مذاکرات!!

228

تین سال کے دوران عمران نے پاکستانی میڈیا کو کچھ انٹرویو دئیے مگر غیر ملکی میڈیا کو کوئی انٹرویو نہیں دیا گزشتہ برس جب وہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں گئے تھے اس وقت بھی امریکی میڈیا پر کوئی انٹرویو نہیں دیا گیا، تین سال مکمل ہوجانے کے بعد عمران نے یکے بعد دیگرے کئی غیر ملکی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دئیے اور واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون بھی لکھا، یہ سب عین اس وقت ممکن ہوا جب امریکہ نے افغانستان سے انخلاء کا اعلان کر دیا، گو کہ امریکہ افغانستان چھوڑنے کا اعلان دس سال پہلے کر چکا تھا، CNNکو انٹرویو دیتے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ افغانستان سے انخلا کے بعد اگر ضرورت پڑی تو کیا پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کر سکتا ہے، تو عمران نے بلا جھجک کہا تھا ’’ABSOLUTELY NOT‘‘پاکستان میں اس جواب کو بہت پذیرائی ملی گو کہ یہ بات کسی لحاظ سے DIPLOMATIC ASSERTIONکے متعین اصولوں پر پوری نہیں اترتی، ڈپلومیسی میں ایک دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا جاتا ہے ، ایک دوسرے انٹرویو میں عمران نے پاکستان میں ریپ کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بارے میں یہ عذر تراشا کہ پاکستان میں خواتین کم کپڑے پہنتی ہیں چھوڑے کپڑے پہنتی ہیں تو مرد روبوٹ تو ہیں نہیں وہ اپنے آپ پر قابو نہیں پا سکتے اور ریپ ہوتے ہیں مگر افسوس کہ عمران نے ملک میں کم سن بچیوں کے ریپ کو بھی اس زمرے میں ڈال دیا، مدارس میں ہونے والی اغلام بازی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا، گویا یہ معمول کی بات ہو پاکستان کے قبائلی علاقے میں یہ معمول کی بات ہے، مگر ملک کے کسی اور حصے میں اس قسم کی واردات ہو گی تو عوام میں خوف و ہراس اور اشتعال پھیلے گا، عمران نے اس بات پر نہیں سوچا سوچتے بھی کیوں دینی حلقوں اور مدارس کی خوشنودی مقدم تھی، سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث آرہی ہے کہ عمران تین سال کے بعد غیر ملکی چینلز کو انٹرویو دینے کیوں نکل پڑے اچانک، اور یہ بات اخذ کی جارہی ہے کہ تین سال کے بعد فوج عمران کا ذہن پڑھنا چاہتی ہے اور شائد یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ فوج عمران کے ساتھ کس حد تک COLLABORATEکر سکتی ہے اور شائد یہ بھی فوج کو اپنی پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔
مگر ٹھہریے عمران کے ایک اور انٹرویو کا ذکر باقی ہے یہ انٹرویو عمران نے ٹرکش چینل کو دیا اس انٹرویو میں جب موڈریٹر نے TTPکے بارے میں پوچھا تو عمران نے کہا کہ وہ TTPکے مختلف دھڑوں سے بات کررہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو پاکستان میں عام لوگوں کی طرح رہ سکتے ہیں اور ان کو معاف کر دیا جائے گا۔ اس انٹرویو کے دوران موڈریٹر عمران کی بات پر اچھل اچھل پڑا اور اس نے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ شائد عمران سے اس گفتگو کی توقع نہیں کررہا تھا عمران نے بتایا کہ بات چیت افغانستان میں ہورہی ہے اور طالبان پاکستان کی مدد کررہے ہیں اسی انٹرویو میں عمران نے کہا کہ امریکہ کو طالبان کو تسلیم کرنا ہو گا، TTPکو معاف کرنے کی بات اس سے قبل عارف علوی اور شاہ محمود قریشی کر چکے تھے اور اس کے جواب میں طالبان کے ایک کمانڈر نے کہا تھا کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے بلکہ معافی تو ہم دیں گے مگر اس سے قبل جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تھا اور پریس کانفرنس کے دوران ذبیح اللہ مجاہد سے TTPکے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں TTP جانے پاکستان جانے، اسی دوران پاکستان نے کئی کارروائیاں کیں اور سات ایف سی کے جوان مارے