پینڈورا باکس کھل گیا، 700پاکستانی برآمد، کیا عمران ان کا احتساب کر پائیں گے

226

آخر کار پینڈورا لیکس منظر عام پر آگئیں ایک رپورٹ کے مطابق 600سے زیادہ صحافیوں نے اس پر مختلف ملکوں میں کام کیا تیسری دنیا کے اکثر حکمرانوں کے اس میں نام ہیں۔ اگر آپ کرپشن کی دولت کا حساب لگائیں تو وہ کھربوں ڈالر میں جا کر بنتی ہے پانامہ لیک کے بعد ساری دنیا بہت ہوشیار ہو گئی تھی اور نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگی تھی کہ اس لوٹی ہوئی دولت کو کیسے اور کہاں ٹھکانے لگایا جائے لیکن اتنی دولت لوٹی گئی ہے اور لوٹی جارہی ہے کہ وہ اسکو کہاں چھپائے۔ دوسرے دولت چوری کرنے والوں کو یہ ڈر بھی نہیں ہے کہ کوئی ان سے یہ دولت چھین سکتا ہے صرف بدنامی کا ڈر ہے تو اس کی پرواہ کون کرتا ہے دولت تو محفوظ ہے اگر آپ مانامہ پیپرز کے ناموں کو دیکھیں تو دنیا میں کتنے لوگوں کو سزا ہوئی یا ان کی دولت کو کسی عدالت یا کورٹ نے چھین لیا۔ جواب ہے Nillنِل بٹا نِل۔ سب سے بڑا نام پانامہ میں روسی صدر پیوٹن کا تھا کیا ہوا اس کو کچھ نہیں عمران خان کے شور مچانے پر صرف نواز شریف پھنس گیا سزا اس کوپھر بھی پانامہ میں نہیں ہوئی بلکہ اقامہ رکھنے اور آمدن چھپانے پر ہوئی۔تبھی نواز شریف روتا ہے اور نعرے مارتا ہے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘
اگر آپ غور سے اس سلسلے کو دیکھیں تو دنیا کی ایجنسیاں اور صحافی اپنی کوششیں کررہے ہیں کہ کرپٹ طبقے کو بے نقاب کیا جائے تاکہ دوسروں کو اس سے ڈر لگے اور یہ کرپشن بند ہو لیکن اس کا نتیجہ اس طرح برآمد نہیں ہورہا بلکہ لوگ اب زیادہ ہوشیاری دکھانے لگے ہیں بجائے بینک میں رکھنے کے ساری دولت پراپرٹی اور گولڈ میں انویسٹ ہورہی ہے جسکا حساب چیک کرنا حکومتوں اور اداروں کیلئے مشکل کام ہے سونا کسی بینک اکائونٹ میں نہیں رکھا جاتا یا تو وہ لاکر میں رکھا جاتا ہے یا گھر کی تجوری میں لیکن جن لوگوں کی پرانی آف شور کمپنیاں موجود ہیں وہ اس کو کیسے ختم کر سکتے ہیں یا دولت نکال کر کہاں لے جائیں گے۔
اس رپورٹ آنے کے بعد عمران خان نے فوراً ٹوئٹ کیا کہ ان لوگوں کے خلاف انکوائری کی جائے گی اور حساب لیا جائیگا۔ ن لیگ کی ترجمان نے عمران خان پر الزام لگایا کہ وہ خود انکوائری کر کے اپنے وزیروں کو بچا لیں گے اور کسی کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے بقول احسن اقبال یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی سب بچ جائیں گے جیسے پنانامہ رپورٹ آنے کے بعد کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی شیخ رشید نے پینڈورا رپورٹ کی اہمیت کم کرنے کیلئے اس کو ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ سے تشبیہ دی کہا جارہا ہے کہ وزیروں کو بچانے کیلئے یہ سب کیا جارہا ہے اس لسٹ میں پی ٹی آئی کے اہم وزراء فیصل واوڈا، علیم خان، خسرو بختیار، وزیر خزانہ شوکت ترین سمیت بہت سے ممبر شامل ہیں پہلے عمران خان کی کسی آف شور کمپنی کا نام لیاجارہا تھا بعد میں وضاحت آئی اس کے جواب میں پی ٹی آئی نے جنید صفدر کی آف شور کمپنیوں کا شور مچا دیا جو بعد میں وہ بھی غلط خبر نکلی، یہ سیاسی کھیل اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ پاکستان قوم بھی ان خبروں کو اتنا سیریس نہیں لیتی ان کے اپنے اپنے مسائل ہیں کہ ان کو لوٹی ہوئی دولت کی پرواہ نہیں ان کو پتہ ہے ان کی قسمت میں لٹنا ہی ہے اور وہ لٹتے رہیں گے غربت کی چکی میں پستے رہیں گے عمران خان کیلئے بہت بڑا امتحان ہے جتنی باتیں انہوں نے نواز شریف کے خلاف کیں اور جتنی تقریریں انہوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر کرپشن کے خلاف کیں وہ سب ریکارڈ پر موجود ہیں اور ٹی وی چینلز اکثر اس کو ٹی وی پر چلاتے رہتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان اپنے وعدوں اور باتوں کو یاد رکھیں گے اور احتساب کریں گے یا احتساب کر پائیں گے وہ بہت مشکل نظر آرہا ہے وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے اب چند ماہ ہی ان کی حکومت کے باقی رہ گئے ہیں پھر الیکشن کا شور اور ہنگامہ شروع ہو جائے گا نئے گروپ بنیں گے، نئے نعرے لگیں گے۔ احتساب کا زور ٹوٹ جائیگا سب فائلوں کی نذر ہو جائیگا آگے کس کی حکومت آئے گی کوئی نہیں جانتا۔ آنیوالی حکومت کیا احتساب کریگی یہ بہت مشکل سوال ہے۔ اس کا جواب اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