حرکت، جنگی طیاروں کی پروازیں اور بحری مشقوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔چین کے صدر شی چن پنگ نے ایک بار پھر تائیوان کے انضمام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ تھا اور جلد پُر امن طریقے سے دوبارہ چین میں شامل ہوجائے گا۔ اس حقیقت کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔تائیوان نے چین کے صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جزیرے کی قسمت کا فیصلہ کوئی اور نہیں بلکہ وہاں رہنے والے عوام کریں گے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ تائیوان کو چین اپنا حصہ سمجھتا ہے جب کہ تائیوان خود کو آزاد ریاست تصور کرتا ہے جس پر دونوں کے درمیان کشیدگی اور تنازع کئی برسوں سے چلا آرہا ہے لیکن حال ہی میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔خطے کے امور نے ماہرین نے کہا کہ چین اور تائیوان کی کشیدگی سے خطے کا امن خطرے میں ہیں تاہم یہ خوش آئند بات ہے کہ دونوں ممالک نے مسئلے کے پُر امن حل پر زور دیا ہے۔