گئے، اس سے قبل کے واقعات خون رلانے والے ہیں یہی TTP تھی جس نے سکول پر حملہ کر کے 120بچوں کو گولیاں ماری تھیں فوج کے سترہ جوان جو انہوں نے قید کر لئے تھے ان کو ذبح کر کے ان کے سروں سے فٹبال کھیلی تھی TTP کے کمانڈر احسان اللہ احسان کو گرفتارکر لیا گیا تھا مگر وہ فوج کی قید سے بھاگ نکلا، ISPRکے جنرل افتخار بابر سے ایک بریفنگ کے دوران جب سوال ہوا تو بابر نے سر جھکا کر جواب دیا کہ ہم اس کو ایک آپریشن میں استعمال کررہے تھے وہ وہاں سے بھاگ نکلا، مجھے نہیں معلوم کہ عمران TTPکو معاف کر کے کیا فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے کم از کم دو عشروں سے بندوق اٹھا رکھی ہو اور پاکستانی فوج کی ناک میں دم کررکھا ہو وہ معافی مانگ لینگے اور امن پسند شہری کے طور پر محنت مزدوری کر کے زندگی گزریں گے یہی وہ گروہ تھا جس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ امریکہ کرتا رہا تھا اور ایک وقت آیا کہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا، نواز شریف نے بھی اس سے بات چیت کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں عمران کو بھی شامل کیا گیا تھا مگر پراسرار طور پر عمران نے انکار کر دیا تھا اور یہ کہا جانے لگا کہ عمران نے فوج کے اشارے پر انکارکردیا ترتھا۔
کہا جارہا ہے کہ پاک فوج TTP سے خوف زدہ ہے حالانکہ جب نواز شریف نے اس تنظیم سے بات چیت کے لئے کمیٹی بنائی تھی تو جنرل کیانی نے کہا تھا کہ بات چیت نہ کی جائے فوج ان کو ٹھکانے لگادے گی مگر نواز شریف نہ مانے، اس تنظیم نے فوج کے خلاف جو کامیاب کارروائیاں کی ہیں اس سے ان کے حوصلے بلند ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اگر بات چیت ہوئی تو TTP اپنی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جائیگی اس کے بعد وہ پاکستان میں کیا کردار ادا کرتی ہے یہ بات سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق یہ کہا جارہا ہے کہ عمران اور TTP کے درمیان مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں وہ انٹرویو کے دوران عالمی ردعمل جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کتنا شدید ہو سکتا ہے، برطانیہ یورپی یونین اور امریکہ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے امریکہ کی سینیٹ نے افغانستان کے مسئلے پر جنرلز سے سات گھنٹے بریفنگ لی، اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان کی ناکامی کی وجہ افغانستان ہے پاکستان نے طالبان کی مدد کی ان کی فوجی ٹریننگ کی اور ہر طرح کی سہولت فراہم کی اس بریفنگ کے بعد سینیٹ کے بائیس ری پبلکن ممبران نے ایک قرارداد جمع کرادی اور اس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان پر پابندیاں لگادی جائیں، عمران کو ڈپلومیسی کی زبان کبھی سمجھ نہیں آتی حالانکہ بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ ہم افغانستان سے نکل آئے ہیں مگر واپسی ہو سکتی ہے گو کہ طاقت آخری آپشن ہوتا ہے وائٹ ہائوس کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ ہمارے افغانستان میں اتنے مفادات ہیں جتنے چین اور روس کے ہیں عمران کو یہ بات ہی سمجھ نہیں آرہی کہ شروع شروع میں چین اور روس گرم جوشی دکھا کر پیچھے کیوں ہٹ گئے اور طالبان کے سامنے اپنے مطالبات کیوں رکھ دئیے، عمران سے ہی DICTATIONلیتے ہیں تو فوج کی کیا پالیسی ہے، فوج نے وضاحت نہیں کی مگر لگتا ہے کہ پاکستان پر SANCTIOSلگ سکتی ہیں فوج سمجھتی ہے کہ یورپ، برطانیہ اور امریکہ کو لات مار کر وسطی ایشیاء سے روابط بنا کر پاکستان surviveکر جائے تو یہ غلط فہمی ہے TTP سے مذاکرات اور طالبان کی حمایت ہم کو مہنگی پڑے گی یہ صورت اس قدر COMPLEXہے کہ پھر ذہن اس طرف مبذول ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ عالمی ایجنڈا ہے جس پر عمل ہورہا ہے۔