عمرشریف ادب کے میدان میں!

175

زندگی بدل رہی ہے تیز تیز اور جب سے انٹرنیٹ آیا ہے یہ جیسے دوڑنے لگی ہے، لگتا ہے پہلے ہماری زندگی 3Gتھی تو اب 5Gہو گئی ہے۔ لوگوں کے خیال میں انٹرنیٹ آنے سے کئی برائیاں بھی آئی ہیں لیکن برائیوں کو ہٹا کر دیکھا جائے تو کئی فائدے بھی ہوئے ہیں۔ ایک فائدہ تو یہ کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہم اپنے ان دوستوں اور رشتے داروں سے جڑ گئے ہیں جو بہت فاصلے پر ہیں اور جن سے کافی مدت تک ملاقات نہیں ہوتی تھی، دوسرے انٹرنیٹ کی وجہ سے کئی نئے سٹارز ملے جیسے عاطف اسلم، جسٹس بائبر وغیرہ اور وہ صرف اس لئے اس تیزی سے مشہور ہوئے کہ پبلک نے ان کے گانے دیکھے اور پسند کئے اور اسی بنیاد پر انہیں بڑی بڑی میوزک کمپنیوں نے بریک دیا۔ پچھلے دس سالوں میں نیا ٹرینڈ نکلا اور انڈیا میں ہزاروں کی تعداد میں اسٹیڈ اپ کامیڈین یوٹیوب کی وجہ سے سٹارز بن گئے، ویڈیوز وائرل ہوتے ہی بڑی بڑی پی آر کمپنیاں ان کامیڈین کو آگے بڑھانے لگیں۔ اس طرح وہ راتوں رات سٹار بن جاتے ہیں۔ دس سال قبل اس فیلڈ میں معدودے چند نام ہی تھے جیسے پیٹررسل نے بہت نام کمایا تھا لیکن اب تو بڑی تعداد میں یہ سامنے آرہے ہیں انڈیا کے کامیڈین ذاکر خان بھی انہی میں شمار ہوتے ہیں۔
اس سپیڈ(Speed)سے کہیں تیز، چالیس سال پہلے ایک لڑکا تھا جو یہ سب کر گیا جو آج کے لڑکے انٹرنیٹ اور دوسری سہولتوں کے باوجود نہیں کر پاتے، ماں باپ نے نام محمد عمر رکھا جسے ’’عمر شریف‘‘ بن کر دنیا بھر میں چمکنا تھا۔ سٹیج کیلئے اس نے اپنا یہی نام رکھا اور محض چودہ سال کی عمر میں سٹیج پر کام کرنا شروع کر دیا۔ کچھ لوگ بہت اچھا پرفارم کرتے ہیں مشہور بھی ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ پیدائشی ’’اسٹار‘‘ ہوتے ہیں اور یہ انعام انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔ عمر شریف بھی انہی خوش نصیبوں میں سے ہیں جس کو قدرت نے ٹیلنٹ کے ساتھ پیدا کیا۔ پاکستان میں کامیڈی ہوتی تھی لیکن عمر شریف نے اس کے نئے انداز متعارف کروائے۔ انہوں نے اپنا کیریئر کا آغاز مشہو ڈائریکٹر فرقان حیدر رضوی کے ساتھ کیا اور اگلے کئی سال تک ایسے ایسے سٹیج ڈرامے کیے جنہوں نے شہرت کے ریکارڈ قائم کیے۔
کراچی میں لوگ اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کم کم ہی جاتے تھے سینما میں موویز لگتی تھیں وہ لوگ دیکھنے جاتے تھے پھر ساٹھ کی دہائی کے آخیر میں پاکستان میں ٹیلی ویژن آگیا تو فلم اور اسٹیج کی ویور شپ میں کمی آگئی ایسے میں فرقان حیدر رضوی نے جب عمر شریف کے ساتھ اسٹیج ڈرامے شروع کیے تو لوگوں کی دلچسپی تھیٹر کی جانب ہو گئی اسی لئے آج بھی فرقان حیدر رضوی کو ’’بابائے اسٹیج ‘‘ کہتے ہیں۔
عمر شریف کی کامیڈی اور timingبالکل مختلف تھی ان کی طرح پرفارمنس کوئی نہیں کرتا، ان کا اپنا منفرد سٹائل تھا جس کے لوگ دیوانے تھے، جس زمانے میں فلم کا ٹکٹ بیس روپے تھا، اس زمانے میں عمر شریف کے شو کا ٹکٹ دو سو روپے میں بکتا تھا اور پھر وہ وقت آیا کہ عمر شریف کی شہرت اور پسندیدگی دنیا بھر میں پھیل گئی، جہاں جہاں اُردو بولی جاتی تھی سمجھی جاتی تھی عمر شریف کے نام کا ڈنکا بجنے لگا اور وہ Living Legendبن گئے۔ وہ وقت جب ان کے ڈرامے VHSپر ریلیز کیے جانے لگے۔ اس زمانے میں ہمارے والد انڈیا کے شہر ممبئی میں ایک کانفرنس میں شرکت کرنے گئے تو وہاں وہ لوگ جو خود بھی بہت نامور اور مقبول تھے کراچی کا نام سن کر بڑے تجسس سے پوچھتے ’’آپ عمر شریف جی کے شہر سے آئے ہیں‘‘؟
