ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا۔۔۔۔!!

231

صحافیوں کا ایک قبیلہ ہے جس کا نام ہے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنسلسٹس جسمیں دنیا بھر کے کئی سو ایسے صحافی شامل ہیں جنہیں ایسی خبروں اور معاملات کا سراغ لگانے کی خاص مہارت ہے جو عام طور سے منظرِ عام پر نہیں آتے۔ اس تنظیم میں پاکستان کے بھی چند ایک صحافی شامل ہیں۔ اس تنظیم کو دنیا بھر میں اس کے نام کے مخفف، یعنی آئی سی آئی جے، سے پہچانا جاتا ہے۔
اس آئی سی آئی جے نے چند برس پہلے وہ دھماکہ خیز انکشافات کئے تھے اور ایسے رازوں سے پردے اٹھائے تھے جنہوں نے پوری دنیا میں تہلکہ مچادیا تھا۔ وہ انکشافات آج بھی پناما پیپرز کے عنوان سے یاد کئے جاتے ہیں۔ ہمارے پاکستان میں ان پناما پیپرز کا سب سے زیادہ لاوا، یا آتش گیر مادہ، اس دور کے تین بار منتخب ہونے والے وزیر اعظم، میاں نواز شریف پر گرا تھا کیونکہ پناما پیپرز کے مطابق وہ اور ان کے خاندان کے تمام افراد، جن میں ان کی اولاد پیش پیش تھی، ناجائز کاروبار میں ملوث تھے۔ پاکستان سے لوٹی ہوئی اربوں کھربوں روپے کی دولت ان مگر مچھوں اور مہاشوں نے آف شور، یعنی بے نامی کمپنیوں کے عنوان سے وہاں رکھائی ہوئی تھی جہاں ایسی لوٹ کھسوٹ سے بنائے ہوئے مال کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا جاتا اور ٹیکس کی چوری الگ ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ نواز شریف اور ایسی ہی چور خصلت کے بدعنوانوں کیلئے ایسی آف شور کمپنیاں نعمت ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ان انکشافات سے جو زلزلہ آیا تھا وہ آخرِ کار میاں صاحب کی وزارتِ عظمٰی کو لے ڈوبا اور وہ پاکستان پر حکومت کرنے کیلئے تا حیات نا اہل ٹہرائے گئے۔
اب اسی آئی سی آئی جے کی تحقیقاتی تنظیم نے اتوار، 3 اکتوبر کو پنڈوارا پیپرز کے عنوان سے ایک اور بڑا دھماکہ کیا ہے جس کی باز گشت پناما پیپرز کی طرح دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے اور ایک عالم میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ایک کڑوڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ ایسی فائلیں منظرِ عام پر لائی گئی ہیں جن میں دنیا کے چند معروف سربراہانِ مملکت کے نام بدعنوانی کے حوالے سے الم نشرح کئے گئے ہیں۔ ان مشاہیر میں اردن کے فرمانروا، شاہ عبداللہ ہیں، روس کے مطلق العنان صدر پیوتن ہیں اور ہاں اور مشاہیر کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلئیر بھی ہیں۔ یہ وہی ٹونی بلئیر ہیں جنہوں نے اس وقت کے امریکی صدر، جارج ڈبلیو بش کے ساتھ ساز باز کرکے 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا، اس بہانے سے کہ عراق کے صدر صدام حسین دنیا کو تباہ کرنے والے مہلک ہتھیار بنا رہے تھے جبکہ ایسے ہتھیاروں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ٹونی بلئیر کو اس کے بعد برطانیہ اور امن کے حامی ممالک میں ٹونی بی۔