دنیا بھر میں عمر شریف پاکستان کی پہچان بن گئے جو کام انڈیا کی کروڑوں روپے کے سرمایے سے بنائی فلمیں نہیں کر پائیں وہ عمر شریف تیس فٹ کے اسٹیج پر پرفارم کر کے دکھا دیتے۔ ان کے ڈراموں کے کیسٹوں کیلئے لائنیں لگتیں۔
عمر شریف جیسے اسٹار جن سے انڈین فلم انڈسٹری کے ہیروز اکشے کمار، گوندا، عامر خان پیروں میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ ہم سوچ رہے تھے کہ اب وہ عام زندگی میں کس طرح کا رویہ رکھتے ہوں گے؟؟ ہماری خوش قسمتی کہ فرقان حیدر رضوی نے عمر شریف کو ان کی ٹیم کے ساتھ ڈیلاس (ٹیکساس) مدعو کیا۔ ہماری والدہ نیلوفرعباسی نے اس پوری ٹیم کو ایک دن کھانے پر مدعو کیا اور پھر ہم نے اپنے گھر میں اس لیجنڈ کو نہایت قریب سے دیکھا بات کی اور اندازہ ہوا کہ اتنی شہرت اور پسندیدگی ان کے دماغ پر نہیں چڑھی۔ اتنا بڑا اسٹار اتنا منسکرالمزاج اور ڈائون ٹوارتھ کہ یقین کرنا مشکل ہے، وہ ہر ٹاپک پر بات کر لیتے تھے، ان کی ریسرچ اور علم قابل رشک تھا۔ وہ ایک اچھے رائٹر اور شاعر کے طور پر بھی جانے گئے ۔ اپنے بیشتر ڈراموںکے سکرپٹ ان کے اپنے تھے اور فلموں کے نغمے بھی انہوںنے خود لکھے۔
عمر شریف کو بیشتر لوگوں نے ایک کامیڈین ENTERTAINERکے طور پر لیا۔ ان کی شاعری اور تحریروں پر توجہ نہیں دی گئی۔ جب وہ ہمارے یہاں تشریف لائے تو بتایا تھا کہ بہت جلد ان کا دیوان منظر عام پر آنے والا ہے اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں بھی اس کی رونمائی کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے کلام کے نمونے بھی پیش کیے جو بہت خوب تھے۔ حاضرین محفل نے جی کھول کر انہیں داددی ۔عمر شریف ہر وہ کام کررہے تھے جو اللہ تعالیٰ کے اچھے بندوں کو کرنا چاہیے۔ غریبوں کی مدد، ہسپتالوں میں بیماروں کا مفت علاج، نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور سب سے بڑھ کر کہ لوگوں میں قہقہے اور خوشیاں بانٹنا دکھی دلوں پر مرہم رکھنا۔
انٹرنیٹ کی اس تیز رفتار دنیا میں سب تیزی سے بدل رہا ہے۔ ہم فیس بک، یوٹیوب پر بھی کوئی ویڈیو چند منٹ سے زیادہ نہیں دیکھتے اور دیکھنے کے بعد بیس منٹ آدھے گھنٹے میں بھول جاتے ہیں اور پھر وہ jokeیا بات پرانی ہو جاتی ہے لیکن پچھلے چالیس برسوں میں عمر شریف ہمیشہ نئے تروتازہ رہے، ان کی باتیں، بذلہ سنجی، حاضر جوابی ،فنکاری ویسی ہی پسندیدہ اور شہرت رکھتی تھی جیسے کہ روز ازل جب کوئی انسان اس دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو وہ نقصان اس کے خاندان کا قریبی رشتوں کا ہوتا ہے وہ اس کیلئے دکھ کرتے ہیں مگر کچھ ایسے لوگ ایسی شخصیات ہوتی ہیں کہ ایک زمانہ ان کیلئے غمگین اور افسردہ ہوتا ہے۔ عمر شریف بھی ایسی ہی شخصیت تھے جو یکم اکتوبر 2021ء کو ہمیشہ کیلئے رخصت ہوئے تو ہر دل ان کیلئے بوجھل تھا ہر آنکھ پرنم تھی کیا ملک کے صدراور وزیراعظم ،وزیر سفیر اور کیا ایک عام شخص ہر ایک کو یہی محسوس ہوا کہ اسکا انتہائی قریبی عزیز چلا گیا۔ عمر شریف اس فانی دنیا سے تو چلے گئے لیکن وہ لوگوں کے ذہن و دل سے کبھی محو نہیں ہوں گے کیونکہ عمر شریف روز روز نہیں صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ایک ہی تھے!!