لائر یا ٹونی کاذب کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ایک ایسے ملک پر جارحیت کیلئے میدان صاف کرنے کو جس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں تھا ایسا سفاک جھوٹ بول سکتا ہے اور طاقت کے نشہ سے مغلوب جارج ڈبلیو بش کو، جن کے متعلق ویسے ہی مشہور تھا کہ ان کا عقل و دانش کا خانہ بہت خالی تھا، ورغلا سکتا ہے اور اس حوالے سے لاکھوں معصوم عراقی باشندوں کی بلا جواز ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے وہ کس پست کردار کا مالک ہوگا۔
یہاں قارئین کیلئے یہ وضاحت شاید دلچسپی کا باعث ہو کہ پنڈورا یونانی دیومالائی داستانوں میں ایک ایسے کردار کا نام ہے جو ایک لڑکی تھی جس کے پاس ایک ایسا صندوق تھا جسمیں بیشمار چڑیلیں بند تھیں لہذا اس صندوق کا ڈھکنا ہمیشہ بہت مضبوطی سے بند رکھا جاتا تھا کہ کہیں اس سے چڑیلیں نکل کے دنیا بھر میں تباہی نہ مچادیں۔ لہذا ہماری موجودہ عالمی تہذیب میں ہر ایسے واقعہ کہ جس کے نتیجہ میں تہلکہ خیز انکشافات ہوجائیں کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں نے پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ سو اب پناما پیپرز کے انکشافات کے بعد یہ تازہ ترین پنڈورا پیپرز اسی قبیل کے انکشافات ہیں جن میں طاقتور اور بااثر افراد کی بدعنوانیوں کے راز ہائے سربستہ کھولے گئے ہیں اور یہ تو عین فطری بات ہے کہ جب اس طرح کے سنسنی خیز حقائق سے پردہ اٹھتا ہے تو دنیا میں تہلکہ نہ مچے تو اور کیا ہو؟
ہم پاکستان میں بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی کسی سے کسی معاملے میں پیچھے نہیں رہتے تو پھر بدعنوانی کے اس غلیظ کھیل میں اور کالے کرتوتوں کے کارناموں میں ہمارے پاکستانی کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔ پنڈورا پیپرز کے انکشافات کے مطابق کم از کم سات سو پاکستانی اس سیاہ فہرست میں شامل ہیں جس پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور ان سات سو میں ہمارے بہت سے مقتدر سیاستداں شامل ہیں، حکومتی وزرا ء ہیں، عمران کے قریبی ساتھی ہیں اور ہماری عسکری قیادت کے مشاہیر کے نام بھی اس فہرست میں آتے ہیں۔
ہمارے موجودہ وزیرِ خزانہ، شوکت ترین صاحب کا نامِ نامی اس فہرست میں ہے، عمران خان کے دستِ راست علیم خان بھی ہیں اور ٹیلی وژن پر آکر بہت بولنے اور بھاشن دینے والے فیصل واوڈا بھی ہیں۔ عمران کابینہ کے ایک اور وزیر خسرو بختیار کے سگے بھائی کا نام بھی اس سیاہ فہرست میں نمایاں ہے اور ایک اور مقتدر سیاستداں، نادر پرویز بھی ہیں جو سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے فوج میں کرنل ہوا کرتے تھے۔ اس فہرست میں گجرات کے معروف چوہدری برادران کے سپوت مؤنس الٰہی بھی ہیں اور ڈکیت زرداری کا گماشتہ شرجیل میمن بھی ہے جس کے گھر سے تین چار برس پہلے اربوں روپے کی نقدی اور زیورات پکڑے گئے تھے جس کے بعد وہ پکڑا گیا تھا لیکن زرداری کے کسی چیلے پر عدالت کی آنچ کیسے آسکتی ہے سو یہ ڈاکو شرجیل میمن بھی سزا کے بغیر چھٹ گیا اور آج بھی انصاف اور عدل کو منہ چڑا رہا ہے۔ اس رسوا فہرست میں مفرور سابق وزیرِ خزانہ إسحاق ڈار کے بیٹوں کے نام بھی ہیں اور کیوں نہ ہوتے کہ پتا پر پوت اور نسل پر گھوڑا تو پرانی اور سچ کہاوت ہے۔
ہماری عسکری قیادت کو یہ زعم ہے کہ اس کے افراد سیاستدانوں اور دوسرے عام پاکستانیوں کی مانند بد دیانت نہیں ہوتے اور ان کی حب الوطنی کا جذبہ انہیں غلط کام کرنے سے باز رکھتا ہے لیکن ان پنڈوارا پیپرز نے بہت سے وردی پوشوں کے چہرے بھی بے نقاب کردئے ہیں جن سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ پیسے کی لالچ اور ہوس میں وردی والے بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔
وردی والوں کی فہرست میں ایک انکشاف بہت دلچسپ ہے اور وہ اس پر تعیش فلیٹ کے متعلق ہے جو جنرل پرویز مشرف کے ایک ماتحت اور معتمد جنرل، جو تین ستاروں والے لفٹیننٹ جنرل شفاعت اللہ شاہ کے نام نامی سے جانے جاتے ہیں کی بیگم کے نام لندن میں منتقل ہوا تھا۔ اس پرتعیش فلیٹ کی قیمت بس یہی معمولی سی بارہ لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔ فلیٹ جنرل شفاعت اللہ کی بیگم کے نام کس طرح منتقل ہوا اس کی کہانی بہت ہی کشش رکھنے والی ہے جس کے مطابق یہ فلیٹ ہندوستاں کے مشہور و معروف فلمساز، فلم مغل اعظم جیسی شاہکار فلم کے خالق اور پروڈیوسر کے آصف کے فرزند اکبر آصف کا تھا۔ اکبر آصف یہ چاہتے تھے کہ ان کے والد کی شاہکار فلم مغل اعظم پاکستان کے سنیما گھروں کی بھی زینت بنے لیکن ان دنوں، پرویز مشرف کے دور حاکمیت میں، ہندوستانی فلموں کے پاکستان میں دکھائے جانے پر پابندی تھی۔ اتفاق سے لندن کے ڈور چسٹر ہوٹل میں ان کی ملاقات جنرل شفاعت سے ہوئی جو اس وقت پرویز مشرف کے ساتھ لندن کے دورے پر تھے۔ اکبر آصف نے ان سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ جس کے کچھ عرصے بعد اکبر آصف کو فلم مغل اعظم پاکستان میں ریلیز کرنے کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی گئی اور اس سے اگلے برس ان کا فلیٹ جنرل شفاعت کی بیگم کے نام منتقل ہوگیا۔ دیکھا آپ نے کیسا نقد سودا ہوا۔ لیکن جنرل شفاعت نے اس کیلئے ایک کہانی بنائی اور وہ یہ کہ اکبر آصف نے اصل میں ڈورچسٹر ہوٹل کے ہیئر کٹنگ سیلون میں کام کرنے والے ایک حجام سے اپنا دکھڑا رو رہا تھا۔ اتفاق تھا کہ بیگم مشرف اس حجام کے پاس اپنے بالوں کی درستگی کیلئے گئیں اس حجام نے اکبر آصف کی مشکل بیگم مشرف سے بیان کی اور یوں بیگم صاحب کی سفارش پر پرویز مشرف نے مغل اعظم کی نمائش کیلئے خصوصی اجازت نامہ مرحمت فرمایا۔ جنرل شفاعت کو اس پر ذرا بھی شرمندگی نہیں کہ اتنا مہنگا فلیٹ لندن میں انہوں نے اپنے جائز وسائل سے کیسے خرید لیا۔ انہوں نے تو بہت اطمینان سے یہ فرمایا کہ چونکہ ان کے نام سے پاکستان میں اور کئی جائیدادیں تھیں لہذا اپنی بیگم کے نام سے لندن میں فلیٹ لینا ایک طرح ان کی مجبوری تھی۔کسی قوم کے اخلاقی زوال کی اس سے بدتر مثال اور ممکن نہیں !!!!